پاکستان میں صحافیوں اور صحافت کے لیے زمین تنگ

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption پاکستان صحافیوں کے لیے خطرناک ترین ممالک میں سے ایک ہے

کمیشن برائے انسانی حقوق کے مطابق پاکستان میں گذشتہ دس برس میں پیشہ وارانہ فرائض کی انجام دہی کے دوران قتل ہونے والے ایک سو سے زائد صحافیوں اور میڈیا ملازمین میں سے اب تک صرف تین کے مقدمات میں قاتلوں کو قصوروار ٹھہرایا گیا ہے۔

صحافیوں کے خلاف جرائم میں ملوث افراد کے خلاف عدم کارروائی کے عالمی دن کے موقع پر انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ پاکستان میں میڈیا ہاؤسز کی جانب سے صحافیوں کے تحفظ کے لیے کوئی احتیاطی تدبیر نہیں کی جاتی۔

لاہور سے لاپتہ ہونے والی خاتون صحافی دو برس بعد بازیاب

’صحافیوں پر حملے، صحافی ہی خاموش‘

کارکنوں کے مطابق ہلاک ہونے والے صحافیوں کی ایف آئی آر درج کرانے سے لے کر ان کے مقدمات کی پیروی تک زیادہ تر مواقع پر صحافتی ادارے کہیں دکھائی نہیں دیتے۔

سینیئر صحافی حامد میر کے خیال میں آج 'آدھا پاکستان صحافیوں کے لیے نو گو ایریا بن گیا ہے'۔ وہ سمجھتے ہیں کہ کئی 'نو گو ایشوز' بھی ہیں جن پر خبریں دینا خاصا مشکل ہو گیا ہے۔‘

حامد میر پر 2014 میں ایک قاتلانہ حملہ ہوا جس کی تحقیقات کے لیے کمیشن بھی بنا مگر ذمہ داروں کا تعین ہو سکا نہ ہی کسی کو سزا ہوئی۔

وہ سابق وزیر اعظم نواز شریف کے دورِ حکومت کو صحافیوں کے لیے بدترین وقت قرار دیتے ہیں۔ 'آمر ایک ایسا دشمن ہے جس کو سب جانتے ہیں، مگر جمہوریت کے علمبرداروں کو حکومت میں آتے ہی صحافتی آزادی کھٹکنے لگتی ہے'۔

حامد میر کہتے ہیں کہ وہ اور صحافتی تنظیمیں احمد نورانی کے حملہ آوروں کو منظر عام پر لانے کے لیے پرعزم ہیں۔

احمد نورانی پاکستان کے ایک انگریزی روزنامے دی نیوز کے ساتھ بطور تحقیقاتی رپورٹر منسلک ہیں۔ ان پر حملہ نسبتاً محفوظ سمجھے جانے والے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ہوا۔ گذشتہ پانچ ماہ میں اسلام آباد میں ہی کم از کم چار صحافیوں کو نشانہ بنایا جا چکا ہے۔

حالیہ دنوں میں بلوچستان میں علیحدگی پسند تنظیموں کی جانب سے صحافیوں اور اخبار فروشوں کو دھمکیوں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔

Image caption حامد میر کے خیال میں آج آدھا پاکستان صحافیوں کے لیے نو گو ایریا بن گیا ہے

مبینہ طور پر عسکریت پسندوں نے نظر انداز کرنے پر مقامی میڈیا کے خلاف مسلح کارروائیوں کی دھمکی دی ہے اور کہا ہے کہ ان اخبارات میں صرف ریاستی بیانیہ بیان کیا جارہا ہے۔

پاکستان کے ایک نجی ٹی وی چینل آج نیوز کے چیف ایگزیکٹو افسر شہاب زبیری کے مطابق اداروں کی پالیسیاں بھی صحافیوں پر حملوں کی ایک وجہ بنتی ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ اگر 'ایک ادارے کا جھکاؤ کسی سیاسی گروہ یا کسی ایک غیر ریاستی ادارے کی جانب نہیں ہے تو اس کے ورکرز بھی نسبتاً محفوظ رہتے ہیں'۔

حامد میر کے خیال میں جب تک صحافیوں پر حملوں میں ملوث ریاستی یا غیر ریاستی عناصر کو بے نقاب کر کے سزا نہیں دی جائے گی، انھیں نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری رہے گا۔

'آزادی صحافت کے معاملے پر پاکستان کی سیاسی جماعتیں، غیر سیاسی تنظیمیں، ریاستی اور غیر ریاستی عناصر ایک ہی پیج پر نظر آتے ہیں'۔

ان تمام خدشات اور خطرات کے باوجود ملک کی جامعات میں صحافت کے طالب علم اسی شعبے سے وابستہ ہونا چاہتے ہیں۔

ایک مقامی یونیورسٹی کے طلبا نے بی بی سی سے بات کی اور کہا کہ وہ پاکستان کو ایک ترقی پسند ریاست بنانے کے خواہشمند ہیں جہاں آئین کے تحت اظہار رائے کی آزادی یقینی ہو۔

ایک طالب علم اعتزاز کے خیال میں اگر وہ صحافیوں کو درپیش مسائل پر آواز نہیں اٹھائیں گے تو بہت سے مسائل پر قابو پانا مشکل ہو جائے گا جبکہ ان ہی کے کلاس فیلو حسن سمجھتے ہیں کہ اب پارلیمان کو صحافیوں کے تحفظ کے لیے پالیسی تشکیل دینی چاہییے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں