ہاکی کی تباہی میں سابق اولمپیئنز بھی ذمہ دار ہیں: منظور جونیئر

تصویر کے کاپی رائٹ ZAFAR AHMED
Image caption ماضی میں پاکستانی ٹیم کا شمار دنیا کی بہترین ٹیموں میں ہوتا تھا (فائل فوٹو)

پاکستانی ہاکی ٹیم کی آسٹریلیا میں جاری چار ملکی ٹورنامنٹ میں بدترین کارکردگی پر سابق اولمپیئنز نے مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان ہاکی فیڈریشن میرٹ کو پس پشت ڈال کر مطلوبہ نتائج دینے میں بری طرح ناکام رہی ہے۔

خیال رہے کہ آسٹریلیا کے خلاف اس ٹورنامنٹ میں نو ایک کے سکور سے شکست پاکستان کی ہاکی کی تاریخ میں بدترین شکست ہے۔

یہ بھی پڑھیے

ہاکی: آسٹریلیا کے بعد جاپان نے بھی پاکستان کو ہرا دیا

ورلڈ کپ ہاکی کوالیفائنگ راؤنڈ، پاکستان کا سخت امتحان

ریگستان میں خواتین کی آئس ہاکی ٹیم

1984 کے لاس اینجلس اولمپکس میں طلائی تمغہ جیتنے والی پاکستانی ٹیم کے کپتان منظور جونیئر نے دبئی سے بی بی سی اردو کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ قومی ہاکی کی تباہی دراصل 17 سال پہلے شروع ہوگئی تھی اور آج یہ مکمل طور پر تباہ و برباد ہوگئی ہے۔

منظور جونیئر نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’پاکستان ہاکی فیڈریشن کی باگ ڈور چلانے والے اولمپیئنز نے پاکستانی ہاکی کو تباہ کردیا ہے۔

منظور جونیئر نے کہا کہ پاکستانی ہاکی کی تباہی میں وہ سابق اولمپیئنز بھی برابر کے شریک ہیں جو باہر بیٹھ کر فیڈریشن کو ہاکی کی بہتری کے لیے تجاویز دیتے ہیں اور فیڈریشن پر تنقید کرتے ہیں لیکن جب انہیں فیڈریشن میں شامل کرلیا جاتا ہے تو وہ مصلحت پسندی کا شکار ہوکر خاموش ہو جاتے ہیں لیکن جب انہیں فیڈریشن سے باہر کیا جاتا ہے تو ان کی تنقید دوبارہ شروع ہو جاتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پاکستان کی ہاکی ٹیم چار مرتبہ ورلڈ کپ جیت چکی ہے (فائل فوٹو)

منظور جونیئر کا کہنا ہے کہ کسی نے بھی یہ نہیں سوچا تھا کہ پاکستانی ٹیم اپنی تاریخ کی بدترین شکست سے دوچار ہوگی اور ایسا وقت بھی دیکھنا پڑے گا کہ پاکستان ہاکی فیڈریشن بنگلہ دیش اور سری لنکا جیسی ٹیموں سے جیتنے پر خوشی محسوس کرے گی۔

منظور جونیئر کا کہنا ہے کہ ’پاکستان کی ہاکی اس وقت تک دوبارہ کسی بہتر مقام پر نہیں آسکتی جب تک پاکستان ہاکی فیڈریشن میں میرٹ پر تقرریاں نہیں ہوں گی اور پسند ناپسند کو ختم نہیں کیا جائے گا‘۔

منظور جونیئر کا کہنا ہے کہ پاکستان کی ہاکی اس وقت وینٹی لیٹر پر ہے اور کسی بھی وقت ہم اسے شہر خموشاں میں دیکھیں گے۔ موجودہ فیڈریشن کے طور طریقے دیکھتے ہوئے انہیں یقین نہیں کہ اگلے پانچ دس سال میں بھی پاکستانی ہاکی کھویا ہوا مقام دوبارہ حاصل کرسکے۔

پاکستان کی قومی ہاکی ٹیم کے ایک اور سابق کپتان منظورالحسن نے بی بی سی اردو کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ ’پاکستان ہاکی فیڈریشن کے عہدیدار خود بھی سیر سپاٹے کر رہے ہیں اور اپنے ہم خیال سابق کھلاڑیوں کو بھی غیرملکی دورے کرا رہے ہیں جبکہ ٹیم کی کارکردگی سب کے سامنے ہے‘۔

منظور الحسن کا کہنا ہے کہ انہیں یہ جان کر حیرت ہوئی ہے کہ سندھ کی حکومت نے پاکستان ہاکی فیڈریشن کے لیے دس کروڑ روپے کا اعلان کیا ہے۔

’ماضی میں بھی فیڈریشن کو حکومتوں کی طرف سے کروڑوں کی امداد ملتی رہی ہے لیکن ان پیسوں کا کوئی حساب کتاب موجود نہیں۔ اگر یہ پیسے ہاکی کی ترقی پر لگائے گئے ہوتے تو نیب کی طرف سے ہاکی فیڈریشن کو نوٹسز کیوں آتے۔ مبینہ کرپشن کی تحقیقات بھی سرد خانے کی نذر ہوگئی‘۔

منظور الحسن نے کہا کہ ’ایک جانب پاکستان ہاکی فیڈریشن جونیئر اور ڈیولیپمنٹ ٹیموں کے غیرملکی دوروں کے گن گاتی ہے لیکن دوسری جانب ان ٹیموں کا کوئی بھی کھلاڑی سینئر ٹیم میں جگہ نہیں بنا پاتا‘۔

منظور الحسن نے کہا کہ ’دکھ کی بات تو یہ ہے کہ پاکستان ہاکی فیڈریشن کے کرتا دھرتا اس وقت آسٹریلیا میں مزے سے بیٹھے ہوئے ہیں اور فیڈریشن کے ملازمین تنخواہیں وقت پر ملنے سے محروم ہیں‘۔

اسی بارے میں