نیب مقدمات: حسن اور حسین کے بعد ڈار بھی مفرور

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption اسحاق ڈار کے وکیل کا کہنا تھا کہ اگر عدالت حکم دے تو ان کے موکل ویڈیو لنک کے ذریعے لندن سے کسی بھی سوال کا جواب دینے کو تیار ہیں۔

اسلام آباد کی احتساب عدالت نے منگل کی صبح وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کو عدالتی مفرور قرار دے دیا ہے۔

عدالت نے ملزم کی عدالت میں پیش ہونے سے استثنیٰ کی درخواست کو مسترد کرتے ہوئے نیب کے حکام کو ملزم طلبی کے لیے اشتہار جاری کرنے کا حکم دیا ہے۔

احتساب عدالت نے ملزم اسحاق ڈار کو 30 روز کے بجائے 10 روز میں پیش ہونے کا حکم دیا ہے اور اس ضمن میں نیب کے حکام کو چار دسمبر تک رپورٹ جمع کروانے کا بھی حکم دیا ہے۔

اسحاق ڈار شریف خاندان کے لیے ناگزیر کیوں ؟

’ڈار کا وزیر خزانہ ہونا نقصان دہ ہے‘

اسحاق ڈار پر فردِ جرم عائد، حاضری سے استثنیٰ کی درخواست مسترد

اس سے پہلے عدالت نے سابق وزیر اعظم نواز شریف کے صاحبزادوں حسن نواز اور حسین نواز کو اشتہاری قرار دینے کی کارروائی کا آغاز کرتے ہوئے اُنھیں ایک ماہ کے اندر اندر عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا۔

ہمارے نامہ نگار شہزاد ملک نے بتایا کہ قانون کے مطابق طلبی کا اشتہار جاری کرنے کے ایک ماہ کے اندر اندر اگر ملزم عدالت میں پیش ہو جائے تو اسے اشتہاری قرار دینے اور اس کی جائیداد کی ضبطگی کے بارے میں کارروائی رک جاتی ہے۔

اسلام آباد کی احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے خلاف معلوم ذرائع آمدن سے زیادہ اثاثوں کے ریفرنس کی سماعت شروع کی تو ملزم کے وکیل کوسین فیصل مفتی نے اپنے موکل کی بیماری سے متعلق ایک اور رپورٹ عدالت میں پیش کی۔

اُنھوں نے کہا کہ اسحاق ڈار کے دل کی ایک شریان صحیح طریقے سے کام نہیں کر رہی اور ڈاکٹروں نے اُنھیں دوبارہ طبی معائنے کے لیے کہا ہے۔

اسحاق ڈار کے وکیل کا کہنا تھا کہ اگر عدالت حکم دے تو ان کے موکل ویڈیو لنک کے ذریعے لندن سے کسی بھی سوال کا جواب دینے کو تیار ہیں۔

وفاقی وزیر خزانہ کے وکیل نے اپنے موکل کی جگہ ان کے نمائندے کو عدالت میں پیش ہونے سے متعلق بھی درخواست دائر کی۔

نیب کی قانونی ٹیم نے اس درخواست کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ ملزم اسحاق ڈار کو ایسی کوئی بیماری لاحق نہیں ہے جس کا علاج پاکستان میں ممکن نہ ہو۔

اُنھوں نے کہا کہ ملزم کی طرف سے عدالتی احکامات کو بارہا نظر انداز کیا جارہا ہے جس کا عدالت کو نوٹس لینا چاہیے۔

نیب کی لیگل ٹیم کا کہنا تھا کہ اسحاق ڈار ان دنوں لندن میں مقیم ہیں اور وہ عدالتی کارروائی سے بچنے کے لیے وہاں پر ہیں۔

اسحاق ڈار کے وکیل کا کہنا تھا کہ اس سے پہلے بھی ان کے موکل کی دو میڈیکل رپورٹیں عدالت میں پیش کی جاچکی ہیں لیکن نیب کے افسران نے ان کی تصدیق نہیں کروائی۔

عدالت کے استفسار پر نیب کی قانونی ٹیم کا کہنا تھا کہ انھوں نے ان رپورٹس کی تصدیق کی لیے متعقلہ حکام کو بھجوایا ہے لیکن ابھی تک کوئی جواب موصول نہیں ہوا جس پر اسحاق ڈار کے وکیل کا کہنا تھا کہ اگر پہلے جمع کروائی گئی رپورٹس پر کوئی پیش رفت نہیں ہوئی عدالت ان کی تیسری رپورٹ کو کیسے مسترد کرسکتی ہے۔

عدالت نے ملزم کے حاضری کے استثنیٰ اور مقدمے کی سماعت میں اپنا نمائندہ مقرر کرنے سے متعلق اسحاق ڈار کی درخواست کو مسترد کردیا۔

نیب کے حکام نے عدالت میں اسحاق ڈار کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری کی تعمیلی رپورٹ پیش کی جس کے مطابق ملزم کی گرفتاری کے لیے ان کے اسلام آباد اور لاہور میں واقع گھروں پر چھاپے مارے گئے لیکن وہ وہاں پر موجود نہیں تھے۔

اسی بارے میں