’دینا واڈیا کی شرط تھی کہ وہ ایک عام شہری کی حیثیت سے پاکستان آئیں گی‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption دینا وادیا کو پبلسٹی پسند نہیں تھی اسی لیے وہ عوامی تقریبات میں شرکت سے گریز کرتی تھیں

قائداعظم کی صاحبزادی دینا واڈیا 2004 میں پاکستان کا دورہ کیا تھا اور انھوں نے یہ شرط رکھی تھی کہ انھیں سرکاری پروٹوکول نہیں چاہیے اور وہ عام شہری کی طرح پاکستان آنا چاہیں گی۔

دینا واڈیا سنہ 2004 میں اس وقت کے پاکستان کرکٹ بورڈ کے سابق چیئرمین شہریار خان کی دعوت پر پاکستان اور انڈیا کا کرکٹ میچ دیکھنے آئیں تھیں۔

شہریار خان نے بی بی سی سے بات کرتے بتایا کہ اصل میں انھوں نے دینا واڈیا کے بیٹے کو پاکستان اور انڈیا کے مابین ہونے والے میچ کو دیکھنے کے لیے پاکستان آنے کی دعوت دی تھی اور ان کے بیٹے نے شہریار خان سے کہا کہ اگر آپ چاہیں تو وہ اپنی والدہ سے بھی پاکستان آنے کو کہہ سکتے ہیں۔

مزید پڑھیے

دینا واڈیا: آزادی کے رہنماؤں سے آخری تعلق بھی ختم

’دینا کا زندگی میں اپنے والد سے صرف ایک ہی بات پر اختلاف ہوا‘

شہریار خان کا بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہنا تھا کہ 'میں نے انھیں کہا کہ آپ ضرور اپنی والدہ کو لے کر آئیں۔ اس سے اچھی اور کیا بات ہوسکتی ہے۔'

شہریار خان کے مطابق وہ دینا واڈیا کے بیٹے سے ٹیلی فون پر بات کر ہی رہے تھے کہ دینا واڈیا خود فون پر آ گئیں اور مجھ سے کہا کہ 'میں صرف ایک نجی مہمان کی حیثیت سے آؤں گی، مجھے کوئی سرکاری پرٹوکول نہیں چاہیے، نہیں تو میں نہیں آؤں گی۔'

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
قائدِ اعظم کی بیٹی دینا واڈیا شہرت سے دور الگ تھلگ رہنے والی شخصیت تھیں

شہریار خان نے کا کہنا تھا کہ انھیں معلوم تھا کہ دینا واڈیا کو پبلسٹی پسند نہیں ہے اسی لیے وہ عوامی تقریبات میں شرکت سے بھی گریز کرتی تھیں۔

شہریار خان کے بقول 'میں نے ان کے بیٹے کو یقین دلایا کہ ہم اس دورے کی تشہیر نہیں کریں گے اور یہ کہ وہ میری نجی مہمان کی حیثیت سے آئیں گی۔'

شہریار خان کے مطابق انھوں نے اس وقت کے صدر جنرل پرویز مشرف کو بھی اس بارے میں آگاہ کیا اور بتایا کہ دینا واڈیا سرکاری پرٹوکول نہیں چاہتیں تو انھیں نے بھی قائد کی بیٹی کی خواہش کا احترام کیا اور کہا کہ اس حوالے سے جو بھی سہولت درکار ہو حکومت وہ فراہم کرے گی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption شہریار خان کے نانا قائداعظم کے قریبی دوست تھے۔

شہریار خان نے بتایا کہ دینا واڈیا اپنے والد کی طرح تھیں بالکل جذبات کا اظہار نہیں کرتیں تھیں لیکن لوگوں کی جانب سے کیے جانے والی محبت اور عقیدت کے اظہار پر وہ بہت خوش ہوئیں۔

ان کا کہنا تھا کہ 'اگرچہ ہم نے کسی کو نہیں بتایا تھا کہ وہ آرہی ہیں لیکن جب لوگ انھیں دیکھتے تھے تو پہچان جاتے تھے اور تالیاں بجا کر محبت کا اظہار کرتے تھے'۔

شہریار خان نے بتایا کہ اگرچہ دینا واڈیا انڈیا آتی جاتیں رہتی تھیں لیکن گزشتہ تین چار دھائیوں سے وہ امریکہ میں ہی مقیم تھیں۔

شہریار خان کے بقول 'دینا واڈیا انتہائی اچھی شخصیت کی مالک تھیں اور ہمیشہ بہت پیار سے پیش آتی تھیں، انھوں معلوم تھا کہ میرے نانا قائد کے دوست تھے تو اس لیے مجھ سے بہت محبت سے ملتی تھیں۔'

انھوں نے مزید بتایا کہ اگرچہ وہ سماجی کاموں میں تو دلچسپی لیتی تھیں لیکن سیاست سے انھوں نے اپنے آپ کو بالکل دور رکھا۔‘

شہریار خان نے بی بی سی کوبتایا کہ دینا واڈیا کے بیٹے سے انھیں معلوم ہوا کہ ایک غیر مسلم سے شادی کرنے پر قائداعظم ان سے ناراض ہوئے تھے لیکن اس کے علاوہ باپ بیٹی کے تعلقات خوشگوار رہے۔

اسی بارے میں