لڑکی کو برہنہ کرنے کا معاملہ، ہر چودہویں دن رپورٹ کا حکم

تصویر کے کاپی رائٹ Qais Javed
Image caption ہائی کورٹ میں درخواست اس لڑکی کی ماں کی جانب سے دائر کی گئی تھی جسے برہنہ پھرایا گیا تھا۔

پشاور ہائی کورٹ نے ڈیرہ اسماعیل خان سے تعلق رکھنے والی لڑکی کی درخواست نمٹاتے ہوئے پولیس سے کہا ہے کہ ہر چودہ روز بعد ہائی کورٹ کے ہیومن رائٹ سیل میں رپورٹ پیش کی جائے ۔

ہائی کورٹ میں درخواست اس لڑکی کی ماں کی جانب سے دائر کی گئی تھی جسے چودھوان کے گاؤں گرہ مٹ میں زبردستی برہنہ پھرایا گیا تھا۔

لڑکی کو برہنہ کرنے کا واقعہ، ملزمان عدالت میں پیش

آج چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ کے سامنے پولیس کی جانب سے تفصیلی رپورٹ پیش کی گئی جس میں کہا گیا ہے کہ متاثرہ خاندان کو مکمل تحفظ فراہم کیا گیا ہے اور مفرور ملزم کی گرفتاری کے لیے کوششیں جاری ہیں ۔

لڑکی کے وکیل قاضی محمد انور کا کہنا تھا کہ انھوں نے اس مقدمے میں چار نکات پیش کیے ہیں جس میں ایک تو یہ ہے کہ متاثرہ لڑکی کو مکمل تحفظ فراہم کیا جائِے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کے علاوہ انھوں نے تفتیش پر زور دیا ہے کہ اسے بہتر کیا جائے اور اس شخص کو تفتیش میں شامل کیا جائے جو واقعے کے وقت ویڈیو بنا رہا تھا اور وہ ویڈیو اس شخص سے حاصل کی جائے ۔

انھوں نے کہا کہ اس واقعے کا ایک اہم ملزم اب تک فرار ہے جسے گرفتار نہیں کیا جا سکا اس لیے پولیس اسے گرفتار کرے اور اسے نوکری سے بھی برخواست کیا جائے۔

متاثرہ لڑکی اور ان کے بھائی گزشتہ روز پشاور ہائی کورٹ میں پیش ہوئے تھے جب عدالت نے پولیس کو تفصیلی رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا تھا۔

یہ واقعہ 27 اکتوبر کو ڈیرہ اسماعیل خان شہر سے تقریباً تیس کلومیٹر دور چودھوان کے چھوٹے سے گاؤں گرہ مٹ میں پیش آیا تھا۔

مقامی لوگوں کے مطابق متاثرہ لڑکی کو آٹھ سے نو ملزمان نے برہنہ کر کے گلیوں میں گھمایا تھا اور لڑکی کو کسی مکان میں پناہ بھی نہیں لینے دی گئی تھی۔ ابتدائی طور پر کہا گیا کہ پولیس ملزمان کی پشت پناہی کر رہی ہے لیکن اس کے بعد مقامی پولیس افسران نے کہا کہ آٹھ ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا ہے جبکہ ایک مفرور ملزم کی گرفتاری کے لیے کوششیں جاری ہیں۔

انصاف اور امن کے لیے کام کرنے والی ایک غیر سرکاری تنظیم کی سربراہ سلمیٰ ملک بھی آج پشاور ہائی کورٹ میں موجود تھیں۔ انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ اگرچہ مقامی سطح پر پولیس تحفظ فراہم کر رہی ہے لیکن متاثرہ لڑکی اور اس کے خاندان پر اب بھی پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ کسی ایک سیاسی جماعت یا کسی ادارے کو تنقید کا نشانہ نہیں بنا رہیں بلکہ مقامی سطح پر کچھ لوگ لڑکی کے خاندان پر دباؤ ڈال رہے ہیں جبکہ ان کی کوشش ہے کہ یہ معاملہ سیاست کی نذر نہ ہو جائے۔

ڈیرہ اسماعیل خان اور اس کے قریبی علاقوں میں یہ اپنی نوعیت کا منفرد واقعہ بتایا جاتا ہے ۔ مقامی لوگوں کے مطابق ملزمان نے لڑکی کے بھائی کا بدلہ معصوم لڑکی سے لیا ہے ۔

متعلقہ عنوانات