مظفر گڑھ: زہر آلود لسی پینے سے پندرہ ہلاک، نئی دلہن گرفتار

تصویر کے کاپی رائٹ Rana Manan

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے ضلع مظفر گڑھ کے گاؤں والوٹ میں زہریلی لسی پینے سے ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 15 تک پہنچ گئی ہے جبکہ آٹھ کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔

مظفر گڑھ پولیس کے مطابق مرنے والوں کا تعلق ایک ہی خاندان سے ہے۔

پولیس نے لسی میں زہر ملانے کے شبہے میں ایک جواں سال خاتون آسیہ بی بی، اس کی رشتہ دار زرینہ بی بی اور ان کی معاونت کرنے والے شخص محمد شاہد کو گرفتار کر لیا ہے۔

ٹوبہ ٹیک سنگھ میں زہریلی شراب پینے سے 32 افراد ہلاک

بندوق کے زور پر زہر کا پیالہ

پولیس کا مزید کہنا ہے کہ تینوں ملزمان کو عدالت نے 14 دن کے جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا ہے۔

مظفر گڑھ کے ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر اویس احمد ملک نے بی بی سی کو بتایا کہ پولیس نے ابتدائی طور پر شواہد اکٹھے کرنے کے بعد شک کی بنیاد پر آسیہ بی بی کو گرفتار کر کے پوچھ گچھ کی تو اس نے اپنے شوہر محمد امجد کو قتل کرنے کی غرض سے اس کے دودھ میں زہر ملانے کا اعتراف کیا۔

"پولیس نے ملزمہ کی نشاندہی پر وہ پڑیا بھی برآمد کر لی تھی جس میں اس نے زہریلا مواد رکھا تھا۔"

گھر والوں نے اس دودھ کا دہی بنا لیا جس سے بنی لسی کو تمام متاثرہ افراد نے پیا۔ زہریلی لسی پینے سے ان کی طبیعت خراب ہونے پر ان کو قریبی ہسپتال منتقل کیا گیا لیکن وہاں مناسب طبی سہولیات میسر نہ ہونے کے باعث ان کو ملتان اور دیگر ہسپتالوں میں بھیج دیا گیا۔۔

اتوار تک 13 افراد ہلاک ہو چکے تھے جبکہ منگل کو مزید دو متاثرہ افراد ہسپتال میں دم توڑ گئے ۔ مرنے والوں میں تین مرد، تین عورتیں، اور چھ بچے شامل ہیں جن میں تین لڑکے اور چھ لڑکیاں ہیں۔

مظفر گڑھ پولیس کے پی آر او وسیم خان کے مطابق ہلاک ہونے والوں کا پوسٹ مارٹم مکمل کر لیا گیا ہے تاہم ان کے جسم سے لیے گئے اجزا کے کیمیائی تجزیے کی رپورٹ تاحال پولیس کو موصول نہیں ہوئی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Rana Manan

پولیس کی تفتیش میں یہ بات سامنے آئی کہ خاندان میں صرف آسیہ بی بی نے زہریلی لسی نہیں پی تھی۔

ڈی پی او اویس احمد ملک کا کہنا تھا کہ ابتدائی تفتیش کے مطابق آسیہ بی بی محمد امجد کے ساتھ اپنی شادی سے خوش نہیں تھی جس سے وہ اپنے خاندان کو بھی آگاہ کر چکی تھی۔

وہ محمد شاہد سے شادی کرنا چاہتی تھی اور اس کے لیے ان دونوں نے محمد امجد کو زہر دے کر قتل کرنے کا منصوبہ بنایا۔

ڈی پی او اویس احمد ملک کا کہنا تھا ایسی جبری شادیاں یا والدین کی مرضی سے طے کی جانے والی شادیوں کا رواج پاکستان میں عام ہے۔

’ہمارے پاس ایسا کوئی طریقہ نہیں کہ ہم ایسی شادیوں کو روک سکیں۔‘ ان کا کہنا تھا کہ مرنے والوں کے اجزا کے کیمیائی تجزیے ہی سے معلوم ہو پائے گا کہ کس قسم کا زہریلا مواد استعمال کیا گیا تھا۔

یاد رہے کہ پولیس کی تحویل میں دیے جانے والے بیان کی قانونی حیثیت نہیں ہوتی۔ پولیس کے مطابق آسیہ بی بی کی صحیح عمر معلوم کروانے کے لیے درخواست دی گئی ہے لیکن ابتدائی اندازے کے مطابق اس کی عمر 18 سے 20 سال کے درمیان بتائی جاتی ہے۔

اسی بارے میں