پاکستان میں میڈ ان انڈیا سموگ

سموگ تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption پنجاب کا کسان بھلے اس طرف کا ہو یا اس طرف کا اپنے کھیت پیڑھی در پیڑھی اسی طرح صاف کرتا آ رہا ہے

ٹھنڈ شروع ہوتے ساتھ ہی راولپنڈی سے رحیم یار خان تک سموگ چھا گیا ہے۔ اکثر علاقوں میں صبح اور شام میں لگ بھگ بیس فٹ اور دوپہر میں تقریباً 50 فٹ کے بعد کوئی چیز ٹپائی نہیں دیتی۔

جیون کی گاڑی اندازے کے گئیر پے چل رہی ہے۔ ٹرینوں کو تو خیر ویسے بھی لیٹ ہونے کا بہانہ چاہیے مگر دھند نے تو انہیں واقعی لیٹا دیا ہے۔ سویلین پروازیں پہلے ٹیکنیکل خرابی کے بہانے تاخیر پسند تھیں اب بفیضِ سموگ مسافر بردار طیارے پچھلے ایک ہفتے سے مسلسل اسی شش و پنج میں ہیں کہ اڑ گئے تو اتریں گے کیسے، اتر گئے تو اڑیں گے کیسے؟

'لاہور تم میری جان لے رہے ہو'

دہلی میں آتش بازی کے سامان کی فروخت پر پابندی

سموگ: ’انڈیا سے ہوا چلنا بند لیکن حکومت نے کیا کیا ہے؟ ‘

ہم جب بچے تھے تو سردیوں میں سکول جاتے وقت اکثر دھند سے ملاقات ہوتی تھی اور جیسے جیسے سورج کی کرنیں گرم ہوتی جاتیں کہرہ بھی چھٹتا جاتا اور دس گیارہ بجے تک ہر چیز صاف صاف نظر آنے لگتی۔

مگر جب سے کارخانوں اور ٹریفک کا دھواں اور فصل کٹنے کے بعد کھیت کے فالتو ڈنٹھل اور کچرے کو تمیز کے ساتھ ٹھکانے لگانے کے بجائے جلانے کا کام بڑھا ہے تو دھند بھی خود کو ترقی گزیدہ دور کے ساتھ ایڈجسٹ کرتے ہوئے آلودگی سے معانقہ کر بیٹھی ہے۔ پھر یہ آلودگی بادل کی صورت ٹھنڈی ہو کر شہروں اور قصبات پر چھتری جیسی تن جاتی ہے اور اس کے زرے سانس کے زریعے رگوں میں اتر کر لوگوں کو بیمار کر دیتے ہیں۔

یعنی صنعتی و زرعی و ٹریفک کی بے لگام آلودگی نے ترقی کو ہمارے لیے پھندہ بنا ڈالا ہے۔ پھر بھی ہم قدرت کے ساتھ چھیڑ چھاڑ سے باز نہیں آ رہے بلکہ خود کو سدھارنے کے بجائے دوسروں کو الزام دے کے کرنے والے کام سے مکتی پا رہے ہیں۔

ویسے تو مئی سے ستمبر تک بیشتر پنجاب اور سندھ میں کڑاکے کی گرمی پڑتی ہے۔ لیکن جب مئی 1998 میں بھارت نے لگاتار پانچ ایٹمی دھماکے کیے تو مشرقی سرحدی علاقوں میں گرمی کی شدت ان ایٹمی دھماکوں کی حرارت کے سر منڈھنے کی کوشش کی گئی۔

مگر عجیب بات ہے کہ مغربی سرحدی ضلع چاغی میں جوابی ایٹمی دھماکوں سے پیدا ہونے والی مبینہ حدت کو نہ افغانستان نے محسوس کیا اور نہ ہی ایران نے گھاس ڈالی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ٹرینوں کو تو خیر ویسے بھی لیٹ ہونے کا بہانہ چاہیے مگر دھند نے تو انہیں واقعی لیٹا دیا ہے

اسی طرح آٹھ اکتوبر 2005 کو جب شمالی پاکستان میں تباہ کن زلزلہ آیا تو کچھ ویہلوں کی یہ تھیوری سامنے آئی کہ دراصل امریکہ نے جیولوجیکل ہتھیار کا زیرِ زمین آزمائشی تجربہ کر کے پاکستان کی ارضیاتی پلیٹوں کو سرکا دیا۔ یوں زلزلہ آ گیا۔ تبھی تو خفت مٹانے کے لیے امریکہ نے اپنے شنوک امدادی ہیلی کاپٹر فٹا فٹ پاکستان بھیج دیے۔

پاکستان میں گذشتہ پانچ برس سے سموگ کا دورانیہ اور دائرہ مسلسل بڑھ رہا ہے۔ پہلے دو برس تک محکمہ موسمیات کو سمجھ میں ہی نہ آیا کہ دھند اتنی ڈھیٹ کیسے ہو گئی۔ جب سمجھ میں آیا تو یہ آیا کہ اگر بھارتی پنجاب کے کسان اپنے کھیتوں کو فصل کی کٹائی کے بعد صاف کرنے کے لیے آگ نہ لگائیں تو سرحد پار سموگ نہیں بنے گا۔

گذشتہ برس یہ رپورٹ آئی کہ بھارتی پنجاب پر ہمارے موسمیاتی سیارے نے تقریباً ایک لاکھ کھیتوں میں آگ لگی دیکھی۔ اور اس برس اکتوبر کے آخری ہفتے میں چھ ہزار کھیتوں میں آگ لگائی گئی اور نومبر کے وسط تک کئی ہزار مزید کھیتوں میں خریف کا فضلہ نذرآتش کیا جائے گا تاکہ ربیع کے لیے زمین صاف ہو سکے۔

میں سوچ رہا ہوں کہ پنجاب کا کسان بھلے اس طرف کا ہو یا اس طرف کا اپنے کھیت پیڑھی در پیڑھی اسی طرح صاف کرتا آ رہا ہے۔ کیونکہ ریاست نے اس کا متبادل مہیا ہی نہیں کیا۔ اگر سموگ کا بڑا سبب کھیت کی آگ کا دھواں ہے تو پھر سموگ کی اصطلاح پھچلے پانچ برس سے ہی کیوں سنائی پڑ رہی ہے۔اس کو تو سو برس پہلے ایجاد ہو جانا چاہیے تھا۔

سمبگ کے بارے میں مزید پڑھیے

جگت بازی تمام مسائل کا حل ہے

’سموگ کی صورت میں کارخانوں کو بند کرنے پر غور‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption انڈیا کے دارالحکومت دہلی بھی سموگ کی زد میں ہے

اچھا تو پھر دلی میں سموگ کیوں ہے؟ بیجنگ میں سموگ کیوں ہے؟ سموگ سے سب سے زیادہ متاثر لاہور تا گجرات جی ٹی روڈ کے دونوں جانب کی گنجان صنعتی پٹی پر شائد ہی کوئی قطعہِ زمین خالی نظر آئے۔ لگتا ہے پاکستان کی سب سے بڑی صنعتی پٹی پر 122 کلو میٹر تک ایک ہی شہر دوڑے چلا جا رہا ہے۔جبکہ دوسری صنعتی پٹی شیخوپورہ تا فیصل آباد تک چل رہی ہے۔

اگر صرف اسی صنعتی پٹی کے کارخانوں کی چمنیاں بدل دی جائیں؟ سڑکوں پر رواں ’ماحول دوست دھواں‘ چھوڑنے والی گاڑیوں کے جعلی فٹنس سرٹیفکیٹس کے معاملے میں قانونی سفاکی دکھائی جائے تو سموگ میں آدھی کمی آ سکتی ہے؟

ایک ایسے وقت جب ہمیں بھارتی پنجاب کی جانب سے حملہ آور سموگ کا سامنا ہے فی الحال یہ پوچھنا مناسب نہیں لگتا کہ پچھلے 70 برس میں کتنی فیکٹریوں کو آلودگی پھیلانے کا جرمانہ بھرنا پڑا؟ کچرا جلانے کے کتنے پلانٹس آپ اب تک نصب کر چکے؟ ( کیا سموگ کا خاتمہ بھی سی پیک کے گلے میں ڈالا جا سکتا ہے؟)

جس دن آپ نے ان میں سے آدھے کام بھی کر لیے تب آپ کا یہ کہنا بھی جائز ہو گا کہ ہم نے تو ضروری اقدامات کر لیے مگر یہ پڑوسی ملک دھواں دھار دہشت گردی پر اترا ہوا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

فرض کریں اگلے برس پنجاب کے کسان کھیتوں کو آگ نہیں لگاتے مگر سموگ پھر بھی آپ کو اپنی چپیٹ میں لے لیتا ہے تب کیا فرمائیے گا؟ دونوں ممالک سموگ جیسی بلاؤں سے مشترکہ طور پر نپٹنے کے بعد ایک دوسرے سے نپٹ لیں تو کوئی پرابلم ہے؟

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں