بالآخر فوج نے دھرنے پر خاموشی توڑ دی

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

پاکستانی فوج نے بالآخر جڑواں شہروں راولپنڈی اسلام آباد میں پچھلے دو ہفتوں سے زائد عرصے سے جاری دھرنے پر لب کشائی کر دی ہے۔

فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے ایک بیان میں کہا ہے کہ فیض آباد دھرنے پر حکومت جو فیصلہ کرے گی فوج اس کی پابند ہے۔

تاہم گذشتہ روز دھرنا دینے والی جماعت لبیک یا رسوال اللہ کے سربراہ خادم حسین رضوی نے بی بی سی کو ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ انھیں یقین ہے پاکستان فوج انھیں ہٹانے کے لیے نہیں آئے گی کیونکہ وہ ’انھی کا موقف مضبوط کرنے کے لیے بیٹھے ہیں۔‘

'یہ بھی پڑھیے

* دھرنا ہٹانے کے لیے فوج کی مدد طلب کرنے کی تجویز

* ’جمعے کے خطبے سے اسلام آباد کی ناکہ بندی تک کا سفر‘

* فیض آباد پر ناکہ نہیں ہانکہ لگا ہوا ہے

اسلام آباد اور راولپنڈی کے درمیان رابطے کے بڑے ذریعے فیض آباد انٹرچینج پر پچھلے 18 روز سے زائد جاری دھرنے نے جڑواں شہروں میں نقل وحرکت کے نظام کو مفلوج کر رکھا ہے۔ عوام کی اکثریت اس قضیے کا حل جلد از جلد چاہ رہی ہے لیکن عدالتی اور حکومت دباؤ ابھی تک بےاثر رہا ہے۔

بی بی سی کے ساتھ ایک خصوصی گفتگو میں خادم حسین رضوی سے پوچھا گیا کہ اب تک حکومت اور عدلیہ دونوں کے کہنے کے باوجود انھوں نے دھرنا ختم نہیں کیا لیکن فوج اگر انھیں دھرنا ختم کرنے کا حکم دیتی ہے یا کہتی ہے تو ان کا ردعمل کیا ہو گا؟

اس پر ان کا کہنا تھا کہ ’آرمی تو یہ کہے گی نا کہ کشمیر کی سرحد پر یہ ہو رہا ہے، افغانستان میں یہ صورتحال پیدا ہو گئی ہے اور عالمی صورت حال یہ ہے۔ وہ تو حکومت سے کہے گی کہ اندرونی معاملات تم طے کرو۔‘

ان کا کہنا تھا کہ فوج نے اس مسئلے میں پہلے ہی موقف دے دیا ہے۔ ’فوج کبھی بھی ناموسِ رسالت اور ختم نبوت پر نہ کبھی پیچھے ہٹی ہے اور نہ قیامت تک ہٹے گی۔ ہم تو اس آرمی کے موقف کو یہاں مضبوط کر رہے ہیں، تو وہ کیسے آئے گی؟‘

پاکستان فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل آصف غفور نے ذرائع ابلاغ کو جاری بیان میں کہا کہ بہتر ہو گا کہ اس معاملے کا پرامن طریقے سے حل نکل آئے، تاہم حکومت جو بھی فیصلہ کرے گی فوج اس پر عمل درآمد کرانے کی پابند ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملکی سلامتی کے معاملے پر سول اور عسکری قیادت ایک صفحے پر ہیں۔

خادم حسین کا یہ بیان اس تناظر میں اہم سمجھا جا رہا ہے کہ پاکستان فوج نے 18 روز کے دھرنے میں مکمل خاموشی بدھ کو توڑی ہے۔

لیکن بعض لوگوں کا خیال ہے کہ ماضیِ قریب میں عمران خان کا اسلام آباد کے ڈی چوک میں سیاسی دھرنا ختم کروانے کے لیے انھیں جی ایچ کیو طلب کر سکتی ہے تو موجودہ حالات میں ایسا کیوں نہیں کیا جا سکتا؟

اس مرتبہ تو معاملہ زیادہ حساس اور لوگوں کے دلوں کے قریب ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

خدشہ یہی ہے کہ اگر حکومت نے تنگ آ کر آخر کار کارروائی کر بھی لی تو اس کا ردعمل پورے ملک میں سامنے آ سکتا ہے اور قومی ایکشن پلان کے تحت حاصل کیے گئے امن کو خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔ یہ حالات یقینا فوج کے لیے قابلِ قبول نہیں ہوں گے۔

خیال ہے کہ فوج کا بیان قومی اسمبلی میں حزب اختلاف کے رہنما سید خورشید شاہ کے گذشتہ دنوں اس مطالبے کے بعد سامنے آیا ہے جس میں انھوں نے حکومت سے کہا کہ وہ دھرنا ختم کروانے کے لیے فوج سے رابطہ کرے۔

ان کا موقف ہے کہ فوج کو طلب کرنا حکومت کا آئینی حق ہے۔ خود حکومت کی جانب سے بھی اس تجویز کا خیرمقدم ہوا ہے۔

وفاقی وزیر برائے کیڈ طارق فضل چوہدری نے ایک بیان میں کہا کہ دھرنا ختم کروانے کے لیے فوج کو طلب کرنا کوئی غلط بات نہیں ہے۔

دیکھنا یہ ہے کہ ایک ایسے وقت جب مسلم لیگ ن کی حکومت ریاستی اداروں سے بدعنوانی کے مقدمات کی وجہ سے اچھے موڈ میں نہیں وہ اس جانب پہل کرے گی یا نہیں؟

یہ دیکھنا بھ باقی ہے کہ ایک پیچ پر موجود سیاسی و فوجی قیادت مل کر دھرنے کا حل کیا نکال پاتے ہیں۔ حکومت کے لیے مظاہرین کا وزیر قانون زاہد حامد کی استعفی کا مطالبہ تسلیم کرنا ایک انتہائی خطرناک روایت کی بنیاد ڈال سکتا ہے۔ کل کو کوئی بھی مذہب کو وجہ بنا کر دھرنا دے سکتا ہے اور خطرہ یہی ہے کہ ایک بار شروع ہو گیا تو پھر اس رجحان سے پیچھا چھڑانا مشکل ہو جائے گا۔

اسی بارے میں