پاکستان حافظ سعید کو دوبارہ گرفتار کرے: امریکہ

حافظ سعید تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption حافظ سعید پر الزام ہے کہ انھوں نے 2008 میں ممبئی حملوں کی منصوبہ بندی کی تھی

امریکہ نے پاکستان پر زور دیا ہے کہ وہ جماعت الدعوۃ کے سربراہ حافظ سعید کو دوبارہ گرفتار کر کے ان پر فردِ جرم عائد کرے۔

حافظ سعید اس سال جنوری سے گھر میں نظر بند تھے۔

دوسری جانب جماعت الدعوۃ نے امریکہ کے بیان کی مذمت کرتے ہوئے اُسے امریکہ کی جانب سے پاکستان کی اندرونی معاملات میں مداخلت قرار دیا ہے۔ تنظیم کے ترجمان نے کہا کہ پاکستان کی عدالتیں آزاد اور غیر جانبدار ہیں۔

بدھ کو لاہور ہائی کورٹ کے تین رکنی ریویو بورڈ نے سماعت کے دوران سرکاری وکلا کے دلائل سننے کے بعد کہا تھا کہ حکومت حافظ سعید کے خلاف واضح ثبوت فراہم کرنے میں ناکام رہی ہے۔

اس کی بنیاد پر بورڈ نے ان کی نظر بندی کی مدت میں مزید توسیع نہ کرنے کا فیصلہ سنایا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

’پاکستان پر سفارتی دباؤ میں یقیناً اضافہ ہوگا‘

حافظ سعید کا بوجھ

اسلام آباد میں امریکی سفارت خانے کی ترجمان ہیدر ناورٹ کی طرف سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ 'امریکہ کو سخت تشویش ہے کہ لشکرِ طیبہ کے سربراہ حافظ سعید کی نظربندی ختم کر دی گئی ہے۔ لشکرِ طیبہ ایک طے شدہ غیرملکی دہشت گرد تنظیم ہے جو دہشت گرد حملوں میں سینکڑوں معصوم شہریوں، بشمول امریکیوں کی ہلاکت کی ذمےدار ہے‘۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ 'پاکستانی حکومت کو چاہیے کہ اس بات کو یقینی بنائے کہ انھیں گرفتار کر کے ان پر فردِ جرم عائد کرے‘۔

سفارت خانے کے بیان کے مطابق امریکی محکمۂ خزانہ نے مئی 2008 میں حافظ سعید کو عالمی دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کیا تھا۔ اس کے علاوہ نومبر 2008 میں ممبئی میں ہونے والے دہشت گرد حملوں کے بعد دسمبر 2008 میں اقوامِ متحدہ نے بھی انھیں دہشت گرد قرار دیا تھا۔

اس بارے میں مزید پڑھیے

ممبئی حملہ:’پاکستانی قیادت گھبراگئی تھی‘

ممبئی حملہ کیس : گواہ لاپتہ

ممبئی حملہ آوروں کو دفنا دیا گیا

ممبئی حملہ:’آئی ایس آئی میجر بھی ملزم‘

2012 کے بعد سے امریکہ نے حافظ سعید کے بارے میں اطلاعات فراہم کرنے پر ایک کروڑ ڈالر کا انعام مقرر کیا تھا۔

حافظ سعید نے بارہا ممبئی حملوں میں ملوث ہونے سے انکار کیا ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں