’مرنے جاتے ہیں تو جائیں انھیں کون روک رہا ہے؟‘

غیر قانونی تارکین وطن تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ہر سال یورپ پہنچنے کی کوشش میں پاکستانی شہریوں کی ہلاکتوں کے واقعات سامنے آتے ہیں

’اربوں روپے کی کرپشن،‘ ’جمہوری نظام جا رہا ہے،‘ ’فوج ایک بار پھر آئے گی،‘ جیسی خبریں ٹیلی ویژن پر چل رہی تھیں لیکن اس نوجوان کی آنکھوں میں ایک ہی خواب تھا کہ کسی طرح جلد از جلد یورپ پہنچ جائے تاکہ دہائیوں سے غربت کی چکی میں پسے ہوئے اپنے خاندان کو خوشحال کر سکے۔

چند دن پہلے ہی بلوچستان میں غیر قانونی طریقے سے یورپ جانے کی خواہش میں موت کے منہ میں جانے والے نوجوانوں کی آنکھوں میں بھی اسی طرح کے خواب تھے، جیسے حال ہی میں ترکی کے استنبول ایئر پورٹ پر کئی روز سے پھنسے ہوئے نوجوانوں کے ایک گروپ سے ملاقات میں سامنے آئے۔

کیچ میں ہلاک ہونے والوں کی لاشیں پنجاب پہنچ گئیں

بلوچستان: پنجاب سے تعلق رکھنے والے 15 افراد کی لاشیں برآمد

حمزہ (فرضی نام) کا تعلق پوٹھوہار سے تھا اور وہ ترکی سے لیبیا اور وہاں سے غیر قانونی طور پر کشتی کے ذریعے اٹلی کے پرخطر سفر پر جانے کے لیے گھر سے نکلا تھا۔

اس مقصد کے لیے اس کے خاندان نے زمین کے ٹکڑے کی شکل میں موجود اپنی آخری جمع پونجی فروخت کر کے ایجنٹ کو آٹھ لاکھ رویے اس سفر کے لیے تھما دیے جس کے بارے میں یقینی طور پر نہیں کہا جا سکتا تھا کہ یہ کبھی اپنی منزل پر پہنچائے گا کہ نہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption حالیہ برسوں میں بڑی تعداد میں نہ صرف پاکستان بلکہ دیگر ممالک سے بھی غیر قانونی تارکین وطن نے یورپ پہنچنے کی کوشش کی

حمزہ کو جب بتایا کہ لیبیا کے راستے اٹلی جانے کا سفر بہت خطرناک ہے اور تھوڑے ہی دن پہلے کشتی ڈوبنے سے اس میں پاکستانیوں سمیت تمام افراد ہلاک ہو گئے ہیں، اس پر اس نوجوان نے لاپروائی سے مسکراتے ہوئے کہا کہ ’ہاں معلوم ہے لیکن ایک طرف بھوک اور غربت ہے تو دوسری جانب موت۔۔۔ تو اس سے فرق کیا پڑتا ہے لیکن اگر یورپ پہنچ گئے تو حالات اچھے ہونے کی امید بھی ہے۔‘

اس کے ساتھ کھڑا 18 سالہ قیوم زیادہ فکرمند تھا۔ اس کے بقول ماں باپ اپنی جمع پونجی ایجنٹ کے ہاتھ میں دے چکے ہیں اور دوران سفر غیر قانونی راستوں کے ذریعے یورپ کے سفر پر جانے کی کہانیاں سننے کے بعد انھوں نے واپس جانے کی خواہش کی تھی لیکن والدین کا کہنا تھا کہ ایجنٹ سے بات ہوئی ہے لیکن وہ پیسے واپس نہیں کرے گا۔

’اس صورت حال میں یہی سوچا ہے کہ جو ہو گا دیکھا جائے گا، لیکن لیبیا میں چند دن پہلے پیش آنے والا واقعہ بھی آنکھوں کے سامنے آتا ہے کہ ایک گروپ کو جرائم پیشہ افراد نے یرغمال بنا لیا اور ان کے پاس جو کچھ تھا وہ لوٹ لیا اور بعد میں ٹانگوں پر گولیاں مار دیں۔‘

ان لوگوں سے بات چیت کے بعد وطن واپسی ہو گئی مگر بلوچستان کے ضلع کیچ میں ہلاک ہونے والے 15 نوجوانوں کی خبر نے ان کی یاد تازہ کر دی۔ نہ جانے یہ اب کس حال میں ہوں گے، یورپ پہنچ پائے بھی کہ نہیں، بس سب اچھے کی امید کی جا سکتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption زیادہ تر غیر قانونی تارکین وطن ترکی اور لیبیا سے کشتیوں کے ذریعے یورپ پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں

لیکن اس میں پریشانی صرف یہ ہے کہ جب تک ملک میں غربت اور بے روزگاری رہے گی کہ نوجوان اسی طرح کے پرخطر سفر اختیار کرتے رہیں گے جس میں موت اور زندگی کے درمیان اتنی باریک رسی پر چل کر اپنا خواب پورا کرنا ہے۔

ان لوگوں کو یہ سنہرا باغ دکھایا جاتا ہے کہ بس ایک بار یورپ پہنچ گئے تو سارے دلدر دور ہو جائیں گے۔ انھیں کوئی اندازہ نہیں ہوتا کہ اگر کسی طرح بچ بچا کر یورپ پہنچ بھی گئے تو غیر قانونی شہری کے طور پر سختیوں اور مشکلات اس کا استقبال کرنے کو تیار ہوں گی۔

اس معاملے پر حکومت کی سنجیدگی کا یہ عالم ہے کہ 2012 میں اس وقت کے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی سے جب سی این این کے نمائندے نے انٹرویو کے دوران پوچھا کہ ایک حالیہ سروے کے مطابق ایک تہائی پاکستان ملک چھوڑنا چاہتے ہیں، تو اس پر ان کا جواب تھا کہ ’تو پھر وہ جاتے کیوں نہیں، انھیں کون روک رہا ہے؟‘

شاید سابق وزیراعظم نے اس وقت ٹھیک ہی کہا تھا کیونکہ وفاقی تحقیقاتی ایجنسی کے ایک اعلیٰ اہلکار سے بلوچستان کے واقعے پر بات ہوئی تو ان کا کہنا ہے کہ ملک میں بے روزگاری، اور معاشی مواقع کم ہونے کی وجہ سے انسانوں کو غیر قانونی طور یورپ بھیجنے کا کاروبار گذشتہ آٹھ دس برس میں ایک باقاعدہ صعنت بن چکا ہے۔

انھوں نے کہا کہ دوسری جانب حکومت کی جانب سے اس معاملے پر زیادہ سنجیدگی نہیں اور صرف کسی معاملے پر لوگوں کو دکھانے کی غرض سے چند دن کے لیے فائر فائٹنگ کی جاتی ہے اور پھر سارا معاملہ داخل دفتر ہو جاتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption لیبیا سے اٹلی جانے کی کوششوں میں بڑی تعداد میں غیر قانونی تارکین وطن ہلاک ہو چکے ہیں

’اس وقت صرف اسلام آباد، راولپنڈی سے ہر ماہ آٹھ سو سے ایک ہزار شکایات سامنے آتی ہیں اور یہ اصل واقعات کا ایک اندازے کے مطابق دس فیصد ہے۔ اتنی بڑی تعداد میں شکایات ہیں ان کی تفتیش کرنے والے اہلکاروں کی تعداد آٹھ سے کم ہے اور ان میں سے بعض کے پاس سرکاری موٹر سائیکل تک دستیاب نہیں ہوتا۔‘

انھوں نے کہا کہ اس معاملے کو جڑ سے ختم کرنے کے لیے مربوط حکمت عملی بنانی چاہیے اور دوسرا قانون سازی کو مزید سخت کیا جانا چاہیے۔‘

تاہم اعلیٰ اہلکار نے ناامیدی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حالات میں ایسا ہوتا دکھائی نہیں رے رہا۔

اس جواب میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ آئندہ بھی بلوچستان جیسے واقعات پیش آتے رہیں گے اور حکومتی حلقوں میں وقتی ہلچل ہوتی رہے گی لیکن اصل مسئلہ جوں کا توں رہے گا، اور ایک اور نوجوان لیبیا کے ساحل پر یورپ جانے والی کشتی کے انتظار میں کھڑا ہو گا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں