پہلی بیوی سے اجازت کے بغیر دوسری شادی کرنے پر چھ ماہ قید اور دو لاکھ روپے جرمانہ

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

لاہور کی مقامی عدالت نے بیوی سے اجازت لیے بغیر دوسری شادی کرنے والے شخص کو چھ ماہ قید اور 2 لاکھ جرمانہ کی سزا سنائی ہے۔

’دوسری بیوی‘ کی ویب سائٹ سے خواتین کو بھی ’فائدہ‘

’وہ تین ہفتے تک میرا ریپ کرتا رہا‘

’لڑکی کی شادی کی عمر کم از کم 18 سال کرنے کی تجویز‘

جوڈیشل مجسٹریٹ سید علی جواد نے عائشہ خلیل کی درخواست پر سماعت کی۔

عدالت کے تفصیلی فیصلے کے مطابق درخواست گزار نے عدالت کو بتایا ہے کہ شیخوپورہ کے رہائشی ثاقب سہیل سے ان کی شادی جولائی 2013 میں ہوئی۔

ان کے ہاں ایک بیٹے کی پیدائش ہوئی جس کے بعد ان کے شوہر کا رویہ آہستہ آہستہ بدلنا شروع ہوا اور بات یہاں تک پہنچ گئی کہ ثاقب سہیل روز ان کے ساتھ مار پیٹ کرنے لگے۔

اسی دوران عائشہ خلیل کو معلوم ہوا کہ شادی کے وقت ثاقب نے نکاح نامے میں جھوٹ لکھوایا تھا کہ وہ کنوارے ہیں اور دراصل ان کی نومبر 2011 میں روبینہ نام کی خاتون سے شادی ہو چکی تھی۔

اس کے بعد عائشہ خلیل کو معلومات حاصل ہوئیں کہ ان کے شوہر نے لاہور کے علاقے شاہدرہ سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون سے تیسری شادی کر لی ہے۔

عائشہ نے مسلم فیملی آرڈیننس 1961 کے سیکشن 6 کے تحت اپریل 2016 میں اپنے شوہر ثاقب سہیل کے خلاف کیس درج کروایا۔ عائشہ نے عدالت سے استدعا کی کہ ان کے شوہر نے ان کی اجازت کے بنا دوسری شادی کی ہے اور اس شادی کو غیر قانونی قرار دیا جائے۔ تمام ثبوت اور گواہان کے بیانات کے بعد عدالت نے ثاقب سہیل کو چھ ماہ قید اور 2 لاکھ جرمانے کی سزا سنائی، البتہ دوسری شادی منسوخ نہیں کی۔

دوسری جانب ملزم ثاقب سہیل نے تمام الزامات کو بے بنیاد قرار دیا۔

پاکستان میں کونسل آف اسلامک آئیڈیالوجی کے مسلم فیملی آرڈیننس 1961 کے مطابق دوسری شادی کے لیے پہلی بیوی کی تحریری اجازت کی ضرورت ہوتی ہے۔

اس سے قبل مئی 2017 میں لاہور کی ایک خاتون کی خاوند کے خلاف دوسری شادی بغیر اجازت کے کرنے کی درخواست ڈسٹرکٹ اور سیشن عدالت نے اس لیے خارج کر دی کیونکہ دوسری شادی کے شواہد عدالت میں پیش نہیں کئے جا سکے۔

قانونی ماہراور وکیل حسن یوسف شاہ کا کہنا ہے کہ ایسے کیسز پاکستان میں عدالتوں تک کم ہی پہنچتے ہیں کیونکہ خواتین کے لیے شوہر کی دوسری شادی ثابت کرنا ایک مشکل کام ہے البتہ صحیح کاغذات اور گواہان پیش کئے جائیں تو عدالت موجودہ قوانین کے مطابق قید اور جرمانے کی سزا دیتی ہے لیکن دوسری شادی کے لیگل سٹیٹس کو غیر قانونی قرار نہیں دے سکتی۔

جون 2016 میں لاہور ہائی کورٹ ملتان بینچ نے رفاقت حسین نامی شخص کو بغیر اجازت دوسری شادی کرنے پر ایک ماہ کی قید اور پانچ ہزار روپے جرمانہ کیا تھا۔ ملزم نے فیصلے کے خلاف فروری 2017 میں سپریم کورٹ میں اپیل کی جو خارج کر دی گئی تھی۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں