تو پھر بتائیے کیا لٹکائیں ؟

تصویر کے کاپی رائٹ AAMIR QURESHI

شرمین عبید چنائے کا ٹویٹ ایک نان ایشو ہے جسے مسلسل کھینچنا وقت گنوانا ہے۔ نواز شریف، عمران خان یا ڈی جی آئی ایس پی آر وغیرہ کی تقاریر یا لمبی لمبی پریس کانفرنسیں محض ایک خبر کے طور پر نشر کرنے کے بجائے براہِ راست اور پورا پورا دکھانا ناظرین اور صحافتی اقدار سے زیادتی ہے۔ یہی نشریاتی وقت حقیقی مسائل اجاگر کرنے میں بھی کھپایا جا سکتا ہے۔

ہر ٹی وی ٹاک شو میں پاناما لیکس یا لیگی حکومت کب جا رہی ہے جیسی خرافات کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔ حالانکہ سینکڑوں مسائل ہیں جو پاناما یا حکومتی استحکام پر جاری قیاس آرائیانہ مباحث سے کہیں اہم ہیں۔

میرے کان پک چکے یہ اعتراضات و فرمائشیں سن سن کر۔ جب ان معترضین سے پوچھا جائے کہ بھائی کون سے مسائل یا خبریں ہیں جن پر آپ کے خیال میں ترجیحاً بات ہونی چاہیے تو آدھے لوگوں کا جواب ہوتا ہے ہم کیا بتائیں، آپ صحافی ہیں آپ بتائیں، آپ سے کیا پوشیدہ ہے۔ باقی آدھوں کے نزدیک اہم مسائل، گورنینس، تعلیم اور صحت وغیرہ ہیں جن پر سب سے کم بات ہوتی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

تاج محل اور ٹرک کی بتی

کچی عمر کا حسن

رہے گا نہ یہ جاہل کا جاہل!


قبلہ آپ کی بات سر آنکھوں پر مگر دو ہزار سترہ میں انیس سو سترہ کی صحافت نہیں چل سکتی۔ سو سال پہلے اخبار کسی سے قرض یا چندہ لے کر بھی شائع ہو جاتا تھا اور وہ اشتہارات پر نہیں سرکولیشن یا قارئین کی ماہانہ و سالانہ ممبر شپ پر چلتا تھا۔ آج اخبار یا چینل زندہ رکھنا کروڑوں روپے کا گیم ہے۔

یہ کروڑوں روپے محض تعلیم، صحت، گورنینس جیسے خشک موضوعات پر مسلسل گفتگو سے وصول نہیں ہو سکتے۔ پیسہ صرف نان ایشوز میں ہے۔ ریٹنگ حقیقی موضوعات کی ریں ریں سے نہیں، تیز مصالحے دار چٹ پٹے چھچھورے پروگراموں سے حاصل ہوتی ہے۔

کسی بھی سنجیدہ مسئلے پر ہونے والے کسی بھی پروگرام کی کوئی ایک مثال دے دیجیے کہ جس کی ریٹنگ کسی بھی مارننگ شو کے مقابلے میں بس ایک بار زیادہ آئی ہو۔

تصویر کے کاپی رائٹ ASIF HASSAN
Image caption پاکستانی ٹی وی چینلز پر گیم شوز بھی کافی مقبول ہیں

چلیے مان لیا کہ دراصل لاکھوں خاموش ناظرین اور قاری ہیں جو صرف سنجیدہ مسائل پر ہی گفتگو دیکھنا سننا چاہتے ہیں۔ مگر میڈیا مالکان اور نئی پود کے نابلد صحافی ناسمجھی، عدم تربیت، اندھی کمرشل دوڑ یا کسی ناگہانی آفت سے بچنے کے لیے غیر اہم مسائل کو زیادہ چمک دمک کے ساتھ پیش کرنا چاہتے ہیں۔

اس کا توڑ یہ ہونا چاہیے کہ ایسے تمام لاکھوں ناظرین و قارئین روایتی، مفاد پرست اور مقابلے کی گھٹیا ترین سطح پر اتر آنے والے میڈیا پر لعنت بھیجیں اور سوشل میڈیا کو حقیقی مسائل پر حرفی، صوتی و بصری گفتگو سے بھر دیں۔

لیکن جس سوشل میڈیا پر آپ کا اختیار روایتی میڈیا پر آپ کے زور سے کئی گنا بڑھ کے ہے وہی سوشل میڈیا نفرت، تعصب، جہالت، جھوٹ، آدھے سچ، فحش گوئی، ننگی دھمکیوں اور جعلی و مشکوک تصاویر کا کچرا گھر کیسے بن گیا۔

سوشل میڈیا کو تو سنجیدگی کا آئینہ ہونا چاہیے تھا کہ جس میں روایتی میڈیا اپنے چہرے کی نحوست دیکھ کے شرما سکتا۔ کیا کسی نے آج تک سوشل میڈیا پر چار پانچ ویب سائٹس کے علاوہ اس ریاست اور سماج کے حقیقی مسائل پر کوئی شائستہ، پڑھی لکھی تحمل دار بحث دیکھی؟

آپ سوشل میڈیا جیسے ہتھیار کا صحت مند استعمال کر کے گھٹیا چینلز، جاہل اینکرز اور پھٹیچر اخبارات کا ناطقہ بند کر سکتے ہیں۔ ڈیجیٹل گھیراؤ کر کے حقیقی مسائل کی پروگرام سازی پر انہیں مجبور کیا جا سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

پیرانِ سیاست کے پیر

بڑے ہو کے کیا بنو گے؟

گلاب جامن اور سانولی لڑکیاں


مگر آپ صرف ایک مڈل کلاسی ڈرائنگ روم میں چائے سڑکتے قوم کے غم میں دبلے ہوتے رہے اور دیکھتے ہی دیکھتے سوشل میڈیا کے تمام پلیٹ فارم بدنیت اور تاریک قوتوں کے الیکٹرونک جنھوں نے برین واشنگ کے لیے ہائی جیک کر لیے یا پھر بندر کے ہاتھ میں استرا ہو گئے۔

یقین نہ آئے تو سوشل میڈیا پر کسی بھی قابلِ ذکر سیاسی و مذہبی و فرقہ و نسل پرست رہنما، عسکری خرچوں، متنازعہ عدالتی فیصلوں، مذہب کے نام پر جاری انتقامی سیاست، بلوچستان، اقلیتوں، ریاستی و غیر ریاستی عناصر کی جانب سے بنیادی حقوق کی کھلم کھلا پامالیوں کے بارے میں ایک جملہ بھی لکھیے۔ ردِعمل کے ناگ آپ کو نیلا نہ کر دیں تو مجھے بھی بتایے گا۔

خود ہاتھ پر ہاتھ دھرے دوسروں کو حقیقت پسندی اور راست گوئی پر اکسانے والے دراصل اس راہ چلتے کی طرح ہیں جس نے ختنہ کرنے والے جراح کی دکان کے باہر بہت سے پرانے گھڑیال لٹکے دیکھے تو پوچھا بھائی صاحب آپ تو جراح ہیں۔ یہ وال کلاک پھر کیوں لٹکائِے ہیں؟ جراح نے پوچھا ’آپ ہی بتائیے کیا لٹکائیں پھر؟‘