الطاف حسین: زیرو میں زیرو جمع کریں تو زیرو ہی رہے گا

الطاف حسین تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption الطاف حسین کا کہنا ہے کہ عوام آج بھی ان کے ساتھ ہیں

متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین کا کہنا ہے کہ پاک سرزمین پارٹی اور ایم کیو ایم (پاکستان) کا ملاپ ملک کی فوجی اسٹیبلشمنٹ کی ایما پر ہو رہا ہے۔

'یہ دونوں جو مل رہے ہیں ان کا مرکز ایک ہی ہے۔ منزل اور مقام ایک ہی ہے اور وہ ہے پاکستان کی فوجی اسٹیبلشمنٹ۔'

انہوں نے کہا کہ یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ ملک کی واحد اینٹی اسٹیبلشمنٹ جماعت ایم کیو ایم ہے اور الطاف حسین واحد اینٹی اسٹیبلشمنٹ لیڈر ہے۔

یہ بھی پڑھیے

’ایم کیو ایم کے نام، جھنڈے اور نشان کو ختم نہیں کیا جائے گا‘

ایم کیو ایم اور پی ایس پی: ایک نام اور ایک نشان

کیا یہ اتحاد ’ایک ڈراما‘ ہے؟

الطاف حسین سے جب پوچھا گیا کہ کیا وہ سمجھتے ہیں کہ پی ایس پی اور ایم کیو ایم (پاکستان) مل کر انتخابات میں ایک بڑی قوت بن سکتے ہیں تو ان کا کہنا تھا کہ 'عوام کل بھی میرے ساتھ تھے اور آج بھی میرے ساتھ ہیں، ایم کیو ایم کے ساتھ ہیں۔ یہ زیرو میں زیرو جمع کرتے رہیں، ایک ہزار مرتبہ کریں پھر بھی زیرو تو زیرو ہی رہے گا کبھی ایک نہیں ہو سکتا‘۔

بی بی سی اردو سروس کے پروگرام سیربین کی میزبان عنبر خیری نے جب اُن سے پوچھا کہ ڈاکٹر فاروق ستار اور مصطفیٰ کمال میں سے بہتر رہنما کون ہے تو الطاف حسین نے کہا کہ اگر کسی کچرے گھر کے دو حصے کر دیے جائیں تو کون سا حصہ اچھا ہو سکتا ہے؟ ’کچرا کچرا ہوتا ہے، دونوں ہی کچرے ہیں‘۔

انھوں نے کہا کہ فوج پر تنقید کرنے سے اگر ان کی پاکستان میں سیاست کے راستے مسدود ہوتے ہیں تو انہیں اس سے کوئی غرض نہیں ہے۔

'میں نے اپنی پوری زندگی لوگوں کو یہ شعور دینے میں لگا دی ہے کہ اٹھو، پاکستان کی فوج ہونی چاہیے، فوج کا پاکستان نہیں ہونا چاہیے'

یہ بھی پڑھیے

ایم کیو ایم پاکستان یا لندن کی شکست؟

’ایم کیو ایم وہی جس کے قائد الطاف حسین ہیں‘

ایم کیو ایم پاکستان نئی پہچان کے لیے کوشاں

کراچی میں ایم کیو ایم حقیقی کی حقیقت

الطاف حسین نے کہا کہ ابھی بھی انہیں عوام کی سو فیصد حمایت حاصل ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’مسلم لیگ نون اور پیپلز پارٹی سمیت پاکستان کی ہر سیاسی جماعت جی ایچ کیو میں سجدے کرتی ہے‘۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ اس صورتحال میں ان کی انتخابی حکمت عملی کیا ہو گی تو ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں اس وقت تک جمہوریت نہیں آ سکتی نہ ہی انتخابات سے کچھ ہو گا جب تک فوجی اسٹیبلشمنٹ کی مداخلت ختم نہیں ہو گی۔

ان اطلاعات کے بارے میں کہ پی ایس پی اور ایم کیو ایم (پاکستان) کے ایک جماعت بننے کے بعد جنرل پرویز مشرف اس کی قیادت کر سکتے ہیں، انہوں نے کہا کہ جنرل مشرف نے ان کے ساتھ کئی ملاقاتوں میں کہا تھا کہ وہ پنجاب سے سیاست شروع کریں گے لیکن جب پنجاب نے انہیں ٹھینگا دکھا دیا تو اب وہ مہاجروں کی طرف دیکھ رہے ہیں۔

اسی بارے میں