لندن میں ’فری بلوچستان کے اشتہارات پاکستان کی سالمیت پر براہ راست حملہ‘

تصویر کے کاپی رائٹ TWITTER
Image caption پاکستانی وزارت خارجہ کے مطابق یہ اشتہارات پاکستان کی علاقائی سالمیت پر براہ راست حملے کے مترادف ہیں۔

پاکستان کے دفتر خارجہ نے برطانوی دارالحکومت لندن میں ٹیکسیوں پر لگے ’فری بلوچستان‘ کے اشتہار پر برطانیہ سے احتجاج کرتے ہوئے اسے ملکی سالمیت پر براہ راست حملے کے مترادف قرار دیا ہے۔

پاکستان کے دفتر خارجہ کی جانب سے جمعے کو جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ سیکریٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ نے پاکستان میں برطانوی ہائی کمشنر ٹومس ڈرو کو طلب کر کے ان سے لندن میں چند ٹیکسیوں پر لگے اشہتارات پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

’فری بلوچستان مہم پاکستان کی خودمختاری کے خلاف سازش ہے‘

’فری بلوچستان‘ کی پوسٹرز مہم پر سوئس حکومت سے دوبارہ احتجاج

سوشل میڈیا پر اس طرح کی کچھ تصاویر سامنے آئی تھیں جن میں بظاہر لندن کی ایک ٹیکسی پر لگے اشتہار میں ’فری بلوچستان‘ تحریر تھا۔

پاکستانی دفتر خارجہ کے مطابق برطانوی ہائی کمیشن سے احتجاج میں سیکریٹری خارجہ نے ان اشتہارات پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے پاکستان کی سالمیت پر براہ راست حملے کے مترادف قرار دیا۔

بیان کے مطابق برطانوی ہائی کمشنر کو یہ بھی بتایا گیا کہ اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق پاکستان اس طرح کے اقدام اور اشتہارات کو مسترد کرتا ہے جو اس کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت پر سوالات اٹھاتے ہیں۔

اس معاملے کو لندن میں پاکستانی سفیر کے ذریعے برطانیہ کے فارن اینڈ کامن ویلتھ آفس کے ساتھ بھی اٹھایا جا رہا ہے۔

دوسری جانب لندن میں ٹرانسپورٹ سے متعلقہ تنظیم ٹرانسپورٹ فار لندن کے ترجمان نے بی بی سی کو بتایا کہ ان ’ٹیکسیوں پر لگے پیغامات تنظیم کے اشتہار لگانے کے قواعد کو ضوابط کے خلاف ہیں چناچہ ہم نے لندن ٹیکسی ایڈورٹائزنگ تنظیم کو ان اشتہارات کو ہٹانے کا کہا ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ MOFA
Image caption جنیوا میں چلائی جانے والی 'فری بلوچستان' کی پوسٹرز مہم

خیال رہے کہ رواں برس یہ دوسرا موقع ہے جب کسی یورپی ملک میں’فری بلوچستان` کے اشتہارات نظر آئے ہیں۔

اس سے پہلے ستمبر میں جنیوا میں متعدد مقامات اور بسوں اور دیگر گاڑیوں پر ایسے پوسٹر آوازیں کیے گئے تھے جن پر بلوچستان کی آزادی اور پاکستان میں اقلیتوں سے مبینہ طور پر ناروا سلوک کے بارے میں نعرے درج تھے۔

پاکستان نے جنیوا میں چلائی جانے والی 'فری بلوچستان' کی پوسٹرز مہم پر سوئس حکومت سے دو بار احتجاج کرتے ہوئے مطالبہ کیا تھا کہ اس 'شر انگیز' مہم میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں