’ہزارہ ریسٹورنٹ کا آغاز کسی کی سوچ کی پروا کیے بغیر کیا‘

ہزارہ قبیلے سے تعلق رکھنے والی نائلہ ہزارہ گذشتہ پانچ سال سے مری آباد کی سبزی مارکیٹ میں سبزی فروخت کررہی ہیں تاکہ ان کا اور ان کے گھر والوں کا گزر بسر ہو سکے۔

وہ عمر کے جس حصے میں ہیں وہ آرام کا متقاضی ہے مگر گھر میں آرام کی بجائے صبح سے شام تک وہ اس مارکیٹ میں ہوتی ہیں۔ ان کا شوہرجو کہ خاندان کے واحد کفیل تھے ٹارگٹ کلنگ کے ایک واقعے میں ہلاک کر دیے گئے۔

انھوں نے بتایا 'میرے شوہر ان چھ سات لوگوں میں شامل تھے جو کہ سبزی خریدنے کے لیے ہزارگنجی گئے تھے۔ وہ ان لوگوں کے ساتھ ایک حملے میں مارا گیا۔'

ہزارہ کہاں جائیں؟

۔۔۔تو بھاگ گیا

جماعت الاحرار، لشکر جھنگوی العالمی کالعدم تنظیموں میں شامل

انھوں نے مزید بتایا 'بچوں کے خرچے ہیں۔ ان کی سکول کی فیس ہے اور دیگر اخراجات ہیں جس کی وجہ سے میں یہاں کام کر رہی ہوں۔'

سابق صدر جنرل (ریٹائرڈ ) پرویز مشرف کے دور میں بلوچستان میں حالات کی خرابی کے بعد ہزارہ قبیلے کے لوگوں کی ایک بڑی تعداد ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنی۔ اس ٹارگٹ کلنگ کے نتیجے میں بہت سارے خاندان اپنے کمانے والوں سے محروم ہوگئے۔

ٹارگٹ کلنگ سے متاثرہ خاندانوں میں سے بعض کی خواتین ہزارہ ٹاؤن میں قائم کیے جانے والے ایک ہوٹل میں بھی کام کررہی ہیں۔

چند ہفتے قبل قائم کیے جانے والے اس ہوٹل کا سب سے نمایاں پہلو یہ ہے کہ اس کی مالکن سے لے کر تمام عملہ خواتین پر مشتمل ہے۔

ہوٹلنگ کے شعبے میں بلوچستان میں خواتین کی جانب سے یہ اپنی نوعیت کا پہلا قدم ہے۔

ہوٹل کی مالکن حمیدہ علی ہزارہ کہتی ہیں کہ ہوٹل کے قیام کا مقصد خواتین کو معاشی طور پر مستحکم کرنا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ خواتین کو اقتصادی طور پر مضبوط کرنے کے لیے انھوں نے یہ قدم اٹھایا۔

انھوں نے بتایا کہ اگر کام کرنے والی خواتین کی شرح بڑھ جائے تو وہ معاشرے میں اہم کردار ادا کرسکتی ہیں۔

'اسی سوچ کو مد نظر رکھ کر میں نے ہزارہ ریسٹورنٹ کی بنیاد رکھی۔ میں نے کسی کی پروا کیے بغیر، کسی کی سوچ کی پروا کیے بغیر یہ کام کیا۔ مجھے خوشی ہے کہ اس میں مجھے کامیابی ملی۔'

اس ریسٹورنٹ میں کام کرنے والی ایک خاتون معصومہ کا کہنا ہے کہ انھوں نے اس ریسٹورنٹ میں آنے والے لوگوں سے حوصلہ شکنی کی کوئی بات نہیں سنی۔

'جتنے بھی لوگ آئے انھوں نے مجھے عزت دی اور اس بات کو سراہا اور شاباشی دی کہ ایک لڑکی ہوکر میں یہاں کام کررہی ہوں۔'

ہزارہ ریسٹورنٹ کے قریب ہی واقع ایک بینک کے دورے پر آنے والے ایک بینکر پرویز احمد نے بتایا کہ وہ اس ریسٹورنٹ اس کے بارے میں بہت باتیں سن کر کھانا کھانے آئے۔ 'ریسٹورنٹ بہت اچھا ہے۔ کھانا بھی اچھا ہے اور نرخ بھی مناسب ہیں۔'

ہزارہ قبیلے کی خواتین میں اس نوعیت کے کاروبار میں حصہ لینے کے بڑھتے ہوئے رحجان کی بعض وجوہات کے بارے میں ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی (ایچ ڈی پی) کے صدر عبد الخالق ہزارہ کا کہنا ہے کہ بنیادی طور پر ہزارہ قوم ایک تعلیم یافتہ قوم ہے۔

'ہزارہ قبیلے کے لوگ لبرل اور بہت جمہوریت پسند بھی ہیں۔ وہ خصوصی طور پر جنسی مساوات پر یقین رکھتے ہیں اور ہم اس کو فروغ بھی دے رہے ہیں۔'

ایچ ڈی پی کے سربراہ نے بتایا کہ ہزارہ برادری کی آدھی آبادی خواتین پر مشتمل ہے۔ 'آپ نے دیکھا کہ ہماری خواتین میڈلز جیت کر آرہی ہیں۔ وہ کھیلوں میں بلوچستان اور ملک کی نمائندگی کر رہی ہیں۔'

انھوں نے کہا کہ جب چھٹی ہوتی ہے تو علمدار روڈ میں بچوں سے زیادہ بچیاں سڑکوں پر نظر آتی ہیں اور وہ اچھے مارکس بھی لے رہی ہیں۔'

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں