خیبر پختونخوا کے مدارس رجسٹریشن پر آمادہ ہو گئے

مدارس تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا میں موجود تمام دینی مدارس نے حکومت کی طرف سے مدرسوں کو قومی دھارے میں شامل کرنے کے عمل پر اصولی طورپر آمادگی ظاہر کر دی ہے۔

پشاور میں بدھ کو وفاق المدارس سے تعلق رکھنے والے تمام مکاتب فکر کے دینی مدارس کے نمائندوں اور محکمہ تعلیم کے اعلیٰ اہلکاروں کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں مدرسوں کو قومی دھارے کا حصہ بنانے اور ان کی رجسٹریشن کے ضمن میں تفصیلاً بات چیت کی گئی۔

اجلاس میں شریک وفاق المدارس العربیہ خیبر پختونخوا کے ناظم مولانا حسین احمد نے بی بی سی کو بتایا کہ مدراس کے نمائندوں نے حکومت کی طرف سے دینی مدراس کو قومی دھارے میں شامل کرنے کے عمل سے اصولی طورپر اتفاق کر لیا ہے۔

دینی مدارس کو تعلیمی بورڈز سے منسلک کرنے کی ہدایت

تاہم انھوں نے کہا کہ بعض معاملات میں حکومت کی طرف سے سنجیدگی نظر نہیں آ رہی جس پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔

انھوں نے کہا کہ حکومت کی طرف سے مدارس کو محکمہ تعلیم کے ساتھ منسلک کرنے کی ہدایت کی گئی ہے لیکن تاحال اس ضمن میں کوئی قانون سازی نہیں کی گئی۔

ان کے مطابق ملک میں تمام مدرسے 1860 کے سوسائٹیز ایکٹ کے تحت محکمہ انڈسٹریز اور کامرس کے ساتھ رجسٹرڈ ہیں لیکن ان کا محکمہ تعلیم کے ساتھ اندارج کرنے کے لیے ابھی تک کسی قانون سازی کا آغاز نہیں کیا گیا۔

مولانا محمد حسین کا مزید کہا تھا کہ حکومت کی طرف سے مدارس کو بھیجے گئے تمام رجسٹریشن اور ڈیٹا فارمز میں بھی ابہام پایا جاتا ہے۔ ان کے بقول اصولی طورپر رجسٹریشن اور ڈیٹا فارم محکمہ تعلیم کی طرف سے جاری کیے جانا چاہییں، لیکن یہ ذمہ داری وزرات مذہبی امور کو دی گئی ہے جس سے سے بظاہر لگتا ہے کہ حکومت اس عمل میں سنجیدہ نہیں ہے۔

خیال رہے کہ خیبر پختونخوا کی حکومت نے دینی مدارس کو قومی دھارے میں شامل کرنے کے لیے پہلے مرحلے میں تمام مدرسوں کو تعلیمی بورڈز سے منسلک کرنے کی ہدایت جاری کر دی تھی۔

محکمہ ایلمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن کی طرف سے خیبر پختونخوا کے تمام تعلیمی بورڈز کو ہدایت کی گئی ہے کہ دینی مدارس کو قومی دھارے میں شامل کرنے کے لیے ایک ماہ کے اندر اندر ان کے اندراج کا عمل مکمل کرنے کو یقینی بنایا جائے۔

محکمہ تعلیم کے اعلیٰ اہلکاروں کے مطابق اس ضمن میں متعلقہ تعلیمی بورڈز کو پہلے ہی 11 صفحات پر مشتمل ایک فارم دیا گیا ہے جس میں مدرسوں سے متعلق تمام کوائف درج کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

انھوں نے کہا کہ فارم میں مدارس کے منتظمین کو اس بات کی ضمانت دینا ہو گی کہ ان کا مدرسہ نہ تو دہشت گردی، شدت پسندی، فرقہ واریت یا ملک کے خلاف سرگرمیوں میں ملوث ہے اور نہ ہی ایسی تعلیم دے گا۔

اس کے علاوہ تمام دینی مدارس کو آمدن کے ذرائع بتانے کا پابند کرنے کے ساتھ ساتھ ہر سال ان کا سرکاری ادارے سے آڈٹ بھی کرایا جائے گا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں