پاکستان میں شہری ابھی سے سموگ سے پریشان،'لاہور تم میری جان لے رہے ہو'

سموگ تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

پاکستان کے گذشتہ چند برسوں کی طرح اس بار بھی مختلف علاقوں کو موسم سرما کے آغاز پر ہی سموگ یعنی گرد آلود دھند کا سامنا ہے۔

سموگ کے باعث جہاں ایک طرف شہریوں کو بیماریوں کی صورت میں مشکلات کا سامنا ہے تو وہیں ماحولیاتی تبدیلیوں پر حکومت کی عدم توجہ موضوع بحث بنی ہوئی ہے۔

’انتہائی خشک موسم میں زہریلے ذرات تحلیل نہیں ہو سکے‘

سموگ: ’انڈیا سے ہوا چلنا بند لیکن حکومت نے کیا کیا ہے؟ ‘

آنکھوں میں جلن، سینے میں طوفان کا انتظار

سموگ کے بارے میں محمکۂ موسمیات کے ڈی جی ڈاکٹر غلام رسول نے بتایا کہ سموگ کے اثرات ابھی سے بڑے شہروں میں نمایاں ہونا شروع ہو گئے ہیں اور چونکہ آئندہ دو ماہ میں بارشیں معمول سے کم ہونے کا امکان ہے تو یہ حالات سموگ کی شدت میں اضافے کے لیے کافی سازگار ہوں گے۔

انھوں نے کہا کہ ان حالات میں ہم پیشنگوئی کر رہے ہیں کہ سموگ کا اثر یا پھیلاؤ بڑے علاقے میں ہو گا۔

انھوں نے کہا کہ آئندہ دو ماہ میں ہوا ساکن ہونے اور بارشیں نہ ہونے کی وجہ سے جہاں دھند کی شدت میں اضافہ ہو گا وہیں شہروں میں صنعتوں اور گاڑیوں سے خارج ہونے والے کاربن مونو آکسائیڈ اور دیگر زہریلے مادے اور دیہی علاقوں میں چاول اور گنے کی فصل کا فضلہ جلانے یہ ذرات دھند میں شامل ہو کر سموگ کا سبب بنیں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Twiter

انھوں نے کہا کہ ماحولیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے مون سون کے بعد بارشوں کا سلسلہ کم ہوتا جا رہا ہے اور طویل خشک موسم کی وجہ سے صورتحال مزید کٹھن ہوتی جا رہی ہے۔

اس وقت پاکستان میں ٹویٹر پر سموگ ٹاپ ٹرینڈ ہے جہاں شہری سموگ کی صورتحال پر تصاویر کی مدد سے تبصرے کر رہے ہیں۔

وقار غنی نے لاہور میں سموگ کے انڈیکس کی تصویر کے ساتھ سموگ اور ایئر پولوشن کا ہیش ہیگ استعمال کرتے ہوئے کہا کہ'لاہور تم میری جان لے رہے ہو۔'

اس کے ساتھ ایک دوسری صارف مظہر ارشد نے لاہور میں بڑھتی ہوئی سموگ پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے پاکستان کرکٹ بورڈ کو مشورہ دیا کہ موسم خزاں، سرما کے دوران لاہور کرکٹ کھیلنے کے لیے موزوں نہیں، اس کے لیے پاکستان کو کراچی کرکٹ سٹیڈیم کو جتنا جلدی ممکن ہو سکے بحال کرنا چاہیے۔

سید حسین نے اس کے ساتھ دہلی اور لاہور کی سموگ پر دو تصاویر کو یکجا کر کے شیئر کرتے ہوئے کہا کہ ہمسائے دہلی اور لاہور سموگ کو شیئر کر رہے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

انجم اقبال ملک نے درختوں کی کٹائی کی جانب توجہ مبذول کراتے ہوئے کہا کہ سموگ نے ایک بار پھر لاہور پر حملہ کیا لیکن دوسری جانب حکومت درختوں کی کٹائی کر رہی ہے اور لوگوں کی صحت کے بارے میں کوئی بھی سوچ نہیں رہا ہے۔

ناصر رمضان گوجر نے کہا کہ سموگ کے آنے کے بعد دفعہ 144 کا کوئی فائدہ نہیں، حکومت نے پورا سال ماحولیات کے لیے کچھ نہیں کیا، سب کچھ میٹرو اور اورنج لائن کے لیے تھا۔

ڈاکٹر ثقلین شاہ نے درخت لگانے' پلانٹ ٹری' اور آلودگی' فکس پولوشن' کے خاتمے کے ہیش ٹیگ کے ساتھ ٹویٹ کی کہ سموگ ایک طویل ہارر مودی کا ٹریلر ہے۔

سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر لوگ سموگ کے نتیجے میں گلے اور آنکھوں کی بیماریوں کی شکایات کر کے اپنی تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔

اس حوالے سے اسلام آباد کے سب سے بڑی سرکاری ہسپتال پمز کے سینیئر ڈاکٹر الطاف حسین نے بتایا کہ سموگ کے نتیجے میں گلے، آنکھوں اور سانس کی بیماری لاحق ہو سکتی ہے لیکن اس کے ساتھ سموگ میں پائی جانے والی بعض کثافتوں کے نتیجے میں جہاں شہریوں پر زکام، نزلے کی صورت میں فوری اثرات مرتب ہوتے ہیں وہیں اگر یہ صورتحال زیادہ عرصے تک رہی تو آگے جا کر گلے اور پھیپھٹروں کا کینسر بھی لاحق ہو سکتا ہے۔

ڈاکٹر الطاف نے کہا کہ سموگ سے متاثرہ علاقے میں شہری ماسک کا استعمال کریں اور خاص کر شام کے وقت گھروں سے باہر نکلتے وقت احتیاطی تدابیر اختیار کریں کیونکہ اس وقت سموگ کے اثرات زیادہ ہوتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ متاثرہ علاقے میں شہریوں کو زیادہ سے زیادہ مشروبات کا استعمال کرنا چاہیے تاکہ زہریلی ثقافتوں کا اثر کم کیا جا سکے۔

ڈاکٹر الطاف کہا کہ اگر بیمار ہوں گے تو اس صورتحال میں بھی نیم گرم پانی، چائے، قہوا اور دیگر مشروبات کا استعمال جاری رکھیں تاہم یہ مکمل علاج نہیں بلکہ اس کے ساتھ ڈاکٹر سے فوری رجوع کرنا چاہیے۔

حکومتِ پنجاب نے بھی سموگ کی صورتحال کے پیش نظر لوگوں کے لیے اخبارات میں ہدایت نامہ جاری کیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Punjab gov

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں