اسلام آباد: ’حساس عمارتوں کی حفاظت کے لیے فوج طلب‘

جیل کی ایل وین نذر آتش تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption مظاہرین نے جیل کی ایک وین کو نذر آتش کر دیا

پاکستان کی وزارت داخلہ کے اہلکار نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ اسلام آباد میں امن و امان کی صورتحال کے پیش نظر فوج طلب کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاہم فوج کی تعیناتی صرف حساس عمارتوں کی حفاظت کے لیے کی جائے گی۔

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق وزارت داخلہ کے اہلکار نے بتایا ہے کہ حکومت نے آئین کی دفعہ 245 کے تحت ملک کے دارالحکومت میں امن و امان کی صورتحال کے پیش نظر فوج طلب کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

اس سوال پر کہ کیا فوج دھرنے کے مظاہرین کے خلاف جاری آپریشن میں شرکت کرے گی، وزارت داخلہ کے اہلکار نے کہا کہ فوج کی تعیناتی صرف حساس عمارتوں کی حفاظت کے لیے کی جائے گی۔

یہ واضح نہیں کیا گیا کہ ایسا سنیچر کی شب کیا جائے گا یا اتوار کو۔

دھرنے کے بارے میں مزید پڑھیے

’دھرنے کے معاملے کو پرامن طریقے سے حل کیا جائے‘

اسلام آباد آپریشن: حالات اس نہج تک کیسے پہنچے؟

تصاویر: دھرنے کے خلاف آپریشن اور جھڑپیں

’جنرل باجوہ سے پوچھ لینا چاہیے تھا کہ بتائیں کیا کریں‘

زخمیوں کی کل تعداد 200 سے زیادہ ہوگئی

پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) کے ترجمان کے مطابق ہسپتال میں دھرنے کے خلاف آپریشن کے بعد صبح سے 168 زخمیوں کو لایا جا چکا ہے جن میں سے 52 کے علاوہ باقی تمام کو گھر روانہ کیا جا چکا ہے۔ ترجمان کے مطابق ہسپتال میں داخل زخمیوں میں سے کسی کی بھی حالت نازک نہیں ہے۔ زخمیوں میں سے 64 کا تعلق پولیس سے ، 53 کا تعلق ایف سی سے جبکہ 51 شہریوں کو بھی ہسپتال طبی امداد کے لیے لایا گیا۔

دوسری جانب راولپنڈی کے بینیظر بھٹو ہسپتال کے ترجمان نے بتایا کہ دن بھر میں ان کے پاس 41 زخمیوں کو لایا گیا ہے۔

آپریشن کی صورتحال

قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کی طرف سے مظاہرین کے خلاف کی جانے والی کارروائی کی شدت میں کمی آئی ہے۔ پولیس کی بھاری نفری دھرنے کے مقام کے قریبی علاقوں میں تو موجود ہے لیکن پولیس اہلکار اس طرح اکھٹے نہیں ہیں جس طرح وہ سنیچر کی صبح دھرنا دینے والوں کے خلاف متحرک تھے۔

پولیس ذرائع کے مطابق پولیس کی طرف سے اکا دکا ہوائی فائر کیے جاتے ہیں جبکہ دوسری طرف سے بھی ایسا ہی ہو رہا ہے۔ اسلام آباد پولیس کے حکام کا کہنا ہے کہ چونکہ اندھیرا کافی ہوچکا ہے اس لیے اس امکان کو مسترد نہیں کیا جا سکتا کہ کوئی ملک دشمن عناصر موقع کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے خودکش حملہ یا بم دھماکہ کردے، اس لیے قانون نافذ کرنے والے ادارے احتیاط سے کام لے رہے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption شہر میں مختلف مقامات پر پولیس اور مظاہرین میں جھڑپیں بھی ہوئیں

مظاہرین نے انڈیا سے رابطہ کیا، ہم تفتیش کر رہے ہیں: احسن اقبال

وفاقی وزیر داخلہ نے سنیچر کو ایک موقع پر کہا کہ ’انھوں (فیض آباد پر دھرنا دینے والے مظاہرین) نے انڈیا کے ساتھ رابطہ کیا تو کیونکر کیا، ہم یہ بھی تحقیقات کر رہے ہیں۔ یہ وہ چیزیں ہیں جو بتاتی ہیں کہ یہ لوگ اتنے سادہ نہیں ہیں۔ ان کے پاس ایسی کچھ خفیہ معلومات ہیں اور یہ ایسے وسائل رکھتے ہیں جو ریاست مخالف طور پر بھی استعمال ہوتے ہیں۔ ہمیں اس کے پیش نظر اپنی حکمت عملی بنانی ہے اور حکومت کے ادارے اس پر کام کر رہے ہیں۔ میں عوام سے بھی اپیل کروں گا کہ وہ ملک میں اس وقت کسی بھی قسم کی بدامنی کی سازش سے دور رہیں۔ یہ ختم نبوت کے عقیدے سے دشمنی ہے کہ آپ قوم کی صفوں میں انتشار پیدا کر رہے ہیں اور اپنی سیاست کے لیے ختم نبوت کے عقیدے کو استعمال کررہے ہوں‘۔

پی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے وفاقی وزیر برائے داخلہ احسن اقبال نے کہا کہ 'ملک میں انتشار پھیلانے میں ایک جماعت ملوث ہے۔ اس نے دو شہروں کے لاکھوں افراد کو یرغمال بنا رکھا ہے۔ کوشش ہے کہ کم سے کم نقصان کے ساتھ جگہ کو خالی کرایا جائے'۔

اس سے پہلے ان کا کہنا تھا ’حکومت دھرنے والوں کے ساتھ ہر وقت مذاکرات کے لیے تیار ہے۔ حکومت اسلامی احکامات اور ناموس رسالت کی پاسبان ہے۔ ہم ختم نبوت کے عقیدے کے محافظ ہیں۔ دھرنا دینے والوں کی سرگرمیوں سے ملک کا نام بدنام ہورہا ہے۔ دھرنے دینے والے اتنے سادہ نہیں ہیں‘۔

وفاقی وزیر قانون زاہد حامد کے گھر پر پتھراؤ

نامہ نگار عمر دراز کے مطابق ایس ایچ او سٹی پولیس سٹیشن پسرور خرم چیمہ نے تصدیق کی کہ ضلع سیالکوٹ میں پسرور شہرمیں واقع وفاقی وزیر قانون زاہد حامد کے گھر پر چند افراد نے گھیراؤ کر کے پتھراؤ کیا ہے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ حملے کے وقت گھر میں کوئی موجود نہیں تھا۔

دھرے کے مظاہرین وفاقی وزیر قانون زاہد حامد کے استعفیٰ کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

ملک بھر میں صحافی مظاہرین کی زد میں

فیض آباد آپریشن اور اس کے بعد ملک بھر میں جاری ردعمل کی کوریج کرنے والے صحافیوں کو اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں پوری کرنے میں مشکلات کاسامنا ہے۔ مظاہرین صحافیوں کو بھی تشددکا نشانہ بن رہے ہیں۔ اطلاعات ہیں کہ کراچی میں جیو نیوز کے رپورٹرز طلحہ ہاشمی اور طارق ابوالحسن مظاہرے کی کوریج کے دوران پتھراؤ کی زد میں آکر زخمی ہوئے ہیں جبکہ اسلام آباد میں مری روڈ پر سما ٹی وی کی ایک ڈی ایس این جی کو نذر آتش کر دیا گیا۔

کراچی میں بھی بدامنی

تصویر کے کاپی رائٹ Hameed Soomro

نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق رینجرز کو پولیس کے ساتھ مل کر صورتحال معمول پر لانے کے لیے اقدامات کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔

ڈی جی رینجرز سندھ کا کہنا تھا 'شہری پرامن رہیں۔ رینجرز کو سڑکوں پر آنے کا حکم دیا ہے۔ کسی کو شہریوں کی املاک کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دیں گے۔ کوئی بھی شہری قانون ہاتھ میں نہ لے۔ تیسرا ہاتھ حالات کا فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ صورتحال پرنظر رکھی ہوئی ہے'۔

اس سے پہلے ایس ایس پی ملیر راؤ انوار نے دعویٰ کیا تھا کہ ایک مقامی اور لسانی تنظیم نے احتجاج کو ہائی جیک کرنے اور صورتحال کو سنگین بنانے کی کوشش کی ہے۔ انھوں نے بتایا کہ سٹار گیٹ کے سامنے یہ احتجاج صبح دس بجے سے جاری تھا اور چار بجے شاہراہ فیصل کو کلیئر کر دیا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا 'ایک مقامی اور لسانی تنظیم کے لوگ بھی شاہ فیصل کالونی اور الفلاح سوسائٹی سے آکر اس احتجاج میں شامل ہوگئے، مولوی حضرات اور دوسروں میں فرق ہوتا ہے انھوں کی داڑھی، اور قمیض شلوار وغیرہ ہوتی ہے، لیکن یہ نوجوان تھے جنھوں نے پینٹ شرٹ پہن رکھی تھی، یہ انتشار پھیلانا چاہتے تھے تاکہ بھگدڑ مچے اور دونوں اطراف سے فائرنگ ہو، فائرنگ میں ہمارا ایک ایس ایچ او اور ایک ہیڈ کانسٹیبل زخمی ہوگیا ہے، تاہم صورتحال قابو میں کرلی گئی ہے'۔

اسی بارے میں