اسحٰق ڈار پر کیا بیتی؟

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption اسحاق ڈار ان دنوں لندن میں زیر علاج ہیں

یہ اس روز کی بات ہے جب نیب عدالت نے وزیرخزانہ اسحٰق ڈار پر فرد جرم عائد کی۔ یہ اسحٰق ڈار کی غالباً عدالت کے سامنے دوسری پیشی تھی۔

مسلم لیگ ن کے کارکن اور رہنما بڑی تعداد میں عدالت کے باہر موجود تھے۔ کچھ وفاقی وزرا اور وزیراعظم کے مشیران بھی وزیرخزانہ کی حوصلہ افزائی کے لیے احاطہ عدالت میں موجود تھے۔

دوسری طرف اسلام آباد کے پنجاب ہاؤس میں غیر معمولی چہل پہل تھی۔ نواز شریف وہاں مقیم تھے اور کچھ دیر میں انھوں نے وہاں پریس کانفرنس سے خطاب کرنا تھا۔ انھوں نے اس پریس کانفرنس سے قبل بعض اہم رہنماؤں کے ساتھ مشاورت کا سلسلہ شروع کر رکھا تھا۔ انھیں اسحٰق ڈار کی واپسی کا انتظار بھی تھا۔

یہ بھی پڑھیے

اسحاق ڈار شریف خاندان کے لیے ناگزیر کیوں ؟

’ڈار کا وزیر خزانہ ہونا نقصان دہ ہے‘

اس دوران نیب عدالت میں وقفہ ہوا اور مسلم لیگ ن کے کچھ رہنما عدالت سے نکل کر پنجاب ہاؤس پہنچ گئے اس غیر رسمی اجلاس میں صبح سے وقفے تک کی عدالتی روداد اپنے رہنماؤں کے سامنے پیش کی۔

اس موقعے پر موجود بعض مسلم لیگیوں نے اسحٰق ڈار کی عدالت کے سامنے کی جو منظر کشی کی وہ نواز شریف کے لیے خاصی تشویشناک تھی۔ سابق وزیراعظم کو بتایا گیا کہ ان کے سمدھی اسحٰق ڈار کی عدالت کے سامنے پیشی کے وقت ’حالت‘ خاصی نازک تھی۔ انھیں ٹھنڈے پسینے آ رہے تھے اور وہ شدید کمزوری کی شکایت کر رہے تھے، جس کے بعد انھیں کرسی پیش کی گئی اور باہر نکلتے وقت دو لوگوں نے انھیں بازوؤں سے پکڑ کر تقریباً اٹھا رکھا تھا۔

نواز شریف کے قریبی رفقا اسحٰق ڈار کی اس صورت حال کے باعث خاصی تشویش کا شکار ہوئے۔ بعض نے تو ایسے خدشات کا بھی اظہار کیا کہ وزیراعظم کے قریبی ساتھی اور حدیبیہ پیپر ملز کیس میں اب شریک ملزم یہ دباؤ شاید زیادہ دیر برداشت نہ کر پائیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پھر ماضی میں ان کے سلطانی گواہ بننے کا معاملہ بھی زیر بحث آیا۔ یہ بات بھی ہوئی کہ اسحٰق ڈار نے سلطانی گواہ کے طور پر اپنے بیان میں جس طرح کی تفصیل بتائی ہے وہ رضا کارانہ بیان دینے والا ہی دے سکتا ہے۔ دباؤ کے تحت دیے جانے والے بیان میں اتنی جزئیات بتانے کی ضرورت نہیں ہوتی جتنی اسحٰق ڈار نے شریف خاندان کے منی لانڈرنگ میں ملوث ہونے کی تفصیل بتاتے ہوئی بتائی ہیں۔

پھر ایسی بھی بات ہوئی کہ اسحٰق ڈار کی طبیعت ٹھیک نہیں رہتی اس لیے انھیں مقدمے سے زیادہ اپنے علاج پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ ان کے معالج لندن میں ہیں اس لیے ان کے لیے ضروری ہے کہ وہ لندن میں کچھ عرصہ زیر علاج رہیں اور طبیعت اور حالات کی بہتری کا انتظار کریں۔

وزارت خزانہ اور ملکی معیشت جن مسائل کا شکار ہے، ان پر بھی مختصر تبادلۂ خیال ہوا۔ ملاقات میں موجود بعض وزرا نے بتایا کہ وزیرخزانہ اس سال کے آخر میں بعض بین الاقوامی اداروں کو چار ارب ڈالر قرض کی واپسی کا بندوبست کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ وہ روپے کی قدر کو بھی مستحکم رکھنے کی پالیسی جاری رکھنا چاہتے ہیں۔

وزارت خزانہ سے متعلق یہ دو پالیسی معاملات اس وزارت کی دو بنیادی ذمہ داریوں کا احاطہ کرتے ہیں۔ ایک خارجی مالیاتی امور سے متعلق اور دوسری اندرونی پالیسی معاملات کے بارے میں ہے۔

طے یہ ہوا کہ اسحٰق ڈار سے قریبی رابطے رکھتے ہوئے دو مختلف لوگ اندرونی اور خارجی مالیاتی معاملات کی نگرانی کریں گے۔ دسمبر تک تو یونہی چلے گا جس کے بعد حالات کی مناسبت سے مزید فیصلے کیے جائیں گے۔

اسی بارے میں