احتساب عدالت میں نواز شریف کے خلاف دائر ریفرنسز کو اکٹھا کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

نواز شریف تصویر کے کاپی رائٹ AFP

اسلام آباد کی احتساب عدالت نے سابق وزیراعظم نواز شریف کے خلاف دائر ریفرنسز کو اکٹھا کرنے کی درخواستوں پر سماعت مکمل کر کے اپنا فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق فریقین کے دلائل مکمل ہو نے کے بعد احتساب عدالت کی جانب سے فیصلہ محفوظ کر لیا گیا جسے بدھ کو سنایا جائے گا۔

خیال رہے کہ احتساب عدالت کے جج محمد بشیر اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں نواز شریف کی جانب سے دائر کی جانے والی ان درخواستوں کو دوبارہ شنوائی کر رہے تھے۔

سابق وزیراعظم نواز شریف، اپنی بیٹی اور داماد کے ہمراہ منگل کی صبح اپنے خلاف دائر ریفرنسز کی سماعت کے موقع پر احتساب عدالت میں پیش ہوئے اور عدالت کی اجازت کے بعد واپس لوٹ گئے تھے۔اس موقع پر سکیورٹی کے خصوصی انتظامات کیے گئے تھے۔

سپریم کورٹ کے فیصلے کے اہم نکات

نیب ریفرنسز کب کیا ہوا؟

نواز شریف ریفرنس: سماعت ملتوی، حاضری سے استثنیٰ نہیں

’ نواز شریف حاضر ہوں‘

نامہ نگار شہزاد ملک نے بتایا کہ احتساب عدالت میں نواز شریف کی جانب سے خواجہ حارث نے عدالت میں دلائل دیے۔ انھوں کہا کہ نواز شریف کے خلاف تینوں ریفرنسزایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں اس لیے انھیں یکجا کیا جائے۔

خواجہ حارث نے اپنے دلائل میں سندھ ہائی کورٹ کے فیصلوں کے کچھ حوالے دیے جن میں ایک ہی قسم کے ریفرنسز کو یکجا کیا گیا تھا۔ تاہم وہاں موجود نیب کے ڈپٹی پراسیکیوٹر نے کہا کہ ’چونکہ تینوں ریفرنسز نیب نے خود نہیں بنائے بلکہ سپریم کورٹ کے احکامات کی روشنی میں بنائے گئے ہیں اس لیے عدالت اس میں کچھ نہیں کر سکتی۔‘

عدالت نے سماعت کے دوران وقفہ دیا اور اس موقع پرعدالت نے ’نواز شریف سے کہا کہ اگر آپ جانا چاہتے ہیں تو جا سکتے ہیں۔‘ جس کے بعد نواز شریف، ان کی بیٹی اور داماد عدالت سے چلے گئے۔

عدالت نے جن دو گواہوں کو بیانات ریکارڈ کروانے کے لیے طلب کیا تھا ان کے سمن معطل کر دیے گئے ہیں۔

احتساب عدالت کے جج نے 19 اکتوبر کو ملزم نواز شریف کی طرف سے ان ریفرنسز کو اکھٹا کرنے سے متعلق درخواستیں مسترد کر دی تھی۔ اس کے علاوہ ان کی غیر موجودگی میں تینوں ریفرنسز میں ان پر فرد جرم بھی عائد کی تھی۔ جس کے خلاف نواز شریف نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دی تھی۔

گذشتہ ہفتے احتساب عدالت نے سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف اور ان کے بچوں اور داماد کے خلاف دائر ریفرنسز کی سماعت سات نومبر تک ملتوی کر دی تھی تاہم عدالت نے انھیں حاضری سے استثنیٰ نہیں دیا تھا۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے احتساب عدالت کو حکم دیا گیا تھا کہ وہ نواز شریف کی طرف سے ان کے خلاف زیر سماعت تین ریفرنسوں کو یکجا کرنے کی درخواست کو رد کیے جانے کے فیصلے پر نظر ثانی کرے۔ تاہم اس فیصلے کی کاپی کی عدم دستیابی کی وجہ سے گذشتہ سماعت پر کوئی کارروائی نہیں ہو سکی تھی۔

ہائی کورٹ نے کہا تھا کہ احتساب عدالت نے نواز شریف کی جانب سے دائر درخواستوں کو مسترد کرنے کی وجوہات نہیں بتائی تھیں۔ میاں نواز شریف عدالت میں اپنی بیٹی مریم نواز اور داماد کیپٹن (ر) صفدر کے ہمراہ موجود تھے۔ احتساب عدالت میں نواز شریف کی یہ تیسری پیشی تھی۔

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
نواز شریف کی سیاسی زندگی کے نشیب و فراز

نواز شریف گذشتہ ہفتے ہی لندن سے واپس وطن پہنچے تھے۔ وہ اپنی اہلیہ کی علالت کی وجہ سے لندن میں مقیم تھے تاہم ان کے دونوں بیٹے احتساب عدالت میں پیش نہیں ہوئے۔

احتساب عدالت کے احکامات کے بعد سکیورٹیز اینڈ ایکسچنج کمیشن آف پاکستان نے حسن اور حسین نواز کے دس مختلف کمپنیوں میں موجود حصص منجمد کر دیے ہیں۔

احتساب عدالت کے 31 اکتوبر کے فیصلے کے روشنی میں حسن اور حسین نواز اگر 30 دن میں عدالت میں پیش نہ ہوئے تو انھیں اشتہاری قرار دیا جائے گیا اور دونوں بھائیوں کی جائیداد ضبط کرنے کے احکامات دیے جائیں گے۔

یاد رہے کہ حسن نواز اور حسین نواز برطانوی شہری ہیں۔

تین نومبر کو ہونے والی سماعت کے دوران وقفے پر نواز شریف نے کمرہ عدالت میں موجود میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو میں کہا کہ سپریم کورٹ کے ججز نے کہا کہ کیسز کرپسن کے نہیں۔

نواز شریف نے اس بات پر حیرت کا اظہار کیا کہ سپریم کورٹ نے صرف چھ ماہ کا وقت د دیا۔ 'ایک ریفرنس پر ایک ماہ کا وقت بھی نہیں دیا جا رہا۔ نیب میں دیگر زیر سماعت مقدمات میں ایک بھی نگراں جج مقرر نہیں کیا گیا۔ یہ سب سمجھ سے باہر ہے۔'

انھوں نے کہا کہ 'زرداری صاحب مجھے گالیاں نہیں دے رہے کسی کو خوش کر رہے ہیں۔'

اسی بارے میں