’انڈیا سے آنے والے دھوئیں کے بادل سموگ کی ایک وجہ ہے‘

سموگ
Image caption چہرے اور منہ کو ڈھانپ کر رکھنا سموگ سے بچنے کی احتیاطی تدابیر میں شامل ہے

ماحولیاتی آلودگی لاہور کے لیے گھمبیر اور پرانا مسئلہ ہے۔

ملک کے اس دوسری بڑے شہر میں آلودگی کا ذمہ دار ہائیڈرو کاربن فیول یعنی کیمیائی ایندھن کو سمجھا جاتا ہے۔

شہر میں چلنے والی لاکھوں گاڑیاں اور سینکڑوں چھوٹے اور درمیانے درجے کی صنعتیں یہ ایندھن استعمال کرتی ہیں، جس سے پیدا ہونے والا دھواں لاہور کی فضا کو آلودہ کرتا رہا ہے۔ تاہم گذشتہ چند سالوں سے نومبر کا مہینہ شروع ہوتے ہی لاہور پر گہری دھند کے بادل چھا جاتے ہیں۔

یہ دھند پانی کے بخارات سے وجود میں آنے والی عام دھند سے مختلف ہے۔ اس میں دھواں شامل ہوتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ اسے ’سموگ‘ کا نام دیا جاتا ہے جو انگریزی کے الفاظ فوگ اور سموک کا مجموعہ ہے۔

یہ بھی پڑھیے

پاکستان میں میڈ ان انڈیا سموگ

'لاہور تم میری جان لے رہے ہو'

گذشتہ چند روز سے لاہور کو مسلسل اپنی لپیٹ میں لیے ہوئے یہ سموگ کیسے بنتی ہے اور یہ نومبر ہی کے مہینے میں کیوں آتی ہے جبکہ فضائی آلودگی تو تقریباً پورا سال رہتی ہے؟

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے صوبہ پنجاب کے محکمہ ماحولیاتی تحفظ کے سیکریٹری سیف انجم نے اس کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ اس کی بنیادی وجہ موسم سرما کے آغاز پر درجۂ حرارت میں کمی، نمی میں اضافہ اور فضا میں پائی جانے والی آلودگی کے ساتھ پڑوسی ملک انڈیا سے آنے والے دھوئیں کے بادلوں کا مجموعہ ہے۔

’ان دنوں جب درجۂ حرارت گرتا ہے اور ہوا میں نمی بڑھتی ہے تو وہ فضا میں موجود آلودگی کے ذرات کے انجماد کا سبب بنتی ہے جس سے سموگ پیدا ہوتی ہے۔‘

Image caption سموگ سے بچنے کے لیے عوام کو یہ مشورہ بھی دیا جا رہا ہے کہ بلاضرورت سفر سے گریز کریں

فضا میں موجود بخارات کو منجمد کرنے کے لیے ذرات کی ضرورت ہوتی ہے۔

کیمیائی ایندھن کے جلنے اور دیگر ذرائع سے پیدا ہونے والی فضائی آلودگی میں بے پناہ اضافہ اس وقت ہوتا ہے جب اکتوبر کے اختتام پر کاشتکار چاول کی فصل اٹھانے کے بعد اس کی منڈھی کو تلف کرنے کی غرض سے اسے آگ لگاتے دیتے ہیں۔

یہ عمل لاہور سمیت پاکستان کے صوبہ پنجاب کے بیشتر علاقوں میں کیا جاتا ہے تاہم سیف انجم کا کہنا ہے کہ اس سے کہیں زیادہ یہ انڈیا میں ہوتا ہے۔

’بین الاقوامی رپورٹوں کے مطابق گذشتہ برس پاکستان کے مشرق (انڈیا) میں 3.2 کروڑ ٹن کی مقدار میں دھان کی فصل کا منڈھ جلایا گیا۔‘

امریکی خلائی ادارے ناسا کے مصنوعی سیاروں سے لی گئی تازہ ترین تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ رواں برس بھی شمالی انڈیا میں دھان کی فصل کے منڈھ جلائے جانے والے مقامات کی تعداد پاکستان کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ ہے۔

پاکستان اور انڈیا کے شمال میں پہاڑی سلسلے واقع ہیں جو دیوار کا کام کرتے ہیں اور اس طرح چاول کے منڈھ جلانے سے پیدا ہونے والا یہ دھواں فضا میں معلق رہتا ہے اور ہوا کے ساتھ دور دور تک سفر کرتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ NASA
Image caption ناسا کی خلا سے لی گئی تصویر میں انڈیا اور پاکستان میں دھان کی منڈھی جلنے سے اٹھنے والا دھواں دیکھا جا سکتا ہے

اس سے پیدا ہونے والی دھند کی وجہ سے حد نگاہ میں خاصی کمی واقع ہوتی ہے جو پاکستان اور انڈیا کے بیشتر علاقوں تک پھیل جاتی ہے۔

’رواں برس بھی حد نگاہ میں یہ کمی انڈیا میں دلی اور انبالہ سے لے کر پاکستان میں لاہور، فیصل آباد اور یہاں تک کہ اس بار یہ بہالپور تک جا پہنچی ہے‘۔

ماحولیات کے وکیل رافع عالم کہتے ہیں کہ ’اگر ایک ملک اپنی آلودگی دوسرے ملک میں پھیلا رہا ہو تو اس پر بین الاقوامی طور پر مقدمہ چلایا جا سکتا ہے جس میں اس کو جرمانہ بھی ہو سکتا ہے۔ تاہم اس کے لیے ضروری ہے کہ اس کے ایسا کرنے کے شواہد پیش کیے جائیں۔

’جب تک فضائی آلودگی ناپنے والے میٹر کے ذریعے ثبوت اکٹھے نہ کیے جائیں ہم یقین سے نہیں کہہ سکتے کہ اس کے ذرائع کیا ہیں۔ پاکستان کے صوبہ پنجاب میں اب تک صرف چھ مقامات پر یہ میٹر نصب ہیں اور ان سے حاصل کردہ اعداد و شمار بھی تاحال منظر عام پر نہیں لائے گئے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ فضائی آلودگی کا یہ مسئلہ صرف پاکستان اور انڈیا کی مابین نہیں ہے، یہ دنیا کے دیگر ممالک کے درمیان بھی رہا ہے جیسا کہ جنوب مشرقی ایشیا کے ممالک جو آج سے 15 برس قبل اس پر قابو پانے کے لیے آپس میں معاہدے کر چکے ہیں۔

’پاکستان اور انڈیا بھی یہ کر سکتے ہیں، اگر دونوں اطراف کی حکومتیں ایسا کرنے پر راضی ہو جائیں‘۔

رافع عالم کے مطابق پاکستان میں آلودگی کی بڑی وجوہات دھواں چھوڑتی گاڑیاں اور ایسی صنعتیں ہیں جہاں کیمیائی ایندھن کا استعمال ماحولیاتی تحفظ کے اصولوں کے مطابق نہیں کیا جاتا۔

’شہروں میں بھی جو فیکٹریاں کام کر رہی ہیں ان پر کسی قسم کی نگرانی نہیں ہے جس کے ذریعے دیکھا جا سکے کہ وہاں کس قسم کا ایندھن جلایا جا رہا ہے یا وہاں ٹائر جلائے جا رہے ہیں۔‘

تاہم صوبہ پنجاب کے محکمہ ماحولیاتی تحفظ کے سیکریٹری سیف انجم کا کہنا ہے کہ کم از کم پنجاب حکومت تمام تر صورتحال سے اچھی طرح واقف ہے۔

’مختلف حکومتی ایجنسیاں باہم مشاورت کے ساتھ سموگ اور آلودگی کے خاتمے کے لیے کام کر رہی ہیں۔ ہم نے سینکڑوں کاشتکاروں کے خلاف دھان کی منڈھی جلانے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے مقدمات درج کیے ہیں۔‘

Image caption پنجاب حکومت صورتِ حال سے اچھی طرح واقف ہے: سیف انجم، سیکریٹری تحفظِ ماحولیات

ان کا کہنا تھا کہ انڈیا کے بارے میں وفاقی حکومت کو آگاہ کر دیا گیا ہے جبکہ ماحولیاتی آلودگی کے اندرونی ذرائع پر قابو پانے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ان میں ایسی صنعتوں کے خلاف اقدامات شامل ہیں جو آلودگی پھیلانے کا سبب بنتی ہیں۔

’جو ہمارے دائرہ اختیار میں ہے وہاں ہم حکومتِ پنجاب کی پالیسی کے مطابق کام کر رہے ہیں۔ جو عوامل ہمارے اختیار میں نہیں ان کے لیے ہمیں مطابقت پیدا کرنا پڑے گی۔‘

اس کے لیے ان کا کہنا تھا کہ حکومت عوام کو آگاہ کر رہی ہے کہ وہ سموگ کے مضر اثرات سے بچنے کی احتیاتی تدابیر استعمال کریں جن میں چہرے اور منہ کو ڈھانپ کر رکھنا اور بلاضرورت سفر سے گریز شامل ہیں۔

اسی بارے میں