اسحاق ڈار شریف خاندان کے لیے کیوں ناگزیر؟

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پاکستان مسلم لیگ کی حکومت نے چار برس کی شدید تنقید کے بعد وزارتِ خارجہ جیسے اہم قلمدان کو نواز شریف کی نااہلی کے بعد پُر کیا ہی تھا کہ خزانہ کی اہم ترین وزارتِ وزیر خزانہ پر مقدمات کی وجہ سے عملاً غیر فعال اور مفلوج ہو کر رہی گئی ہے۔

دوسری جانب ملک میں حزب مخالف سمیت مختلف حلقوں کی جانب سے حکومت پر دباؤ بڑھ رہا ہے کہ آخر کیوں یہ ایک ایسے وزیر خزانہ کو ہٹانے میں سنجیدہ نہیں جس پر منی لانڈرنگ کے الزامات ہیں اور عدالت ان کے ناقابل ضمانت ورانٹ گرفتاری جاری کر چکی ہے۔

’ڈار کا وزیر خزانہ ہونا نقصان دہ ہے‘

وزیر خزانہ اسحاق ڈار کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کی سفارش

پاکستان کے ایوان بالا سینیٹ کی فنانس کمیٹی کے چیئرمین اور پیپلز پارٹی کے رہنما سلیم مانڈوی والا نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وزیر خزانہ اسحاق ڈار ملک کے نہیں بلکہ شریف خاندان کے وزیر خزانہ ہیں۔

یہاں یہ بتانا ضروری ہے کہ نواز شریف کے تینوں اقتدار میں اسحاق ڈار اہم ترین عہدوں پر فائز رہے ہیں جس میں دو بار وزیر خزانہ کا عہدہ بھی شامل ہے اور شریف خاندان سے اسی قربت کے باعث سال دو ہزار چار میں اسحاق ڈار کے بیٹے کی شادی نواز شریف کی بیٹی سے جدہ میں ہوئی کیونکہ اس وقت نواز شریف وہاں جلا وطنی کی زندگی گزار رہے تھے۔

نواز شریف کے دوسرے دورۂ اقتدار میں جب زرمبادلہ کے اکاونٹس کو منجمد کیا گیا تھا اس وقت بھی وزارتِ خزانہ کا قلمدان اسحاق ڈار کے ہاتھ ہی میں تھا۔ شریف خاندان اور اسحاق ڈار کے تعلقات جو اب قریبی رشتہ داری میں بدل چکے ہیں بہت پرانے ہیں۔

سلیم مانڈوی والا کے مطابق اس وقت’شریف خاندان کی ذاتی مجبوریاں ہیں جن کے تحفط کے لیے وزیر خزانہ کو ہٹایا نہیں جا رہا ہے۔ مانڈوی والا نے کہا کہ ڈار نے ٹیکس ریکارڈ میں ٹمپرنگ یعنی ردو بدل کی ہے، اور اس کی سینیٹ کی کمیٹی تحقیقات کرنا چاہتی ہے لیکن ریکارڈ نہیں دیا جا رہا ہے جس میں کبھی کہا جاتا ہے کہ قانون اس کی اجازت نہیں دیتا تو کبھی یہ بہانا کیا جاتا ہے کہ یہ ہمارے پاس موجود نہیں ہے اور اسی وجہ سے سپریم کورٹ کو مدد کے لیے خط لکھا ہے۔

انھوں نے کہا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ کسی طرح سے اگر اسحاق ڈار کسی کیس میں شامل جرم ہوتے ہیں تو بطور وزیر خزانہ ہوں جس کی وجہ سے اگر کوئی گواہ سامنے آتا ہے تو ان کے اثرو رسوخ میں رہے۔‘

’ان ہی ذاتی مفادات کی وجہ سے ان کو عہدے پر رکھا جا رہا ہے یا اس میں التوا کیا جا رہا ہے جبکہ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ وزارتِ کو وٹس ایپ پر منظوری حاصل کر کے چلایا جا رہا ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ غیر فعال وزیر خزانہ کی وجہ سے اس وقت ملک کی مالی امورکی کوئی سمت نہیں ہے اور نہ ہی ان معاملات پر کسی قسم کی مشاورت ہو رہی ہے۔

اسحاق ڈار کے بارے میں مزید پڑھیے

’اسحاق ڈار چار منٹ سے زیادہ دیر تک پیدل نہیں چل سکتے‘

اسحاق ڈار پر فردِ جرم عائد، حاضری سے استثنیٰ کی درخواست مسترد

سب سے اہم گواہ سے سب سے کم تفتیش

پاکستان میں بڑھتے ہوئے تجارتی خسارے اور ملکی معیشت پر عالمی مالیاتی اداروں کی تحفظات کے تناظر میں ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کو آنے والے دنوں میں بیرونی ادائیگیوں میں توازن لانے کے لیے عالمی مالیاتی اداروں کے پاس جانا پڑے گا۔

تو اس صورتحال میں جب وزارتِ خزانہ کے وزیر خود احتساب عدالتوں کے چکر لگانے کے بعد اب لندن کے ہسپتال میں زیر اعلاج ہیں تو بین الاقوامی ادارے پاکستان کے کیس کو کتنی سنجیدگی سے لیں گے؟

اس پر سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ اس کے ساتھ بین الاقوامی سطح پر ملک کی کافی بدنامی ہو رہی ہے کیونکہ عالمی بینک، آئی ایم ایف اور دیگر عالمی ایجنیسوں نے اپنے قواعد کے مطابق وزیر خزانہ سے ملنے سے انکار کر دیا ہے تو وہ ملک کیسے چل پائے گا۔

انھوں نے کہا کہ یہ کہنا درست ہے کہ یہ شریف خاندان کے وزیر خزانہ ہیں کیونکہ ملک کے وزیر خزانہ پر فرم جرم عائد ہو چکی ہے لیکن وہ پھر بھی مستفی نہیں ہو رہا ہے تو اس سے واضح ہے کہ یہ اپنے ذاتی مفادات، نواز شریف اور ان کے خاندان کے مفادات کے تحفظ کے لیے بیٹھے ہیں۔

اس بارے میں وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کے سرمایہ کاری پر خصوصی میشر مفتاح اسماعیل نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی وزیر خزانہ کی عدم موجودگی میں اس وقت وزارت کا کام چل رہا ہے اور وزیراعظم خود وزارت کے معاملات کو دیکھ رہے ہیں۔

مفتاح اسماعیل نے کہا کہ اس وقت اسحاق ڈار صاحب کی بنائی ہوئی پوری ٹیم کام کر رہی ہے جس میں مشیر ہارون اختر، ایف بی آر کے چیئرمین اور فنانس سیکریٹری شامل ہیں اور وزارت کا کام چل رہا ہے اور کسی قسم کی ہدایت چاہیے ہوتی ہے تو وہ وزیراعظم سے مل جاتی ہے۔

حزب اختلاف کے اعتراضات اور دباؤ کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ کسی بھی شخص کو وزیر بنانے کا فیصلہ وزیراعظم کا ہوتا ہے اور ان کی صوابدید ہے تو ابھی تک وزیراعظم ڈار صاحب کی وزارت سے مطمئن ہیں اور اسی وجہ سے ان کو رکھا ہوا ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ اگر وزیراعظم مطمئن نہ ہوں تو ڈار صاحب بیمار ہیں یا نہیں، اس سے کیا فرق پڑتا ہے۔

اسی بارے میں