انتخابی اصلاحات 2017 کے خلاف درخواست سپریم کورٹ میں سماعت کے لیے منظور

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ان درخواستوں کی سماعت شروع ہونے سے پہلے ہی ایک درخواست گزار شیخ رشید نے دعویٰ کیا ہے کہ سپریم کورٹ پارلیمنٹ سے منظور ہونے والے انتخابی اصلاحات کے بل کو مسترد کر دے گی۔

پاکستان کی عدالت عظمیٰ نے پارلیمٹ سے منظور ہونے والے انتخابی اصلاحات کے بل سنہ 2017 کے خلاف درخواست کو سماعت کے لیے منظور کرلیا ہے۔ اس بل کو حزب مخالف کی سب سے بڑی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی اور ایک سیٹ رکھنے والی جماعت عوامی مسلم لیگ سمیت 9 افراد نے چیلنج کیا ہے۔

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے ان درخواستوں پر سپریم کورٹ کے رجسٹرار آفس کی طرف سے لگائے گئے اعتراضات کی سماعت اپنے چیمبر میں کی۔

سپریم کورٹ کے رجسٹرار آفس کی طرف سے ان درخواستوں پر یہ اعتراضات لگائے گئے تھے کہ عدالت عظمیٰ میں درخواست دائر کرنے سے پہلے درخواست گزاروں نے متعقلہ فورم سے رجوع نہیں کیا۔

ابتدائی سماعت کے بعد چیف جسٹس نے رجسٹرار آفس کے اعتراضات کو ختم کر کے ان درخواستوں کو سماعت کے لیے منظور کرلیا ہے۔

نواز شریف کی پارٹی سربراہی سے متعلق بل مسترد

حزب اختلاف کے احتجاج کے باوجود انتخابی اصلاحات کا بل منظور

نامہ نگار شہزاد ملک نے بتایا کہ ان درخواستوں کی سماعت شروع ہونے سے پہلے ہی ایک درخواست گزار شیخ رشید نے دعویٰ کیا ہے کہ سپریم کورٹ پارلیمنٹ سے منظور ہونے والے انتخابی اصلاحات کے بل کو مسترد کر دے گی۔

انتحابی اصلاحات کے بل میں پولیٹیکل پارٹی ایکٹ سنہ 2002 کی ایک شق میں ترمیم کرکے ایک ایسے شخص کو بھی سیاسی جماعت کا رکن بننے کی اجازت دی گئی تھی جو پارلیمان کا رکن بننے کی اہلیت پر پورا نہ اترتا ہو۔

پاناما لیکس میں سابق وزیر اعظم نواز شریف کی نااہلی کے عدالتی فیصلے کے بعد اس بل کو قومی اسمبلی سے منطور کروا لیا گیا تھا جس میں حزب مخالف کی جماعتوں نے بھی حکومت کا ساتھ دیا تھا۔ لیکن بعد میں حزب مخالف نے اس کی مخالفت کر دی۔ سینیٹ میں چونکہ حزب مخالف کی اکثریت ہے اس لیے اُنھوں نے انتخابی اصلاحات کے اس بل کو وہاں روکنے کی کوشش کی تاہم حکومت نے سینیٹ میں بھی ایک ووٹ سے اس بل کو منظور کروانے میں کامیاب ہوگئی تھی جس کے بعد اس کو آئینی حیثیت حاصل ہوگئی تھی۔

حزب مخالف کی جماعتوں کا موقف ہے کہ یہ بل نواز شریف کو سیاست میں زندہ رکھنے کے لیے لایا گیا ہے جبکہ حکومت حزب مخالف کے اس دعوے کی تردید کرتی ہے۔

منگل کے روز حزب مخالف کی سب سے بڑی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی اور دیگر جماعتوں نے قومی اسمبلی کے اجلاس میں پولیٹیکل پارٹی ایکٹ سنہ 2002 میں ترمیم کے خلاف بل پیش کیا تھا جو کہ حکومت اور اس کی اتحادی جماعتوں نے بھاری اکثریت سے مسترد کردیا۔

سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف نے احتساب عدالت کے باہر میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ قومی اسمبلی کے اجلاس میں حزب مخالف کی جماعتوں کا بل مسترد ہوا اور یہ آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہے۔

اُنھوں نے دعویٰ کیا کہ کہ پاکستان تحریک انصاف جمہوریت پسند جماعت نہیں ہے اس لیے اس سے کوئی گلہ نہیں لیکن پاکستان پیپلز پارٹی ایک جمہوریت پسند جماعت ہے اور اس کی طرف سے فوجی آمر کے بنائے ہوئے قانون کی حمایت کرنا قابل افسوس ہے۔

میاں نواز شریف کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ کی اکثریت آمروں کے بنائے ہوئے قوانین کو ختم کرنے کے حق میں ہے جس کا ثبوت اُنھوں نے منگل کے حزب مخالف کی جماعتوں کے بل کو مسترد کرکے دیا۔

حکمراں جماعت کے سربراہ نے عدلیہ کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ’عدلیہ کا دوہرا معیار ہے ہمارے خلاف تو فوری فیصلے آجاتے ہیں جبکہ عمران خان اور ان کے ساتھیوں کے سکینڈلز سامنے آرہے ہیں لیکن نہ جانے ان کے خلاف فیصلے کب آئیں گے۔‘

اسی بارے میں