دھرنا ختم نہ کروانے پر اعلیٰ حکام کو توہین عدالت کا نوٹس

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
’اسلام آباد میں دھرنا ختم کرانے کے لیے طاقت کا استعمال آخری آپشن ہے‘

پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں مذہبی جماعتوں کا دھرنا ختم کروانے کے لیے علما و مشائخ کا اجلاس بھی بے نتیجہ ثابت ہوا ہے جبکہ حکومت کا کہنا ہے کہ وہ اس مسئلے کو افہام و تفہیم سے حل کرنا چاہتی ہے۔

پیر کو اسلام آباد علما و مشائخ کے اجلاس فیصلہ کیا گیا کہ قانون سے ختم نبوت کا حلف نامہ ختم کرنے کے معاملے میں راجہ ظفر الحق کمیٹی کی سفارشات کو منظر عام پر لایا جائے۔

اجلاس کے بعد وزیر داخلہ احسن اقبال نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ علما کے اجلاس میں طے پایا ہے کہ پیر حسین الدین کی سربراہی میں ایک کیمٹی بنائی جائے جو مسئلے کا جامع حل تلاش کرے۔

وزیر داخلہ نے ایک بار پھر دھرنے کے شرکا سے پر امن طور پر منتشر ہونے کی اپیل کی۔

دھرنے پر مزید پڑھیے

دھرنا: ’ یہ سب ڈرامہ 2018 کے الیکشن کا ہے‘

فیض آباد دھرنا: ’آپریشن اس مسئلے کا آخری حل ہو گا‘

دھرنا: مذہبی جماعتوں کا عدالتی حکم ماننے سے انکار

علما کے اجلاس کے بعد مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ عقیدہ ختم نبوت ہمارے دین کی اساس ہے اور اس حوالے سے آئینی و قانونی سقم کو دور کر دیا گیا ہے۔

دوسری جانب حکومت نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ وہ دھرنے کے پرامن حل کے لیے مزید مہلت دے تاہم عدالتی حکم نہ ماننے پر سیکرٹری داخلہ، چیف کمشنر اسلام آباد اور پولیس کے سربراہ کو توہین عدالت کے مقدمے میں اظہار وجوہ کا نوٹس جاری کیا گیا ہے۔

پیر کو عدالت میں پیشی کے موقع پر وزیرداخلہ احسن اقبال نے پریس کانفرنس میں دھرنا ختم کرنے کی اپیل کرتے ہوئے خبردار کیا کہ آپریشن اس مسئلے کا آخری حل ہو گا۔

انھوں نے بتایا کہ عدالت سے مزید مہلت طلب کی گئی ہے اور امید ہے کہ اگلے 24 سے 48 گھنٹوں کے دوران پرامن حل نکل آئے گا۔

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ نے فیض آباد پر احتجاجی دھرنا ختم کروانے سے متعلق عدالتی حکم نہ ماننے پر سیکرٹری داخلہ، اسلام آباد کی چیف کمشنر اور اسلام آباد پولیس کے سربراہ کو توہین عدالت کے مقدمے میں اظہار وجوہ کا نوٹس جاری کیا ہے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے اس درخواست کی سماعت کے دوران وزیر داخلہ احسن اقبال کی مذید دو روز کی مہلت دینے کی استدعا کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ عدالت عالیہ کا 17 نومبر کا فیصلہ اپنی جگہ برقرار ہے۔

Image caption لبیک یا رسول اللہ نامی سیاسی جماعت نے حالیہ ضمنی انتخابات میں حصہ لیا اور خدشتہ یہ ہے کہ یہ دھرنا اگلے عام انتخابات کے لیے ہے: احسن اقبال

سماعت کے دوران جسٹس شوکت عزیز صدیقی اور وفاقی وزیر داخلہ کے درمیان مکالمہ بھی ہوا جس میں بینچ کے سربراہ نے وزیر داخلہ سے استفسار کیا کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ اس معاملے میں بےبس ہیں جس پر احسن اقبال کا کہنا تھا کہ 'جسٹس صاحب اس بارے میں ہم سے زیادہ باخبر ہیں۔ '

اُنھوں نے کہا کہ لبیک یا رسول اللہ نامی سیاسی جماعت نے حالیہ ضمنی انتخابات میں حصہ لیا اور خدشتہ یہ ہے کہ یہ دھرنا اگلے عام انتخابات کے لیے ہے۔

جسٹس شوکت عزیز نے وزیر داخلہ سے استفسار کیا کہ کیا اُنھوں نے علماء اور مشائخ کا اجلاس عدالتی حکم کی روشنی میں بلایا ہے ۔ عدالت نے وزیر داخلہ سے کہا کہ وہ تمام بوجھ عدالت پر مت ڈالیں جس پر احسن اقبال کا کہنا تھا کہ حکومت چاہتی ہے کہ یہ معاملہ افہام وتفیم سے حل ہو جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو دھرنا دینے والی جماعت نے لاہور سے نکلتے وقت یقین دہانی کروائی تھی کہ وہ دھرنا نہیں دیں گے۔

یہ بھی پڑھیے

1500 افراد کا دھرنا، حکومت خاموش تماشائی کیوں؟

حکومت محتاط، دھرنا ختم کرنے کی پھر اپیل

جسٹس شوکت عزیز نے دھرنے سے متعلق دو درخواستوں کی سماعت کے آغاز پر اپنے ریمارکس میں کہا کہ دھرنا ختم نہ ہونا ضلعی انتظامیہ کی ملی بھگت اور نااہلی کا نتیجہ ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’قانون نافذ کرنے والے اداروں کو یہ نہیں سوچنا چاہیے کہ مظاہرین کے مطالبات کیا ہیں، انھیں عدالتی حکم پر عملدرآمد کرنا چاہیے۔‘

جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے کہا کہ ’چار پانچ ہزار افراد لاکھوں افراد کے حقوق سلب نہیں کر سکتے۔ ان مریضوں، طالبعلموں اور مریضوں کا کیا قصور ہے جو ان چند ہزار افراد کے مظاہرے کی وجہ سے متاثر ہو رہے ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption دھرنا دینے والی جماعتوں کا مطالبہ ہے کہ وزیر قانون مستعفی ہوں

سماعت کے موقع پر عدالت کے سامنے ڈپٹی اٹارنی جنرل پیش ہوئے انھوں نے کہا کہ ’بہت سی ایسی چیزیں ہیں جو کھلی عدالت میں نہیں بتائی جا سکتیں۔‘

اس کے جواب میں جسٹس شوکت نے برہمی کا اظہار کیا اور کہا کہ ’مجھےمعلوم ہے کہ آپ نے یہی کہنا ہے کہ ان کے پاس پتھر اور اسلحہ ہے۔‘

عدالت کا کہنا ہے کہ اگر عدالتی احکامات کو اسی طرح نظر انداز کیا جاتا رہا تو حکومت کی عملداری کو بھی خطرہ ہوگا۔

انھوں نے کہا کہ ’اگر کام نہیں ہوتا تو ایک ہی مرتبہ قوم سے خطاب کریں اور کہیں ہمیں کام نہیں کرنے دیا جا رہا۔‘

ڈپٹی اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ حکومت خود اس معاملے میں مظاہرین کے ساتھ مذاکرات کر رہی ہے۔

عدالت نے کیس کی سماعت جمعرات تک ملتوی کر دی ہے۔

اسی بارے میں