’ایم کیو ایم کے نام، جھنڈے اور نشان کو ختم نہیں کیا جائے گا‘

Image caption فاروق ستار نے گزشتہ برس ایم کیو ایم کے بانی سے اپنی راہیں علیحدہ کر لی تھی

بی بی سی اردو سیربین ٹی وی کے لیے ایک انٹرویو میں پاک سرزمین پارٹی سے ملاپ کے بارے میں وضاحت کرتے ہوئے متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے رہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ یہ ایک سیاسی اتحاد ہے جس کو انتخابی اتحاد میں بھی تبدیل کیا جا سکتا ہے۔

فاروق ستار سے سوال یہ پوچھا گیا تھا کہ کیا دونوں پارٹیوں کو قریب لانے میں کوئی ہاتھ کارفرما ہیں یا یہ کسی دباؤ کے نتیجے میں ممکن ہوا ہے۔ اس سوال کے جواب میں فاروق ستار نے کہا کہ کراچی کے دانشور حلقوں سے لے کر عام آدمی تک کی یہ ہی خواہش تھی کہ ووٹ بینک تقسیم نہیں ہونا چاہیے اور امن قائم رہنا چاہیے۔

یہ بھی پڑھیے

ایم کیو ایم اور پی ایس پی: ایک نام اور ایک نشان

کیا یہ اتحاد ’ایک ڈراما‘ ہے؟

فاروق ستار نے نوے کی دہائی میں ایم کیو ایم سے ٹوٹ کر ایک نئے دھڑے کے وجود میں آنے کے بعد کراچی شہر میں جو تشدد ہوا تھا اس کا حوالے دیتے ہوئے کہا کہ کوشش یہی ہے کہ سیاسی تشدد سے بچا جائے اور عدم تشدد اور عدم تصادم کی پالیسی کی کامیابی کو یقینی بنایا جائے۔

اس سوال کے جواب میں کہ اس اتحاد کا زیادہ فائدہ دوسرے فریق کو ہو گا، فاروق ستار کا کہنا تھا کہ پانچ نومبر کے جلسے نے ثابت کر دیا ہے کہ ایم کیو ایم بڑی جماعت ہے اور بڑا حصہ اس کا ہے۔ پاک سرزمین پارٹی کی طرف سے چند ماہ قبل کیے جانے والے 'ملین مارچ' کے بارے میں انھوں نے کہا کہ سب نے دیکھ لیا کہ اس میں کتنے لوگ تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے سندھ کی دیگر جماعتوں کو بھی اس اتحاد میں شمولیت کی دعوت دی

ایم کیو ایم کے پانچ نومبر کو کیے گئے جلسے کے بارے میں انھوں نے مزید کہا کہ ایم کیو ایم کے مخالف ٹی چینلوں نے بھی جس طرح اس جلسے کی کوریج کی اس سے واضح کر دیا کہ لوگ کس کے ساتھ ہیں۔

انھوں نے کہا کہ دورس سیاسی بصیرت اور تدبر کا تقاضہ یہ تھا کہ مستقل قریب میں حاصل ہونے والے سیاسی فائدے اور نقصان سے بلند ہو کر فیصلہ کیا جائے۔ انھوں نے مزید کہا کہ اگر کوئی چھوٹا فریق ہے تو اسے انگلی پکڑا کر چلانا ہے، اسے راستہ دینا ہے۔

پاک سرزمین پارٹی کی سوچ کے بارے میں انھوں نے کہا کہ اگر وہ یہ سمجھتے ہیں کہ مہاجروں پر مظالم ختم ہو گئے اور مہاجروں کے نام پر سیاست نہیں کی جانی چاہیے کیونکہ پنجابی، پختون اور سندھی برا مانتے ہیں، تو ایسا نہیں ہے۔

یہ بھی پڑھیے

ایم کیو ایم پاکستان یا لندن کی شکست؟

’ایم کیو ایم وہی جس کے قائد الطاف حسین ہیں‘

ایم کیو ایم پاکستان نئی پہچان کے لیے کوشاں

کراچی میں ایم کیو ایم حقیقی کی حقیقت

انھوں نے کہا کہ سندھی، پنجابی اور پختون بھی دیکھتے ہیں کہ ایک ہی منظم اور پڑھے لکھوں کی جماعت ہے اور کراچی کے مسائل کو یہ سمجھتے ہیں اور اس کا حل بھی ان ہی کہ پاس ہے۔

پاکستان پیپلز پارٹی، پاکستان مسلم لیگ نواز اور پاکستان تحریک انصاف کے بارے میں انھوں نے کہا کہ دراصل ان قومی جماعتوں کو زیادہ حمایت لسانی بنیادوں پر ہی حاصل ہے۔ انھوں نے کہا کہ 'میرے پی ایس پی کے بھائیوں کو یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے‘۔

سابق فوجی صدر جنرل پرویز مشرف کے اس نئے اتحاد کی سربراہی سنبھالنے کے بارے میں سوال پر فاروق ستار نے سابق فوجی صدر کو ایم کیو ایم کی پالیسی سازی میں اعلیٰ سطح پر شامل کرنے کے امکان کو رد نہیں کیا اور کہا کہ 'ہمارے دروازے سب کے لیے کھلے ہیں۔'

انھوں نے کہا کہ ایم کیو ایم کا سابق صدر سے درینہ تعلق رہا اور انھوں نے ان کے ساتھ کام بھی کیا ہے۔

فاروق ستار نے اسی سوال کی مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ستمبر دو ہزار سولہ میں ان کی صدر مشرف سے آخری مرتبہ بات ہوئی تھی۔ انھوں نے کہا کہ صدر مشرف نے ان کے ایم کیو ایم لندن سے علیحدہ ہونے کے فیصلے کو سراہا تھا اور نئی پارٹی بنانے کا مشورہ دیا تھا جسے انھیں نے تسلیم کرنے سے انکار کر دیا تھا۔

اسی بارے میں