لاہور چڑیا گھر میں ایک ہفتے قبل درآمد کی جانے والی مادہ چیتے کی موت

چیتے
Image caption چیتوں کے جوڑے کو حال ہی میں جنوبی افریقہ سے درآمد کیا گیا تھا

جنوبی افریقہ سے لاہور کے چڑیا گھر کے لیے درآمد کیے جانے والے چیتوں کے جوڑے میں سے مادہ چیتا ہلاک ہوگئی ہے۔

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور کے چڑیا گھر کے ڈپٹی ڈائریکٹر تنویر احمد نے بی بی سی کو بتایا کہ 'مرنے والی مادہ چیتے کا پوسٹ مارٹم کرایا جا رہا ہے جس کے بعد اس کی موت کی وجہ سامنے آئے گی۔'

یہ بھی پڑھیے

لاہور چڑیا گھر کی 18 سالہ شیرنی چل بسی

لاہور کے چڑیا گھر میں چیتے اور شیروں کی آمد

انھوں نے خیال ظاہر کیا کہ چیتوں کا یہ جوڑا جنوبی افریقہ سے درآمد کیا گیا تھا لہٰذا ماحول اور جگہ کی تبدیلی ہلاکت کی وجہ ہو سکتی ہے۔

Image caption چیتے کے جوڑے کی قیمت 79 لاکھ 50 ہزار روپے ہے

لاہور کے چڑیا گھر کے ڈپٹی ڈائریکٹر تنویر احمد کے مطابق عالمی قوانین کے تحت درآمد کیے جانے والے جانوروں کی ایک ماہ تک دیکھ بھال کی ذمہ داری کانٹریکٹر کی ہوتی ہے۔

انھوں نے بتایا کہ 'مرنے والی مادہ چیتے کی لاش بھی کنٹریکٹر کے حوالے کر دی گئی ہے اور وہ لاہور میں ہی قائم یونیورسٹی آف ویٹنری اینڈ اینیمل سائنسز سے اس کا پوسٹ مارٹم کرائیں گے جس کی رپورٹ پیر کے روز مل جائے گی۔'

30 اکتوبر کو چیتے کے جوڑے ساتھ ہی سفید جوڑے شیروں کا جوڑا بھی درآمد کیا گیا تھا۔ دونوں جوڑوں کی درآمد پر ایک کروڑ 80 لاکھ روپے لاگت آئی تھی۔

Image caption ماحول اور جگہ کی تبدیلی کو مادہ چیتے کی موت کی وجہ تصور کیا جا رہا ہے

چیتے کا جوڑا 79 لاکھ 50 ہزار روپے میں جبکہ سفید شیروں کا جوڑا 99 لاکھ 90 ہزار روپے میں چڑیا گھر کے فنڈز سے خریدا گیا تھا۔

ڈائریکٹر جنرل وائلڈ لائف اینڈ پارکس پنجاب خالد عیاض خان نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ درآمد کے وقت نر چیتے کی عمر چار سال دو دن اور مادہ چیتے کی عمر تین سال دو ماہ اور 25 دن تھی جبکہ نر سفید شیر کی عمر چار سال اور مادہ سفید شیر کی عمر تین سال 2 دن تھی۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں