'مسئلہ عورت کے خلاف تشدد سے نہیں فلم سے ہے؟‘

ماہرہ خان تصویر کے کاپی رائٹ Hum Tv
Image caption ماہرہ خان کی فلم پر پابندی سوشل میڈیا پر زیرِ بحث ہے۔

سوشسلتان میں لوگوں نے سُکھ کا سانس لیا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے دھرنا دینے والے مذہبی رہنماؤں کو واپسی کا باعزت راستہ فراہم کیا کیونکہ لوگوں کے بقول ’دن بدن دھرنے میں لوگ کم ہو رہے تھے اور بارش اور سردی کی آمد نے رہی سہی کسر پوری کر دی تھی۔‘

جہاں ریاست چند سو افراد کے سامنے بے بس نظر آئی وہیں ریپ کے موضوع پر بننے والی فلم ’ورنہ‘ پر پابندی اور پھر اسے اٹھانے کے فیصلے پر لوگوں نے شدید غصے کا اظہار کیا اور اس ہفتے اسی موضوع پر بات کریں گے۔

'پرابلم ریپ سے ہے یا سیاستدان کے بیٹے سے‘

شعیب منصور کی فلم ’ورنہ‘ کو مرکزی فلم سنسر بورڈ نے نمائش کی اجازت دینے سے انکار کیا اور بعد میں خبر آئی کہ فلم کچھ مناظر کاٹنے کے بعد نمائش کے لیے پیش کی جائے گی، اور آخری خبر یہ کہ فلم کاٹ پیٹ کے بغیر نمائش کے لیے پیش کی جا رہی ہے۔

حکمران جماعت سے تعلق رکھنے والی رکن پنجاب اسمبلی حنا بٹ نے لکھا کہ 'سنسر بورڈ کو مسئلہ اس بات سے ہے کہ ریپ کے موضوع کو اتنے بے باک طریقے سے سامنے لایا گیا اور ریپ کرنے والا گورنر کا بیٹا ہے۔'

اس فلم میں مرکزی کردار ادا کرنے والی اداکارہ ماہرہ خان نے اس پر ٹویٹ کی کہ 'لوگوں کی آواز کی طاقت مزید بڑھے ان چند افراد کی آواز سے جو بااثر ہیں۔'

سیرت خان نے اس فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے لکھا 'خواتین کے 'خلاف چین آئے نا' یا 'پنجاب نہیں جاؤں گی' فلموں میں دکھائے گئے تشدد پر سنسر بورڈ کو کوئی اعتراض نہیں ہوتا مگر اس ملک میں ایک فلم جو ریپ کے موضوع اور اس سے متاثر ہونے والے کے مسائل پر بات کرتی ہے پر پابندی لگا دی جاتی ہے۔'

تجزیہ کار حسن زیدی نے سنسر بورڈ کے اراکین کے بارے میں لکھا ’انہی نے فلم ’ورنہ‘ پر پابندی لگائی جو بظاہر یہ سوچتے ہیں کہ ریپ جیسے موضوع پر بات نہیں ہونی چاہیے۔'

لبنیٰ نے فلموں میں خواتین کے کرداروں کے حوالے سے لکھا کہ ’ورنہ‘ پر 'شاید اس لیے پابندی لگا دی گئی کیونکہ اس میں آئٹم گانے نہیں تھے، یا فحش ڈائیلاگ نہیں تھے یا دوسری گھٹیا چیزیں نہیں ہوں گی۔ اتنے معیاری کام سے یقیناً کچھ لوگوں کو تکلیف ہوئی ہو گی۔'

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter
Image caption ماہرہ خان کی ٹویٹ

عمر جو منین نے نام سے ٹویٹ کرتے ہیں لکھا 'حیرت کی بات ہے کہ 'خدا کے لیے' نے ایک آمر کے دور میں ریکارڈ کاروبار کیا جب ملا بریگیڈ ویڈیو کی دکانوں اور ٹی وی سیٹس توڑ رہی تھی مگر آج کے دور میں عورتوں کے موضوع پر بننے والی ایک سماجی فلم پر پابندی ایک جمہوری حکومت کے دور میں لگ رہی ہے۔'

ابرار ابراہیم نے لکھا کہ 'ملا کھلے عام ہمارے ہیرو جیسا کہ ایدھی کے خلاف نفرت کا پرچار کر رہے ہیں اور ملک کے دارالحکومت کا گھیراؤ کیے بیٹھے ہیں مگر حکومت کی جانب سے کوئی کارروائی نہیں۔ مگر دوسری جانب ایک سنجیدہ موضوع پر بننے والی فلم پابندی کا شکار ہو جاتی ہے۔'

ثمر من اللہ خان نے اس مسائل کی جانب اشارہ کرتے ہوئے لکھا کہ 'اگر پابندی لگانی ہے تو کم عمری کی شادیوں پر لگائیں، ونی یا وحشیانہ جرگوں پر لگائیں جو معصوم لڑکیوں کے ریپ کے فیصلے صادر کرتے ہیں یا ان کی تذلیل کرواتے ہیں۔ نہ کہ ورنہ جیسی فلموں پر۔ ایسی فلمیں سوچ بدلنے میں مددگار ثابت ہوتی ہیں۔'

مہوش اعجاز نے ٹویٹ کی کہ 'ورنہ خواتین کے خلاف تشدد کے بارے میں ہے۔ کیا آپ توقع کر رہے تھے کہ ماہرہ، ہارون کے ساتھ شادی پر رقص کر کے اس موضوع پر رائے عامہ اجاگر کرتی؟ یا یہ لوگ واقعی یہ توقع کرتے ہیں کہ خواتین کے خلاف تشدد کے بارے میں فلم خواتین پر تشدد دکھائے بغیر بن سکتی ہے؟'

مگر سب ایسے نہیں جنہیں اعتراض ہو کیونکہ ہنزلہ طیب نے ٹویٹ کی کہ 'پاکستان کی سالمیت، اسلامی روایات اور اقدار پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہونا چاہیے۔ اس فلم پر پابندی لگنی چاہیے اگر اس نے حدود سے تجاوز کیا ہے۔'

فارض کریم انصاری نے ٹویٹ کی کہ 'حد ہے!! ورنہ پر پابندی لگائی جانی چاہیے اور اسے اجازت نہیں ملنی چاہیے کیونکہ اس میں سندھیوں کو غلط رنگ میں دکھایا جا رہا ہے۔‘

احمد محمد نے لکھا کہ 'ورنہ پر پابندی عاد کی جانے چاہیے اور اس طرح کی دوسری ساری فلموں پر کیونکہ یہ لوگوں کے دماغ میں غلاظت ڈالتی ہیں۔

اس ہفتے کی تصاویر

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption سموگ کے جانے کے بعد سردی کی آمد اور لاہور میں ایک خاندان سرد موسم میں آگ تاپ رہا ہے۔
تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption خیبرپختونخوا میں ہری پور کے قریب آثارِ قدیمہ کی دریافت ہوئی جس میں یہ بدھا کا مجسمہ بھی شامل ہے۔