ممبئی حملے: ’انڈیا اس معاملے کو حل کرنا ہی نہیں چاہتا‘

ممبئی، انڈیا تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption 26 نومبر 2008 کو ممبئی میں تاج محل پیلس ہوٹل پر بھی حملہ کیا گیا تھا

پاکستان میں ممبئی حملوں کے آٹھ ملزمان کے وکیل صفائی رضوان عباسی کا کہنا ہے کہ ’یہ مقدمہ اپنے اختتامی مراحل میں ہے۔ انڈیا کے 24 گواہوں کو بیان ریکارڈ کروانے کے لیے پاکستان بلایا جارہا ہے جس پر ابھی تک کوئی پیش رفت نہیں ہوئی‘۔

ممبئی حملوں کو نو سال پورے ہونے کے موقع پر بی بی سی کی شمائلہ جعفری کو ایک انٹرویو میں رضوان عباسی کا کہنا تھا کہ اب تک اس مقدمے میں 72 گواہوں کے بیانات ریکارڈ کیے جاچکے ہیں۔ اس کی ان کیمرہ سماعت ہر ہفتے راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں جاری ہے اور توقع ہے کہ مقدمے کا فیصلہ جلد ہو جائے گا۔

ممبئی حملوں کے مقدمے کی سماعت 2009 میں شروع ہوئی تھی۔ لیکن دونوں ممالک کے درمیان بداعتمادی کی فضا اور کشیدہ تعلقات کے باعث یہ کئی برس التوا کا شکار رہا۔ اس سوال کے جواب میں کہ اس مقدمے کی کارروائی بظاہر سست روی کا شکار کیوں ہے؟ وکیل صفائی رضوان عباسی کا کہا تھا کہ ابتدا میں انڈین حکام کے عدم تعاون کی وجہ سے بہت وقت ضائع ہوا۔

اس بارے میں مزید پڑھیے

ممبئی حملہ:’پاکستانی قیادت گھبراگئی تھی‘

ممبئی حملہ کیس : گواہ لاپتہ

ممبئی حملہ آوروں کو دفنا دیا گیا

ممبئی حملہ:’آئی ایس آئی میجر بھی ملزم‘

مارچ 2012 اور پھر اکتوبر 2013 میں پاکستان کے وفود نے انڈیا کا دورہ کیا تا کہ وہ گواہوں کے بیانات ریکارڈ کرسکیں۔ پہلا دورہ تو بالکل ناکام رہا اور دوسرے دورے میں وکلائے صفائی کو گواہوں سے جرح کی اجازت نہیں دی گئی۔

انڈیا کی طرف سے دیے گئے ثبوتوں کے بارے میں رضوان عباسی کا کہنا ہے ’یہ ثبوت الزامات پر مبنی ہیں اور ان دستاویزات پر جن کی قانون اور عدالت کی نظر میں کوئی حیثیت نہیں۔ باقاعدہ ٹھوس ثبوت جن کو کہ عدالت ریکارڈ کا حصہ بنائے وہ اس میں شامل نہیں‘۔

استغاثہ کے وکیل اکرم قریشی نے بھی اس سوال کے جواب میں کچھ ایسی ہی بات کی۔

’انڈیا نے کیس پراپرٹی ہمارے حوالے نہیں کی جیسا کہ حملے میں استعمال ہونے والے ہتھیار، گولیوں کے خول، کشتی اور حملہ آوروں کے فونز‘۔

پاکستان نے اس وقت انڈیا سے مطالبہ کر رکھا ہے کہ وہ اپنے 24 گواہوں کو جرح کے لیے پاکستان بھیجے۔ بظاہر انڈیا یہ کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔

رضوان عباسی کہتے ہیں کہ ’انڈیا کے حکام کو دفتر خارجہ کی جانب سے کئی خط لکھے جاچکے ہیں۔ پاکستان کی حکومت نے فوکل پرسن بھی مقرر کررکھا ہے۔ لیکن ابھی تک انڈیا نے کوئی جواب نہیں دیا‘۔

کیا مقدمہ اپنے انجام کو پہنچے گا؟

رضوان عباسی کا کہنا ہے ’عدالت کے ہاتھ بندھے ہوئے نہیں ہیں۔ اگر کئی مواقع دینے کے بعد بھی گواہ پیش نہیں ہوتے تو بھی عدالت فیصلہ کرسکتی ہے‘۔

استغاثہ کے وکیل اکرم قریشی کا کہنا تھا کہ ’اس سے مقدمے میں کمی تو رہے گی۔ لیکن اس کی ذمہ داری انڈیا پر ہوگی‘۔

آٹھ سال کے دوران نو ججوں کی تبدیلی کے بارے میں استغاثہ اور صفائی کے وکیلوں کا کہنا تھا کہ یہ معمول کی تبدیلیاں ہیں۔ دوسرے مقدموں میں بھی یہی صورتحال ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

ذکی الرحمان لکھوی سے متعلق سوال پر وکیل صفائی رضوان عباسی نے بتایا کہ انھیں سیکورٹی خدشات پر عدالت میں حاضری سے استثنی دیا گیا ہے لیکن وہ پاکستان میں ہی ہیں۔

رضوان عباسی کے مطابق اس مرحلے پر انڈیا کے مطالبے پر مقدمے میں از سرنو تحقیقات نہیں ہو سکتیں۔

’انڈیا اس معاملے کو حل کرنا ہی نہیں چاہتا۔ کیونکہ وہ اسے ایک سفارتی ہتھیار کے طور پر زندہ رکھنا چاہتا ہے جسے وہ جب چاہے پاکستان کے خلاف استعمال کرلے‘۔

انڈیا کی جانب سے حافظ سعید کو اس مقدمے میں نامزد کر کے گرفتار کرنے کے مطالبے پر ممبئی حملوں کے مقدمے میں وکیل صفائی رضوان عباسی کا کہنا تھا کہ عدالتیں انھیں اس معاملے سے پہلے ہی کلیئر کرچکی ہیں۔ ایسا کوئی ثبوت موجود نہیں جو حملوں میں حافظ سعید کا ملوث ہونا ثابت کرسکے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں