پاکستان میں انتخابی حلقہ بندیوں کے چار بڑے مسئلے

مردم شماری تصویر کے کاپی رائٹ ARIF ALI
Image caption پاکستان پیپلز پارٹی اور متحدہ قومی موومنٹ کو مردم شماری کے نتائج پر شک ہے

پاکستان میں رواں برس مارچ میں مردم شماری کے بعد سے بظاہر سب سے بڑا انتخابی مسئلہ حلقہ بندیوں کی صورت میں سامنے آیا ہے۔

الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ وقت کی قلت کی وجہ سے نئی حلقہ بندیاں ممکن نہیں ہوں گی جس سے آئندہ عام انتخابات کا وقت پر ہونا مشکل ہو سکتا ہے۔

حکومت اس معاملے کو آئینی ترمیم کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ اگر سیاسی اتفاق نہیں ہوتا تو پھر خدشہ ہے الیکشن کمیشن سپریم کورٹ سے رجوع کرے۔

یہ بھی پڑھیے

پنجاب کی نشستیں کم، پختونخوا کی زیادہ

فاٹا میں خواتین کے ووٹوں میں 36 فیصد اضافہ

’تین قبائلی ایجنسیوں کی آبادی کہاں گئی‘

مردم شماری:’پاکستان کی آبادی پونے 21 کروڑ سے زیادہ‘

پاکستان پیپلز پارٹی اور صوبہ سندھ کی حکومت کو مردم شماری کے نتائج پر شک ہے۔ اس کے علاوہ متحدہ قومی موومنٹ بھی مردم شماری کے آغاز سے ہی اس پر اپنے تحفظات کا اظہار کرتی رہی ہے۔

Image caption قانون کے مطابق الیکشن کمیشن کو اس کا پابند نہیں بنایا گیا ہے کہ حلقہ بندیوں پر عام عوام سے رائے لے

یہ معاملہ صوبوں اور وفاق پر مشتمل مشترکہ مفادات کونسل میں پہنچا جہاں اس فیصلے کے بعد کہ بعض مقامات پر کسی تیسرے فریق سے نتائج کا دوبارہ جائزہ لیا جائے گا، سب نئی قانون سازی پر تیار ہوئے ہیں۔

لیکن حلقہ بندیوں سے جڑے بعض دیگر مسائل بھی ہیں۔ وہ کیا ہیں؟

  • آئینِ پاکستان کہتا ہے کہ ہر مردم شماری کے شائع شدہ سرکاری اعداد و شمار کی بنیاد پر وفاقی اکائیوں کے درمیان پارلیمانی نشستوں کا تعین کیا جانا چاہیے۔ ماہرین کے مطابق یہ فائدہ مند ہونے کی بجائے نقصان دہ ہے کیونکہ اس کے لیے ہر مردم شماری کے بعد آئینی ترمیم کی ضرورت پڑتی ہے۔

تجویز یہ ہے کہ حلقہ بندیوں کو ہر عام انتخابات کے دو سال بعد لازمی قرار دیا جانا چاہیے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption تجویز ہے کہ جغرافیائی طور پر ایک حلقہ ایک جگہ ہی ہونا چاہیے
  • حلقہ بندیوں کے لیے پاکستانی قانون میں ڈی لمیٹشن آف کانسٹیچوینسیز ایکٹ 1974 ہے۔ اس میں پارلیمان ترامیم اور صدارتی آرڈیننس کے ذریعے کئی تبدیلیاں متعارف کروائی گئی ہیں۔ لیکن اس میں کئی ابہام ہیں جیسے کہ ہر حلقہ جغرافیائی طور پر 'جہاں تک ممکن ہو' کی شرط پرایک جگہ ہونا چاہیے۔ لیکن قبائلی علاقوں میں تو ایک حلقے کے مختلف علاقوں پر پھیلے ہونے کی بھی اجازت دی گئی ہے۔

تجویز ہے کہ جغرافیائی طور پر حلقہ ایک جگہ ہی ہونا چاہیے۔

  • ہر حلقے میں ووٹروں کی تعداد میں برابری کا فقدان۔ قومی اسمبلی کے سندھ میں حلقہ 203 میں ووٹروں کی تعداد دو لاکھ 28 ہزار سے زیادہ ہے جبکہ یہیں حلقہ 253 میں یہ تعداد دو گنی سے بھی زیادہ یعنی پانچ لاکھ 19 ہزار ہے۔ پاکستان خود کے توثیق کردہ بین الاقوامی قواعد کے مطابق ہرحلقے میں ووٹروں کی برابر تعداد رکھنے کا پابند ہے۔ غیرسرکاری تنظیم فری اینڈ فیئر الیکشن نیٹ ورک (فافن) کے مطابق پاکستان کی قومی اسمبلی کا ایک حلقہ ایسا بھی ہے جس میں 80 ہزار کے قریب ووٹرز ہیں۔ جبکہ ایک اور حلقہ ہے جس میں ووٹرز کی تعداد پانچ لاکھ 30 ہزار تک ہے۔

تجویز یہ ہے کہ ہر حلقے میں ووٹروں کی تعداد یکساں ہونی چاہیے تاکہ نمائندگی برابر کی بنیاد پر ہو۔

  • قانون کے مطابق الیکشن کمیشن کو اس کا پابند نہیں بنایا گیا ہے کہ حلقہ بندیوں پر عام عوام سے رائے لے۔ ماضی میں دیکھا گیا ہے کہ عوامی رائے کے بغیر کی جانے والی حلقہ بندیوں پر تنازعات پیدا ہوتے ہیں۔

تجویز ہے کہ فی الحال قلیل مدت میں الیکشن کمیشن کے لیے یہ ممکن نہ ہو لیکن عوامی رائے کا حصول ضروری ہے۔

اسی بارے میں