قومی اسمبلی میں نواز شریف کی پارٹی سربراہی سے متعلق بل مسترد

پارلیمان تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پاکستان کی قومی اسمبلی میں منگل کو ایک اہم اجلاس میں حزب اختلاف کی جماعتوں کی جانب سے نااہل قرار دیے جانے والے رکن قومی اسمبلی کو سیاسی جماعت کا سربراہ بننے سے روکنے کا بل مسترد کر دیا گیا ہے۔

اسلام آباد میں منگل کو منعقد ہونے والے اجلاس میں پاکستان پیپلز پارٹی کے پارلیمانی رہنما نوید قمر نے یہ بل ایوان میں پیش کیا۔

سپیکر ایاز صادق کی زیرصدارت اجلاس میں 98 ارکان نے اس کے حق میں ووٹ دیا جبکہ 163 نے مخالفت میں ووٹ دے کر اسے مسترد کر دیا۔

کیا نواز شریف نے انتقام لے لیا ہے؟

معلق پارلیمان کی تشکیل کے بعد کیا ہو گا؟

پاکستان پیپلز پارٹی سمیت دیگر حزب اختلاف کی جماعتیں الیکشن ایکٹ 2017 کی شق 203 میں ترمیم چاہتی ہیں جس کا مقصد حکمراں جماعت پاکستان مسلم لیگ ن کے سربراہ اور نااہل وزیراعظم نواز شریف کو جماعت کا سربراہ بننے سے روکنا تھا۔

پیپلز پارٹی کی جانب سے قومی اسمبلی سے اس بل کے منظور نہ ہونے کے بعد ایوان بالا اور ایوان زیریں کا مشترکہ اجلاس بلائے جانے کا بھی امکان ظاہر کیا ہے، تاہم مسلم لیگ ن کو اس میں بھی سادہ اکثریت حاصل ہے۔

پارلیمنٹ میں موجود حزب مخالف کی جماعتوں کا موقف ہے کہ حکومت نے پاناما لیکس کے فیصلے میں سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کی نااہلی کے بعد انتخابی اصلاحات کے پولیٹیکل پارٹی ایکٹ سنہ 2002میں ترمیم کی تھی جس میں کوئی بھی شخص جو قومی اسمبلی کا ممبر بننے کی اہلیت نہ رکھتا ہو وہ کسی بھی جماعت کا سربراہ ہو سکتا ہے۔

وفاقی وزیر قانون زاہد حامد کا کہنا تھا کہ سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے دور میں پولیٹیکل پارٹی ایکٹ میں کی گئی ترمیم کو انتخابی اصلاحات کے لیے بنائی گئی پارلیمانی کمیٹی نے نومبر سنہ 2014 کو ختم کرنے پر اتفاق کیا گیا تھا جبکہ اس وقت پاناما لیکس کا کہیں کوئی وجود ہی نہیں تھا۔

اُنھوں نے کہا کہ سابق فوجی صدر ایوب خان نے بھی اس طرح کی ترمیم لائی تھی جس کو سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے ختم کردیا تھا

پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے انتخابی اصلاحات بل سپریم کورٹ میں چیلنج کر رکھا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

خیال رہے کہ حکومت نے انتخابی اصلاحات بل کو پارلیمان کے دونوں ایوانوں سے منظور کروایا تھا ۔ انتحابی اصلاحات کے بل کی شق نمبر203 جو کسی نااہل شخص کو جماعت کا صدر بنانے سے متعلق تھی کو حکمران جماعت نے قومی اسمبلی سے باآسانی منظوری کے بعد پاکستان کے ایوان بالا یعنی سینیٹ میں حکمراں جماعت کی برتری نہ ہونے کے باوجود بھی ایک ووٹ سے پاس کروالیا تھا۔

حزب مخالف کی جماعت متحدہ قومی موومنٹ کے سینیٹر میاں عتیق نے اس بل کو منظور کروانے کے لیے حکومت کا ساتھ دیا جس پر اُنھیں اپنی جماعت کی طرف سے اظہار وجوہ کا نوٹس جاری کیا گیا تھا۔

جبکہ قومی اسمبلی سے انتخابی اصلاحات بل 2017 کی منظوری کے بعد نواز شریف کا مسلم لیگ ن کی صدارت کا راستہ ہموار ہو گیا تھا۔ اس سے قبل کوئی بھی نااہل شخص کسی بھی سیاسی جماعت کا سربراہ نہیں بن سکتا تھا۔

اس وقت قومی اسمبلی میں پاکستان مسلم لیگ ن اور اس کی اتحادی جماعتوں کی کل 213 نشستیں ہیں جبکہ حزب اختلاف کی جماعتوں میں پیپلز پارٹی کی 47، پی ٹی آئی کی 33، ایم کیو ایم کی 24، جماعت اسلامی کی چار، عوامی نیشنل پارٹی کی دو، پاکستان مسلم لیگ ق کی دو اور بلوچستان نیشنل پارٹی، قومی وطن پارٹی، آل پاکستان مسلم لیگ اور عوامی جمہوری اتحادی کی ایک ایک نشست ہے۔ اس کے علاوہ دس آزاد ارکان بھی شامل ہیں۔

اسی بارے میں