ڈیرہ اسماعیل خان: نوجوان لڑکی کو سرِ عام برہنہ کرنے کے الزام میں گرفتار آٹھ ملزمان عدالت میں پیش

متاثرہ خاندان تصویر کے کاپی رائٹ QAIS JAVED
Image caption لڑکی نے الزام لگایا ہے کہ ملزمان نے اس کے کپڑے قینچی سے کاٹ دیے اور جب اس کی ایک رشتہ دار نے اسے چادر سے ڈھانپنے کی کوشش کی تو اسے بھی اتار کر پھینک دیا

پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں نوجوان لڑکی کو زبردستی برہنہ گلیوں میں گھمانے کے الزام میں گرفتار آٹھ ملزمان کو سنیچر کو عدالت میں پیش کیا گیا جبکہ ایک مفرور ملزم کی گرفتاری کے لیے پولیس کے چھاپے جاری ہیں۔

تھانہ چودھوان کے پولیس انسپکٹر بشارت خان نے بی بی سی کو بتایا کہ آٹھوں ملزمان کو سنیچر کی صبح جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کیا گیا جہاں انھیں دو روزہ ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا گیا۔

12 سالہ لڑکی کے ریپ کے بدلے میں 17 سالہ لڑکی کا ریپ

خیال رہے کہ ان ملزمان کو چار روز پہلے گرفتار کیا گیا تھا۔

بشارت خان نے بتایا کہ اس واقعے کا اہم ملزم سجاول تا حال مفرور ہے اور پولیس اسے گرفتار کرنے کی کوششیں کر رہی ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ واقعہ ستائیس اکتوبر کو پیش آیا تھا۔

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
پنچائت کے فیصلے

متاثرہ لڑکی نے بتایا کہ اس کے کپڑے قینچی سے کاٹے گئے اور پھر اسے گلی میں چلنے کا کہا گیا جب وہ ایک گھر میں داخل ہوئی تو اسے وہاں سے باہر نکال کر لایا گیا۔

متاثرہ لڑکی نے بتایا کہ ہم تالاب سے پانی بھر کر گھر لا رہے تھے، ’میرے ساتھ میری دو لڑکیاں (کزنز) بھی تھیں، ہمارے سامنے دس افراد کھڑے تھے، انھوں نے مجھے دھکا دیا جس کے نتیجے میں میں گر گئی۔‘

لڑکی نے بتایا کہ انھوں نے اس کے کپڑے قینچی سے کاٹ ڈالے اور جب اس کی کزن نے اسے دوپٹہ دیا تو ملزمان نے اسے (دوپٹے کو) اٹھا کر پھینک دیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption متاثرہ لڑکی کے بھائی پر یہ الزام تھا کہ اس نے تین سال پہلے ملزمان میں سے کسی ایک کی بیٹی کو موبائل فون دیا تھا جس پر وہ دونوں باتیں کرتے تھے

انھوں نے مزید بتایا ’میں ایک مکان میں داخل ہوئی اور چارپائی کو پکڑا تو مجھے کھینچ کر باہر لے آئے۔ ایک شخص نے مجھے بچانا چاہا تو اسے بھی دھکا دیا اور پھر مجھے ساتھ لے گئے اور بعد میں مجھے دیہات سے دور چھوڑ کر چلے گئے۔‘

متاثرہ لڑکی کی والدہ نے صحافیوں کو بتایا کہ وہ اپنی بیٹی کو ڈھونڈتی ہوئی گاؤں کی گلی میں آئیں تو وہاں دیوار پر مسلح افراد موجود تھے۔ ’میں نے اپنی بچی کا پوچھا تو انھوں نے کہا کہ اپنے بیٹے کو بھیجو۔‘ ان کا کہنا تھا کہ اس وقت پولیس بھی ان کی کوئی شکایت نہیں سن رہی تھی بلکہ ملزمان کا ساتھ دے رہی تھی۔

ایک پولیس اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ لڑکی کو مکمل برہنہ نہیں کیا گیا تھا بس بازو کے قریب سے قمیض پھاڑی گئی تھی۔

چودھوان سے آزاد ذرائع نے بتایا کہ ملزمان نے لڑکی کو مکمل برہنہ کیا تھا اور انھیں گاؤں کی گلیوں میں چلنے پر مجبور کیا گیا تھا۔ جب معاملہ میڈیا پر آیا تو ملزمان نے علاقے کے با اثر افراد سے رابطے بھی کیے تاکہ ان کے خلاف کوئی کارروائی نہ ہو سکے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

متاثرہ لڑکی کے بھائی پر یہ الزام تھا کہ اس نے تین سال پہلے ملزمان میں سے کسی ایک کی بیٹی کو موبائل فون دیا تھا جس پر وہ دونوں باتیں کرتے تھے۔ جب سب کو اس بارے میں پتہ چلا تو مقامی سطح پر پنچایت نے لڑکی کے بھائی کو کہا کہ وہ ملزمان کو تین لاکھ روپے جرمانہ ادا کرے۔ لڑکی کے بھائی نے تین لاکھ جرمانہ دیا اور فریقین کی صلح ہو گئی۔

مقامی افراد کا کہنا ہے کہ ملزمان نے یہ بات دل میں رکھی اور اسے بھلایا نہیں بلکہ وہ لڑکے کو مزید سزا دینا چاہتے تھے۔

ڈیرہ اسماعیل خان کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل پولیس فدا حسین نے ایک اخباری کانفرنس میں بتایا کہ چودھوان کا واقعہ انسانیت سوز واقعہ ہے، پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے آٹھ ملزمان کو گرفتار کیا ہے جبکہ ایک مفرور ملزم کی گرفتاری کے لیے کوششیں جاری ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں