سعودی عرب میں کرپشن کے خلاف کریک ڈاؤن یا خاندانی دشمنیاں

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

سنیچر کے روز سعودی عرب میں درجنوں شہزادوں، سرکاری عہدیداروں اور سرمایہ داروں کی گرفتاری کو سرکاری طور پر بدعنوانی کے خلاف کریک ڈاؤن سے منسلک کیا جا رہا ہے لیکن سعودی عرب کے حالات پر نظر رکھنے والے مبصرین کا کہنا ہے کہ گرفتار شدگان کا خاندانی و کاروباری پس منظر ثابت کرتا ہے کہ ان میں سے بیشتر لوگ اپنے سیاسی نظریات اور خاندانی وابستگیوں کی وجہ سے گرفتار کیے گئے ہیں۔

سعودی وزارت اطلاعات و نشریات نے سنیچر کی شام ایک بیان میں بتایا کہ ’مملکت کی تاریخ میں بے نظیر انسداد بدعنوانی مہم کے تحت 11شہزادوں اور 38موجودہ اور سابق وزرا نائبین اور سرمایہ کاروں کو حراست میں لیا گیا ہے۔‘

یہ بھی پڑھیے

کرپشن کے خلاف جنگ، گیارہ سعودی شہزادے گرفتار

’کرپشن کے خلاف جنگ‘ یا ’شطرنج کی بازی‘

شہزادہ الولید بن طلال کون ہیں؟

یہ گرفتاریاں گذشتہ برسوں میں سعودی عرب سے آنے والی اہم ترین خبروں میں سے ایک ہے۔ اس کے باوجود سعودی عرب میں اس پر کھلے عام بہت کم بات ہو رہی ہے۔

سعودی عرب میں کام کرنے والے غیر ملکی صحافی اس خبر کے بارے میں بات تو کر رہے ہیں لیکن اس پر سرکاری اعلامیوں سے زیادہ کچھ لکھنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔

بی بی سی نے اس مضمون کی تیاری کے لیے سعودی عرب میں کام کرنے والے بعض صحافیوں سے رابطہ کیا جنہوں نے اس سارے معاملے کے سیاق و سباق پر روشنی تو ڈالی لیکن اپنا نام شائع نہ کرنے کی درخواست بھی کی کیونکہ ان لوگوں کو خدشہ ہے کہ سعودی ولی عہد اس بارے میں شدید حساس ہیں اور اس موضوع پر آزادانہ رائے دینا ان صحافیوں کے لیے مسائل پیدا کر سکتی ہے۔

یسے تو سعودی شہزادے جتنی بڑی تعداد میں اور جتنے اہم کاروباری و سرکاری عہدوں پر پائے جاتے ہیں، یہ ممکن ہی نہیں کہ ملک میں کوئی بھی غلط یا صحیح کاروباری سرگرمی ہو اور اس میں کوئی نہ کوئی شہزاد شامل نہ ہو، اس کے باوجود گرفتار شدگان کی فہرست بتاتی ہے کہ ان پر ہاتھ ڈالنے کا مقصد صرف کرپشن کا خاتمہ نہیں ہے۔

مثال کے طور پر گرفتار ہونے والوں میں سابق فرمانروا شاہ عبداللہ کے بیٹے اور بعض قریبی ساتھی بھی شامل ہیں جس سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ ان گرفتاریوں کا ایک ہدف شاہ عبداللہ کی باقیات اور ان کی سوچ کو شاہی محل سے نکالنا بھی تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

ان ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ ایسا بھی نہیں ہے کہ یہ بالکل ہی ایک سیاسی عمل ہے۔ دو برس قبل مکہ میں تعمیراتی کرین گرنے سے ایک سو سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے۔ اسی طرح چند برس قبل جدہ میں سیلاب سے بھی اتنی ہی ہلاکتیں ہوئی تھیں۔ ان دنوں معاملات کی تفتیش میں ناقص آلات اور منصوبہ کے الزامات سامنے آئے تھے لیکن بعض بااثر افراد اور شہزادوں کی مداخلت کے باعث ان حادثات کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی نہیں ہو پا رہی تھی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ حالیہ گرفتاریوں کا ان دونوں واقعات سے بھی تعلق ہے۔

پچاس کے قریب گرفتار شدگان میں سے چند ایک کے بارے میں جو معلومات دستیاب ہیں ان کی بنیاد پر ان کا تیار کردہ خاکہ بھی اس گرفتاری مہم کی وجوہات و اثرات پر کچھ روشنی ڈال سکتا ہے۔

صالح کامل

سعودی شاہی روایات کے مطابق اگر بادشاہ کسی سرکاری یا غیر سرکاری محفل میں آپ کو اپنی بائیں جانب بیٹھنے کی سعادت بخشتے ہیں تو اس سے بڑا اعزاز آپ کے لیے کوئی اور نہیں ہونا چاہیے۔ کیونکہ اس عمل کا مطلب یہ ہے کہ بادشاہ سلامت آپ کو اپنا معتبر اور دوست سمجھتے ہیں۔ صالح کامل سعودی تاریخ میں ان چند افراد میں شامل ہیں جنہیں شاہی خاندان کا رکن نہ ہونے کے باوجود شاہ عبداللہ نے یہ اعزاز بخشا، اور بار بار بخشا۔

مبصرین کے مطابق صالح کامل اکثر نہ صرف سماجی اور سرکاری تقریبات میں شاہ عبداللہ کی بائیں جانب بیٹھے دکھائی دیتے بلکہ سعودی فرمانروا دیر تک ان کا ہاتھ بھی تھامے رکھتے۔ صالح کامل کی دوسری شہرت ان کی دولت ہے۔ وہ اسلامی بنکاری میں سب سے بڑے سرمایہ کار مانے جاتے ہیں اور البرکہ بنک ان کی ملکیت ہے جس کی شاخیں پاکستان سمیت مختلف اسلامی ملکوں میں پائی جاتی ہیں۔ انہیں اپنے بیٹوں عبداللہ و محی الدین کے ہمراہ حراست میں لیا گیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

عادل الفقیہ

ڈگری کے لحاظ سے انجینئر عادل الفقیہ کئی برس نجی شعبے سے وابستہ رہے اور مخلتف کمپنیوں اور بینکوں میں ملازمت کرتے رہے۔ انہیں شاہ عبداللہ نے بادشاہت سنبھالنے کے فوراً بعد جدہ کا میئر بنایا جو ان کی شاہ عبداللہ سے قربت کا ثبوت ہے۔ چند برس بعد جب جدہ میں سیلاب سے ہلاکتیں ہوئیں تو ابتدائی تفتیش کے بعد پتہ چلا کہ میئر نے شہر کی خشک پڑی آبی گزر گاہوں پر پلاٹ بنا کر بیچ دیے۔ اس وقت اس تفتیش کو شاہ عبداللہ کے ساتھ قربت کی وجہ سے دبا دیا گیا تھا۔ اب جبکہ انہیں گرفتار کیا گیا ہے تو مبصرین اسے ایک تیر سے دو شکار سے تعبیر کر رہے ہیں۔ اس گرفتاری کا تعلق سیلاب سے بھی جوڑنے کی کوشش ہو رہی ہے لیکن عادل الفقیہ کا سابق فرمانروا سے قریبی تعلق ہی ان پر آنے والے برے دنوں کی اصل وجہ بتائی جاتی ہے۔

بکر بن لادن

سعودی عرب کی سب سے بڑی تعمیراتی کمپنی کے سربراہ ہیں مگر ان کی وجہ شہرت القاعدہ سربراہ اسامہ بن لادن کا بڑا بھائی ہونے کی ہے۔ سعودی شاہی خاندان سے بن لادن خاندان کی قربت داری بہت پرانی ہے جو شاہ عبدالعزیز دور میں پروان چڑھی اور شاہ عداللہ کے زمانے تک قائم رہی۔ اس دوران مکہ میں دو برس قبل کرین گرنے کے حادثے کی تفتیش میں انھوں نے اپنا اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کی۔ وہ شہزادہ سلمان کی انسداد بد عنوانی کی زد میں مبینہ طور پر اسی وجہ سے آئے ہیں۔

شہزادہ متعب، شہزادہ ترکی اور شہزاد فہد

شاہ عبداللہ کے یہ بیٹے سعودی عرب میں اہم ترین عہدوں پر فائز رہے ہیں لیکن اب ظاہر ہیں زیر عتاب ہیں۔ شہزادہ متعب سعودی عرب کی اہم ترین فوج شاہی گارڈز کے سربراہ اور وزیر تھے، شہزادہ ترکی ریاض کے گورنر اور شہزادہ فہد نائب وزیر دفاع رہے ہیں۔ لیکن موجودہ ولی عہد کے عمل نے ثابت کیا ہے کہ ان کو محل میں نہیں دیکھنا چاہتے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption شہزاد فہد بن عبداللہ بن عبدالعزیز نائب وزیر دفاع کے عہدے پر فائز تھے

حراست میں لی جانے والی مندرجہ ذیل شخصیات کے نام سامنے آچکے ہیں

شہزادہ ولید بن طلال

شہزادہ متعب بن عبداللہ

شہزادہ ترکی بن عبداللہ(سابق گورنر ریاض)

شہزادہ ترکی بن ناصر (سابق سربراہ محکمہ موسمیات)

شہزادہ فہد بن عبداللہ بن محمد (سابق نائب وزیر دفاع)

خالد التویجری(سابق سربراہ ایوان شاہی)

محمد الطبیشی(سابق سربراہ ایوان شاہی)

عمرو الدباغ (سابق گورنر ساجیا)

سعود الدویش (سابق سربراہ ایس ٹی سی)

صالح کامل اور انکے بیٹے عبداللہ و محی الدین

الولید البراہیم (این بی سی گروپ کے مالک)

عادل فقیہ(سابق وزیر اقتصاد و منصوبہ بندی)

ابراہیم العساف (سابق وزیر خزانہ)

عبداللہ السلطان (بحریہ کے سبکدوش کمانڈر)

خالد الملحم (السعودیہ کے سابق ڈائریکٹر)

بکر بن لادن(چیئرمین بن لادن گروپ)

اور سرمایہ کار محمد العمودی شامل ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں