پاکستان میں عام انتخابات کس مردم شماری کی بنیاد پر ہوں؟

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پاکستان میں تقریباً 20 سال کے بعد ہونے والی مردم شماری کے نتائج پر ابھی تنازع ختم نہ ہوا تھا کہ اب سیاسی جماعتوں میں اس بات پر تنازع شروع ہو گیا ہے کہ انتخابات کون سی مردم شماری کے نتائج پر کروائے جائیں۔ مردم شماری کے حتمیٰ نتائج آئندہ سال اپریل میں جاری کیے جائیں گے جبکہ ملک میں عام انتخابات اگست 2018 میں ہوں گے۔

الیکشن سے قبل نئی حلقہ بندیوں کے لیے مردم شماری کے حتمی نتائج کا انتظار تو نہیں کیا جا سکتا اس لیے وفاقی کابینہ نے مردم شماری کے غیر حتمی نتائج کی بنیاد پر آئندہ انتخابات کروانے کی منظوری دی۔

یہ بھی پڑھیے

مردم شماری:’پاکستان کی آبادی پونے 21 کروڑ سے زیادہ‘

کم آبادی پر وفاق اور صوبے میں تنازع

’مردم شماری شفاف نہ ہوئی تو گڑبڑ ہو گی‘

مردم شماری اور کچی پینسل

آبادی بڑھنے سے اسمبلی کی نشستوں میں ردو بدل ہو گا، جو آئینی ترمیم کے بغیر ممکن نہیں ہے اور آئینی ترمیم دو تہائی اکثریت درکار ہو گی۔ حکومت نے گذشتہ ہفتہ قومی اسمبلی میں آئینی ترمیم کے لیے بل پیش کیا تھا لیکن وہ یہ بل پاس کروانے میں کامیاب نہیں ہو سکی۔

تنازع کیا ہے؟

پیپلز پارٹی کا کہنا ہے کہ نئے مردم شماری کے نتائج اور اس کے تحت ہونے والے انتخابات کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل میں لایا جائے۔

پاکستان پیپلز پارٹی اور متحدہ قومی موومنٹ نے مردم شماری کے نتائج پر تحفظات ظاہر کرتے ہوئے نتائج تسلیم کرنے سے انکار کیا ہے۔ ان جماعتوں کا موقف ہے کہ سندھ خصوصاً کراچی کی آبادی بڑھنے کی شرح لاہور کے مقابلے میں بہت کم ہے۔

ایم کیو ایم کا کہنا ہے کہ اُن کے ووٹ بینک کو کم کرنے کے لیے کراچی کی آبادی کم ظاہر کیا گیا۔ ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی کا کہنا ہے کہ انھیں سندھ میں ہر بلاک کی کا ڈیٹا دیا جائے۔ حکومت نے اُن کے اس مطالبے کو مسترد کر دیا ہے۔

مردم شماری پر تحفظات اور ان کی حقیقت

’مردم شماری شفاف نہ ہوئی تو گڑبڑ ہو گی‘

سیاسی جماعتوں کا کہنا ہے کہ اگر وہ مردم شماری کے غیر حتمیٰ نتائج کی بنیاد پر الیکشن پر متفق ہو جاتے ہیں تو حکومت انھی نتائج کو حتمیٰ قرار دیتے ہوئے اُن کے تحفظات کو نظر انداز کر دی گی۔ پیپلز پارٹی کا موقف ہے ابھی مردم شماری کے حتمیٰ نتائج نہیں آئے ہیں اس لیے 1998 کی مردم شماری کے نتائج کی بنیاد پر انتخابات کروائے جائیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ ARIF ALI
Image caption واضح رہے کہ اس سال ہونے والی مردم شماری کے مطابق پاکستان کی آبادی 22 کروڑ کے لگ بھگ ہے

پنجاب کی نشستیں کم، پختونخوا کی زیادہ

ایم کیو ایم کو حلقہ بندیوں کے فارمولے پر بھی اعتراز ہے۔ ایم کیو ایم کا کہنا ہے کہ کسی بھی حلقے میں آبادی کے لحاظ سے حلقہ نہ بنایا جائے بلکہ حلقہ بندیاں ووٹروں کی تعداد پر کیا جائے۔ اگر ایم کیو ایم کا یہ مطالبہ مان لیا جائے تو کراچی سے قومی اسمبلی کی ایک نشست بڑھ جائے گی۔

الیکشن کمیشن کی ڈیڈ لائن

الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ 10 نومبر سے پہلے پہلے آئینی ترمیم کی جائے تاکہ مردم شماری کے نتائج کے تحت انتخابات کروانے کی تیاری کی جا سکے۔

ہر عام انتخاب سے قبل الیکشن کمشن نئی حلقہ بندیاں کر کے ووٹر فہرست تیار کرتا ہے اور اس عمل میں اُسے کم سے کم چار مارہ درکار ہوتے ہیں۔ دوسری جانب الیکشن کمیشن پر نئے قانون کے تحت یہ لازم ہے کہ وہ عام انتخابات سے چار ماہ قبل الیکشن پلان کو مکمل کریں۔ اس لیے الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ وقت پر انتخاب کروانے کے لیے نئی مردم شماری کے غیر حتمی نتائج پر ہی انحصار کرنا ہو گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA

کن اُمور پر اتفاق ہے؟

سیاسی جماعتیں اور حکومت اس بات پر متفق ہیں کہ مردم شماری کے ابتدائی نتائج کے بعد بھی قومی اسمبلی کی272 عام نشستیں میں کوئی تبدیلی نہ کی اور چاروں صوبائی اسمبلی کی سیٹوں میں تعداد بھی کم یا زیادہ نہ ہو۔

آبادی کے نئے اعدادوشمار کے تحت حلقہ قومی اسمبلی سے پنجاب کی نو سیٹیں کم ہوں گی جبکہ خیبر پختونخوا کی پانچ نشستیں، بلوچستان کی تین اور وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی ایک نشست میں اضافہ ہو گا۔

سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ 1998 کی مردم شماری کی بنیاد پر انتخابات کروانا غیر قانونی ہے کیونکہ عدالت ایسے الیکشن کو کالعدم قرار دے سکتی ہے۔ مردم شماری کے نتائج کو تسلیم نہ کرنے اور انتخابات کے لیے آئینی ترمیم میں تاخیر صوبوں اور وفاق کے مابین عدم اعتماد کو ظاہر کرتی ہے۔

اسی بارے میں