قندیل بلوچ قتل: مفتی عبدالقوی کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا

قندیل بلوچ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

قندیل بلوچ کو 15 اور 16 جولائی 2016 کی درمیانی شب قتل کیا گیا تھا

جنوبی پنجاب کے شہر ملتان کی ایک مقامی عدالت نے سوشل میڈیا سلیبرٹی قندیل بلوچ کے قتل کے مقدمے میں گرفتار ہونے والے مذہبی رہنما مفتی عبدالقوی کو سات روزہ ریمانڈ پر جیل بھیج دیا ہے۔

ہمارے نامہ نگار شہزاد ملک نے بتایا کہ قتل کے اس مقدمے کی تفتیش کرنے والی پولیس کی ٹیم نے ملزم عبدالقوی کو جوڈیشل مجسٹریٹ پرویز خان کی عدالت میں پیش کیا اور عدالت سے ملزم کے مزید ایک روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی جسے عدالت نے مسترد کردیا اور ملزم کو سینٹرل جیل ملتان بھیجنے کا حکم دیا۔

مزید پڑھیے

عدالت نے ملزم کو 7 نومبر کو دوبارہ پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

پولیس کے مطابق مفتی عبدالقوی نے انھیں بتایا ہے کہ قتل کے بعد قندیل کے بھائی کو شہر سے باہر لے جانے والی کا ڈرائیور بھی ان کا رشتہ دار تھا

مفتی عبدالقوی قندیل بلوچ کے قتل کے مقدمے میں 13 روز تک جسمانی ریمانڈ پر پولیس کی تحویل میں رہے جن میں سے چار روز وہ ہسپتال میں زیر علاج رہے۔

مقامی پولیس کا کہنا ہے کہ جسمانی ریمانڈ کے دوران ملزم نے تسلیم کیا کہ قندیل بلوچ کو قتل کرنے کے بعد ملزمان جس گاڑی میں فرار ہوئے تھے وہ نہ صرف اُن کے رشتہ داروں کی ہے بلکہ اس گاڑی کا ڈرائیور عبدالباسط بھی ملزم (مفتی عبدالقوی) کا رشتہ دار ہے۔

جسمانی ریمانڈ کے دوران ان سے تفتیش نہیں کی گئی۔

جسمانی ریمانڈ کے دوران اُنھیں پولی گرافک ٹیسٹ کے لیے لاہور بھی لے جایا گیا اور قتل کے اس مقدمے کی تفتیشی ٹیم کے ایک اہلکار کے مطابق اس ٹسیٹ کے دوران اُن کے 90 فیصد بیانات حقائق پر مبنی نہیں تھے۔

قندیل بلوچ کے قتل کے مقدمے کی سماعت ملتان کے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج امیر محمد خان کی عدالت میں ہو رہی ہے۔

اس مقدمے کی آئندہ سماعت 20 نومبر کو ہوگی جس میں سرکاری گواہان کو طلب کیا گیا ہے۔

اس کے علاوہ تفتیشی ٹیم ملزم مفتی عبدالقوی کے بارے میں تحقیقات مکمل کرکے رپورٹ عدالت میں جمع کروائے گی۔