پی آئی اے: میتیں امریکہ چھوڑ آنے کی تحقیقات کا حکم

پی آئی اے تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پاکستان کی قومی ایئر لائن پی آئی اے کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر مشرف رسول نے دو پاکستانیوں کی میتیں نیو یارک ایئر پورٹ پر چھوڑ آنے کے معاملے میں تحقیقات کا حکم دیا ہے۔

پی آئی اے کے ترجمان کے مطابق دو تابوتوں میں موجود میتوں کو 28 اکتوبر کو پی آئی اے کی فلائٹ پی کے 712 کے ذریعے لاہور پہنچایا جانا تھا لیکن وہ غلطی سے امریکہ میں جان ایف کینیڈی ایئر پورٹ پر ہی رہ گئیں۔

یہ پاکستان کی قومی فضائی کمپنی کی نیو یارک سے لاہور کی آخری فلائٹ تھی کیونکہ ادارے نے اس روٹ کو معطل کر دیا ہے۔ اب اتحاد ایئر ویز کے ذریعے ان میتوں کو لاہور لایا جائے گا۔

پی آئی اے کے بارے میں یہ بھی پڑھیے

'پی آئی اے کی نیویارک کی پروازیں جاری رہیں گی'

پی آئی اے اور پاکستان ایئرویز، کہانی کیا ہے؟

پی آئی اے کے پانچ بڑے مسائل

پی آئی اے کا کہنا ہے کہ یہ غلطی نیویارک میں قومی ایئرلائن کو گراؤنڈ ہینڈلنگ سروس فراہم کرنے والی ایجنسی کی لاپرواہی کی وجہ سے ہوئی ہے۔

پی آئی اے نے اس واقعے پر معذرت کرتے ہوئے کہا ہے 'گراؤنڈ ہینڈلنگ سروس فراہم کرنے والی ایجنسی کی لاپرواہی کی وجہ سے جو زحمت ہوئی اس پر افسوس کرتے ہیں۔ غمزدہ خاندانوں سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں'۔

پی آئی اے کے بیان کے مطابق میتوں میں سے ایک، نعمان بدر کے وارثوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ان کے عزیز کو امریکی ریاست میری لینڈ میں ہی دفن کر دیا جائے۔

دوسری جانب ناصر علی کی میت کو اتحاد ایئر ویز کی پرواز کے ذریعے یکم نومبر کو لاہور لایا جائے گا۔

پی آئی اے کا کہنا ہے کہ وہ میت لانے کے عمل کی نگرانی کرے گی اور اس کے 'تمام اخراجات ادارہ برداشت کرے گا'۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں