دس کمپنیوں میں حسن اور حسین نواز کے شیئرز منجمد

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption نواز شریف کے بیٹوں کے اثاثے منجمد کرنے کا حکم دیا گیا ہے

پاکستان میں احتساب عدالت کے احکامات کے بعد سکیورٹیز اینڈ ایکسچنج کمیشن آف پاکستان نے حسن اور حسین نواز کے دس مختلف کمپنیوں میں موجود حصص منجمد کر دیے ہیں۔

اتوار کو ایس ای سی پی کے ترجمان نے بی بی سی کو بتایا کہ سابق وزیراعظم نواز شریف کے بیٹوں کے دس کمپنیوں میں حصص ہیں اور تمام کمپنیاں لاہور میں رجسٹر ہیں۔ انھوں نے کہا بتایا کہ یہ کمپنیاں سٹاک مارکیٹ میں کاروبار نہیں کرتی ہیں۔

۔حسن اور حسین کے اثاثے منجمد کرنے کا حکم

’آپ بہت بڑا جوا کھیل رہے ہیں‘

’ذاتی کاروبار پر نہ سوال کیا جا سکتا ہے،نہ جواب دینا ضروری‘

ترجمان کا کہنا ہے کہ ایس ای سی پی کے سربراہ نے لاہور میں کمپنیوں کے رجسٹریشن آفس کو اس حوالے سے مراسلہ لکھا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ احتساب عدالت کے فیصلے کی روشنی میں ان دس کمپنیوں کا کوئی بھی ریکارڈ تبدیل نہ کیا جائے اور نہ ہی ملکیت میں تبدیلی کی جائے۔

سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن کے مطابق حسن نواز کے 2 کمپنیوں جبکہ حسین نواز کے 10 کمپنیوں میں حصص ہیں۔

حسن نواز کے محمد بخش ٹیکسٹائل ملز لمیٹڈ میں 102100 شیئرز ہیں اور حمزہ اسپننگ ملز میں اُن کے 44100 شیئرز ہیں۔ اس طرح وہ مجموعی طور پر ساڑھے 14 لاکھ شئیرز کے مالک ہیں۔

حسین نواز 10 کمپنیوں میں مجموعی طور پر 18 لاکھ سے زائد شیئرز کے مالک ہیں۔

ایس ای سی پی کے مطابق حسین نواز کے محمد بخش ٹیکسٹائل ملز لمیٹڈ میں 482100 شیئر اتفاق برادرز ( پرائیویٹ) لمیٹڈ میں 4416 شیئر، برادرز اسٹیل ملز لمیٹڈ میں 500 شئیر، حدیبیہ پیپرز ملز 896600 شیئر، حدیبیہ انجینئرنگ لمیٹڈ میں 24450 شیئرز ہیں۔

Image caption حسن نواز اور حسین نواز برطانوی شہری ہیں۔

ایس ای سی پی کے مطابق حسین نواز کے اتفاق ٹیکسٹائل ملز لمیٹڈ میں 6000، حمزہ اسپننگ ملز میں 163100، برادرز ٹیکسٹائل ملز میں 1855، رمضان بخش ٹیکسٹائل ملز میں 225000 اور خالد سراج انڈسٹریز(پرائیویٹ) لمیٹڈ میں حسین نواز کے 1500 شیئرز ہیں۔

واضح رہے کہ احتساب عدالت نے سابق وزیراعظم نواز شریف اُن کے بچوں اور داماد کے خلاف ریفرنس کی سماعت میں حسن اور حسین نواز اب تک ایک بار بھی عدالت میں پیش نہ ہوئے، جس پر عدالت نے نہ صرف اُن کی گرفتاری کے لیے ناقابل ضمانت وارنٹ جاری کیے بلکہ اُنھیں اشتہاری قرار دینے کے لیے متعقلہ حکام کو کارروائی کرنے کا حکم دیا ہے۔

احتساب عدالت کے 31 اکتوبر کے فیصلے کے روشنی میں حسن اور حسین نواز اگر 30 دن میں عدالت میں پیش نہ ہوئے تو انھیں اشتہاری قرار دیا جائے گیا اور دونوں بھائیوں کی جائیداد ضبط کرنے کے احکامات دیے جائیں گے۔

یاد رہے کہ حسن نواز اور حسین نواز برطانوی شہری ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں