ڈی آئی خان: سرچ آپریشن کے دوران پاکستانی فوج کا میجر ہلاک

اسحاق

،تصویر کا ذریعہISPR

،تصویر کا کیپشن

میجر اسحاق کی عمر 28 سال تھی اور انھوں نے پسماندگان میں بیوہ اور ایک سال کا بچہ چھوڑا ہے

خیبر پختونخوا کے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں سکیورٹی فورسز کے سرچ آپریشن کے دوران فائرنگ سے پاکستانی فوج کے افسر میجر اسحاق ہلاک ہو گئے ہیں۔

یہ واقعہ منگل اور بدھ کی درمیانی شب ڈیرہ اسماعیل خان سے تقریباً 50 کلومیٹر دور تحصیل کلاچی کے موسی زئی محلے میں پیش آیا ہے ۔

بی بی سی کے نامہ نگار عزیز اللہ خان کے مطابق فوج کے تعلقات عامہ کے محکمے کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں نے کلاچی کے علاقے میں شدت پسندوں کی موجودگی کی اطلاع پر سرچ آپریشن کیا ہے۔ ایسی اطلاعات تھیں کہ کلاچی کے محلہ موسی زئی میں شدت پسند روپوش ہیں۔ ایک مکان سے سکیورٹی فورسز پر فائرنگ ہوئی جس میں میجر اسحاق کو تین گولیاں لگیں جنھیں سی ایم ایچ ڈیرہ اسماعیل خان لایا گیا جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے ہیں۔

ایسی اطلاع ہے کہ اس فائرنگ میں شدت پسندوں کا بھی جانی نقصان ہوا ہے لیکن اس بارے میں تفصیل معلوم نہیں ہو سکی۔

میجر اسحاق کی عمر 28 سال تھی اور انھوں نے پسماندگان میں بیوہ اور ایک سال کا بچہ چھوڑا ہے۔ میجر اسحاق کا تعلق صوبہ پنجاب کے شہر خوشاب سے تھا۔

میجر اسحاق کی نماز جنازہ ڈیرہ اسماعیل خان میں ادا کی گئی جس میں پاکستان فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ بھی شریک تھے۔

تحصیل کلاچی ایک پسماندہ علاقہ ہے جہاں اس سے پہلے بھی تشدد کے واقعات پیش آ چکے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہISPR

،تصویر کا کیپشن

میجر اسحاق کی نماز جنازہ ڈیرہ اسماعیل خان میں ادا کی گئی جس میں پاکستان فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ بھی شریک تھے

اکتوبر 2013 میں صوبائی وزیر قانون اسراراللہ گنڈہ پور عید کے روز اپنے حجرے میں ایک خود کش حملے میں ہلاک ہو گئے تھے۔

جبکہ فروری 2011 میں شدت پسندوں نے کلاچی کے پولیس تھانے پر حملہ کیا تھا جس میں دس پولیس اہلکار ہلاک ہو گئے تھے ۔ حملہ آوروں میں ایک خود کش خاتون کی موجودگی کی اطلاع بھی تھی۔ ان واقعات کے بعد طالبان کے گنڈہ پور گروپ کی باتیں بھی سامنے آئی تھیں۔

کلاچی انتہائی پر امن علاقہ رہا ہے اور اس علاقے سے سردار عنایت اللہ گنڈہ پور صوبے کے وزیر اعلیٰ بھی رہ چکے ہیں۔ اس علاقے میں پانی کی قلت کی وجہ سے ہریالی نہیں ہو سکی اور یہاں پسماندگی کے ڈیرے ہیں۔