شرمین چنائے: الفاظ کا چناؤ درست نہیں تھا

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption شرمین عبید کے مطابق ان کی بہن ہسپتال میں اپنے طبی معائنے کے لیے گئی تھیں جہاں ان کے ڈاکٹر نے بعد میں انھیں فیس بک دوست بننے کی پیشکش بھیج دی۔

پاکستان کی دو بار آسکر انعام یافتہ فلم ساز شرمین عبید چنائے نے حال ہی میں ایک ڈاکٹر کے ان کی بہن کو فیس بک پر فرینڈ ریکیوسٹ بھیجنے کے حوالے سے ٹوئیٹس میں ان کا الفاظ کا چناؤ درست نہیں تھا۔

منگل کے روز شرمین عبید نے ٹوئیٹر پر ایک نیا بیان جاری کیا ہے جس میں ان کا کہنا تھا کہ شاید اس حوالے سے ان کی جانب سے چنے گئے الفاظ درست نہیں تھے مگر ان کا اب بھی موقف ہے کہ واقعہ اعتماد کو ٹھیس اور خواتین کو ہراساں کرنے کا ہی تھا۔

یاد رہے کہ چند روز قبل شرمین عبید چنائے نے ٹوئٹر اور فیس بک پر پوسٹ شئیر کی تھی جہاں انھوں نے اپنی بہن کے ساتھ کراچی کے معروف آغا خان ہسپتال میں ہونے والے واقعے کا ذکر کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

کیا فیس بک پر فرینڈ ریکویسٹ بھیجنا ہراساں کرنے کے زمرے میں آتا ہے؟

’میں تمہارا فیس بک دوست بننا چاہتا ہوں‘

’ڈاکٹروں کے لیے ضابطہ اخلاق کی ضرورت ہے‘


شرمین عبید کے مطابق ان کی بہن ہسپتال میں اپنے طبی معائنے کے لیے گئی تھیں جہاں ان کے ڈاکٹر نے بعد میں انھیں فیس بک دوست بننے کی پیشکش بھیج دی۔

منگل کے روز ٹوئٹر پر جاری بیان میں شرمین عبید نے کہا کہ ’ بدقسمتی سے اس موضوع پر بحث خواتین کے تحفظ، غیر اخلاقی اور بے لگام انداز میں ہراساں کرنے کی حرکات سے بہت دور چلی گئی ہے۔ میں نے غصے میں جو الفاظ استعمال کیے ہیں اس سے کچھ لوگ مایوس ہوئے ہیں اور میں اس بات سے اتفاق کرتی ہوں کہ غصے اور جوش میں میں نے غلط الفاظ چنے۔ میرے الفاظ اور جذبات کی وجہ سے بات اصل معاملے سے دور چلی گئی ہے۔

بیان میں انھوں نے کہا کہ ’میں سب سے پہلے واضح کر دوں کہ میرے ٹوئیٹ میں ’غلط فیملی کی غلط خواتین‘ کے الفاظ کا مقصد ہرگز یہ نہ تھا کہ طاقت یا استحقاق کی جانب اشارہ کیا جائے۔ میں یہ کہنا چاہ رہی تھی کہ میری فیملی میں خواتین حوصلہ مند ہیں اور اپنے حقوق کے لیے ہمیشہ کھڑی ہوتی ہیں اور ہوں گی۔‘

انھوں نے کہا کہ انھیں اکثر فیس بک پر دوستی کی پیشکش موصول ہوتی ہیں مگر اس بار معاملہ مختلف تھا۔

انھوں نے کہا کہ مریض ڈاکٹروں پر ایک خاص اعتماد کرتے ہیں اور ’جب یہ اعتماد توڑا جائے تو یہ ایک اخلاقی خلاف ورزی ہے۔‘

’اس کیس میں ایک اجنبی ڈاکٹر جو کہ ایمرجنسی روم میں کام کر رہا تھا، اس سے طبعی معاملے کے علاوہ کوئی بات چیت نہیں کی گئی، اسے وارڈ میں ایک انتہائی ذاتی طبعی معائنے کی ذمہ داری دی گئی۔ اس معائنے کے بعد اس نے مریض کو سوشل میڈیا پر ڈھونڈا، ان کی تصاویر پر رائے دی اور فیس بک پر ان سے دوستی کرنے کی کوشش کی۔‘

ڈاکٹر کے خلاف کارروائی کے حوالے سے انھوں نے کہا کہ جو کچھ بھی ہو رہا ہے وہ ہسپتال کی آزادانہ تفتیش کا نتیجہ ہے۔

ان کا کہنا تھا ’ڈاکٹر کی کوشش کو منظرِ عام پر لانے کے میرے طریقے سے آپ اختلاف کر سکتے ہیں، شعبہِ طبعیات اور سوشل میڈیا کی حدود پر بحث کر سکتے ہیں، اور میرے انداز اور لہجے پر سوال اٹھا سکتے ہیں مگر حقیقت میں جو ہوا وہ اعتماد کو ٹھیس پہچانا، اور پیشہ وارانہ ضوابط کی سنگین خلاف ورزی تھی، جس کے نتحجے میں ایک خاتون کو ہراساں کیے جانے کا احساس ہوا۔ اور اس بات پر میں خاموش نہیں رہوں گی۔‘

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں