حافظ سعید کو دس ماہ کی نظر بندی کے بعد رہائی مل گئی

حافظ سعید

پاکستان کے شہر لاہور میں مذہبی تنظیم جماعت الدعوۃ کے امیر حافظ سعید کو تقریباً 10 ماہ کی نظر بندی کے بعد رہا کر دیا گیا ہے۔

بدھ کو نظر ثانی بورڈ نے جماعت الدعوۃ کے امیر حافظ سعید کی نظر بندی میں مزید توسیع کی حکومتی استدعا مسترد کرتے ہوئے ان کی رہائی کے سفارش کی تھی۔

جعمرات کی رات کو رہائی کے بعد حافظ سعید نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ’ انھیں اس بات کی خوشی ہے کہ ان پر کوئی ایسا الزام ثابت نہیں ہوا جو ان کے لیے اور ملک کے مفاد کے لیے کسی بھی قسم کے نقصان کا سبب ہو۔‘

حافظ سعید: نظر بندی میں توسیع کی درخواست مسترد رہائی کی سفارش

حافظ سعید کا بوجھ

’حافظ سعید جیسے عناصر بوجھ ہیں، جان چھڑانے کے لیے وقت چاہیے‘

جماعت الدعوۃ کا سیاسی جماعت بنانے کا فیصلہ

حافظ سعید نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے انڈیا پر الزام عائد کیا کہ ’اس نے ہمیشہ ان پر دہشت گردی کے الزامات عائد کیے اور دنیا میں یہ باور کرانے کی کوشش کی اور لابنگ کی لیکن ہائی کورٹ کے فیصلے نے یہ ثابت کیا ہے کہ انڈیا کا تمام پروپیگنڈا جھوٹ پر مبنی ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption حافظ سعید پر انڈیا دہشت گردی میں ملوث ہونے کا الزام عائد کرتا ہے

اس سے پہلے بدھ کو جسٹس عبدالسمیع خان کی سربراہی میں تین رکنی ریویو بورڈ نے سماعت کے دوران سرکاری وکلا کے دلائل سننے کے بعد حافظ سعید کے خلاف حکومت کی جانب سے واضح ثبوت فراہم نہ کیے جانے کی بنیاد پر ان کی نظر بندی کی مدت میں مزید توسیع نہ کرنے کا فیصلہ سنایا۔

حافظ سعید کی نظر بندی میں گذشتہ ماہ کی جانے والی ایک ماہ کی توسیع 23 نومبر کو ختم ہوئی۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے حافظ سعید کے وکیل اے کے ڈوگر کا کہنا تھا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی جانب سے پیش کیے جانے والے دستاویزی ثبوت حافظ سعید کو نظر بند رکھنے کے لیے ناکافی تھے۔

’حافظ سعید کو نظر بند رکھنے کا کوئی جواز ہی موجود نہیں تھا۔ حکومت کو موقع فراہم کیا گیا کہ وہ ان کے خلاف ثبوت لے کر آئیں۔ وہ اس میں ناکام ہوئے ہیں تو ریویو بورڈ کے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا کہ حافظ سعید کی نظر بندی کی مدت میں توسیع نہ کی جائے۔‘

حافظ سعید کو رواں برس جنوری میں ان کے چار ساتھیوں سمیت وفاقی حکومت کی جانب سے انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کے تحت لاہور میں ان کی رہائش گاہ پر نظر بند کیا گیا تھا جس میں تین ماہ کے بعد تین ماہ کی توسیع کر دی گئی تھی۔

تاہم انسدادِ دہشت گردی کے تحت نظر بند رکھے جانے کی مدت پوری ہونے کے بعد ان کو پنجاب حکومت کی جانب سے ایم پی او یعنی مینٹیننس آف پبلک آرڈر کے تحت نظر بند کر دیا گیا جس میں دو ماہ اور پھر ایک ایک ماہ کی مزید توسیع کی گئی۔

تصویر کے کاپی رائٹ IUD
Image caption اس سال اگست میں حافظ سعید نے اپنی سیاسی جماعت بنانے کا اعلان کیا تھا

ایم پی او کے تحت کی جانے والی اس نظر بندی کے خلاف حافظ سعید نے لاہور ہائی کورٹ میں اپیل دائر کر رکھی تھی جس کی اگلی سماعت چھ دسمبر کو ہونا تھی، تاہم ریویو بورڈ کا فیصلہ آنے کے بعد اس کے ضرورت نہیں رہے گی۔

ان کے چار ساتھیوں کو نظر بندی کی مدت ختم ہونے پر پہلے ہی رہا کیا جا چکا ہے۔

خیال رہے کہ دو ماہ پہلے ستمبر میں پاکستانی وزیر خارجہ خواجہ آصف نے نیویارک میں ایشیا سوسائٹی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ حقانی نیٹ ورک اور حافظ سعید جیسے عناصر پاکستان کے لیے ایک 'لائبیلیٹی' یا بوجھ ہیں مگر ان سے جان چھڑانے کے لیے پاکستان کو وقت چاہیے۔

اسی بارے میں