فیض آباد آپریشن کی ذمہ داری پنجاب رینجرز کے سربراہ کے پاس

رینجرز تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption رینجرز نے فیض آباد پر ہراول دستے کا کام سنبھال لیا ہے۔

اسلام آباد اور راولپنڈی کے سنگم پر واقع فیض آباد پر مذہبی جماعتوں کے دھرنے کے حوالے سے پولیس اور رینجرز کے آپریشن کی سربراہی پنجاب رینجرز کے سربراہ کو سونپ دی گئی ہے۔

اتوار کی شام وزارت داخلہ کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن میں بتایا گیا ہے کہ 26 نومبر سے تین دسمبر تک راولپنڈی اور اسلام آباد میں فیض آباد دھرنے کی وجہ سے پیدا ہونے والی صورتحال کو کنٹرول کرنے کے لیے میجر جنرل اظہر نوید حیات خان ڈائریکٹر جنرل پنجاب رینجرز کو اس تمام آپریشن کا انچارج تعینات کیا گیا ہے۔

اس سے قبل وزیراعظم ہاؤس میں اس ضمن میں ایک ہنگامی اجلاس ہوا جس کی صدارت وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے کی جبکہ اجلاس میں وزیر داخلہ احسن اقبال اور وزیر اعلیٰ پنجاب کے علاوہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ، ڈی جی آئی ایس آئی کے علاوہ پنجاب اور اسلام آباد پولیس کے سربراہان اور اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

اجلاس میں سنیچر کے روز دھرنا دینے والوں کے خلاف ہونے والی کارروائی میں قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کی ناکامی کے محرکات کا بھی جائزہ لیا گیا۔

اس کے علاوہ پیمرا کے ڈی جی میڈیا جاوید اقبال نے بی بی سی کو بتایا کہ تمام نجی چینلز کی نشریات بحال کرنے کے احکامات جاری کر دیے گئے ہیں۔ ان کے بقول پیمرا نے نجی چینلز کو نیا ضابطہِ کار بھی جاری کیا ہے۔ یاد رہے کہ گذشتہ روز سے فیض آباد دھرنے کے دوران حکومت نے نجی چینلز بند کر دیے تھے۔

ادھر حکومت کی جانب سے بظاہر لائحہِ عمل میں تبدیلی لائی گئی ہے اور رینجرز نے فیض آباد پر ہراول دستے کا کام سنبھال لیا ہے۔

اس کے علاوہ رینجرز کو فیض آباد کے اطراف میں کئی مقامات پر تعنیات بھی کر دیا گیا ہے۔ رینجرز اہلکاروں نے آئی جے پی روڈ، اسلام آباد ایکسپریس وے اور مری روڈ پر اپنی پوزیشنز سنبھال لی ہیں۔

اتوار کے روز ہونے والا اجلاس میں یہ پہلا موقعہ ہے کہ اس معاملے پر سویلین اور عسکری قیادت کے درمیان ملاقات ہوئی ہے۔

ذرائع کے مطابق اجلاس میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ مظاہرین کے ساتھ ایک مرتبہ پھر مذاکرات کیے جائیں۔ تاہم ابھی تک اس اجلاس میں یہ طے نہیں ہوا تھا کہ ان مذاکرات کو کیسے شروع کیا جائے گا کیونکہ دھرنا دینے والوں کے قائدین کا کہنا ہے کہ سنیچر کے روز قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کی طرف سے مظاہرین پر دھاوا بولنے کی وجہ سے فی الوقت حکومت کے ساتھ اس معاملے پر مذاکرات نہیں ہوں گے۔

وزیر اعظم ہاؤس کی طرف سے اس اجلاس کے بارے میں کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا۔

یاد رہے کہ اتوار کی صبح پاکستان کی وزارت داخلہ نے اسلام آباد میں حساس عمارتوں کی حفاظت کے لیے فوج کی تعیناتی کا حکم دیا تھا۔

فیض آباد میں پولیس کا آپریشن سنیچر کی رات سے معطل ہے اور اس دوران نجی نیوز چینلز کی نشریات کو بند کر دیا گیا تھا۔ تاہم اس وقت فیس بک، ٹوئٹر اور یوٹیوب کو بلاک کر دیا گیا ہے۔

سوشل میڈیا کی ویب سائٹس کو بلاک کرنے کے حوالے سے حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ وزارتِ داخلہ کے احکامات پر سنیچر کو سوشل میڈیا کی تین ویب سائٹس فیس بک، ٹوئٹر اور یوٹیوب کو ملک میں بند کر دیا گیا تھا اور تینوں ویب سائٹس فی الوقت غیر معینہ تک بند رہیں گی۔

دھرنے کے بارے میں مزید پڑھیے

’دھرنے کے معاملے کو پرامن طریقے سے حل کیا جائے‘

اسلام آباد آپریشن: حالات اس نہج تک کیسے پہنچے؟

تصاویر: دھرنے کے خلاف آپریشن اور جھڑپیں

’جنرل باجوہ سے پوچھ لینا چاہیے تھا کہ بتائیں کیا کریں‘

پیمرا نے سنیچر کی دوپہر کو اسلام آباد میں دھرنے کے خلاف کارروائی کی براہ راست کوریج پر نجی نیوز چینلز کو بند کر دیا تھا لیکن ان نیوز چینلز کی ویب سائٹس پر لائیو کوریج آ رہی تھی تاہم بعد میں حکومتی ذرائع کا کہنا تھا کہ ویب سائٹس پر لائیو کوریج کو بھی بند کیا جا رہا ہے۔

پیمرا حکام نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں تاحال بند نجی نیوز چینلز کو جلد کھول دیا جائے گا اور اس حوالے سے پیمرا ایک نیا ضابطۂ کار تیار کر رہا ہے۔

دوسری جانب مختلف شہروں میں احتجاجی مظاہروں کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں جبکہ اسلام آباد کے مضافاتی علاقے روات میں بی بی سی کے نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق مظاہرین نے پولیس کی ایک چیک پوسٹ کو آگ لگا دی ہے۔

آپریشن کی صورتحال

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption مظاہرین نے جیل کی ایک وین کو نذر آتش کر دیا

فیض آباد میں دھرنا دینے والے مظاہرین کے خلاف قانون نافذ کرنے والے اداروں کا آپریشن سنیچر کی رات سے معطل ہے اور اس وقت مظاہرین دھرنے کے مقام پر ہی موجود ہیں۔

قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کی طرف سے مظاہرین کے خلاف کی جانے والی کارروائی کی شدت میں سنیچر کی شام سے کمی آئی ہے۔ پولیس کی بھاری نفری دھرنے کے مقام کے قریبی علاقوں میں تو موجود ہے لیکن پولیس اہلکار اس طرح اکھٹے نہیں ہیں جس طرح وہ سنیچر کی صبح دھرنا دینے والوں کے خلاف متحرک تھے۔

آپریشن میں زخمیوں اور ہلاکتوں کی تعداد

ریسکیو 1122 کے ایک ترجمان نے نامہ نگار شجاع ملک کو بتایا کہ اب تک سات افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ ان میں سے چھ افراد راولپنڈی جبکہ ایک شخص پنڈی بھٹیاں میں ہلاک ہوا ہے۔

پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) کے ترجمان کے مطابق ہسپتال میں دھرنے کے خلاف آپریشن کے بعد سے 168 زخمیوں کو لایا گیا جن میں سے 52 کے علاوہ باقی تمام کو گھر روانہ کیا جا چکا ہے۔ زخمیوں میں سے 64 کا تعلق پولیس سے، 53 کا تعلق ایف سی سے جبکہ 51 شہریوں کو بھی ہسپتال طبی امداد کے لیے لایا گیا۔

دوسری جانب راولپنڈی کے بینظر بھٹو ہسپتال کے ترجمان نے بتایا کہ دن بھر میں ان کے پاس 41 زخمیوں کو لایا گیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption شہر میں مختلف مقامات پر پولیس اور مظاہرین میں جھڑپیں بھی ہوئیں

مظاہرین نے انڈیا سے رابطہ کیا، ہم تفتیش کر رہے ہیں: احسن اقبال

وفاقی وزیر داخلہ نے سنیچر کو ایک موقع پر کہا کہ ’انھوں (فیض آباد پر دھرنا دینے والے مظاہرین) نے انڈیا کے ساتھ رابطہ کیا تو کیونکر کیا، ہم یہ بھی تحقیقات کر رہے ہیں۔ یہ وہ چیزیں ہیں جو بتاتی ہیں کہ یہ لوگ اتنے سادہ نہیں ہیں۔

پی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے وفاقی وزیر برائے داخلہ احسن اقبال نے کہا کہ 'ملک میں انتشار پھیلانے میں ایک جماعت ملوث ہے۔ اس نے دو شہروں کے لاکھوں افراد کو یرغمال بنا رکھا ہے۔ کوشش ہے کہ کم سے کم نقصان کے ساتھ جگہ کو خالی کرایا جائے'۔

اس سے پہلے ان کا کہنا تھا ’حکومت دھرنے والوں کے ساتھ ہر وقت مذاکرات کے لیے تیار ہے۔ حکومت اسلامی احکامات اور ناموس رسالت کی پاسبان ہے۔ ہم ختم نبوت کے عقیدے کے محافظ ہیں۔ دھرنا دینے والوں کی سرگرمیوں سے ملک کا نام بدنام ہورہا ہے۔ دھرنے دینے والے اتنے سادہ نہیں ہیں‘۔

وفاقی وزیر قانون زاہد حامد کے گھر پر پتھراؤ

نامہ نگار عمر دراز کے مطابق ایس ایچ او سٹی پولیس سٹیشن پسرور خرم چیمہ نے تصدیق کی کہ ضلع سیالکوٹ میں پسرور شہرمیں واقع وفاقی وزیر قانون زاہد حامد کے گھر پر چند افراد نے گھیراؤ کر کے پتھراؤ کیا ہے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ حملے کے وقت گھر میں کوئی موجود نہیں تھا۔

دھرے کے مظاہرین وفاقی وزیر قانون زاہد حامد کے استعفیٰ کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

ملک بھر میں صحافی مظاہرین کی زد میں

فیض آباد آپریشن اور اس کے بعد ملک بھر میں جاری ردعمل کی کوریج کرنے والے صحافیوں کو اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں پوری کرنے میں مشکلات کاسامنا رہا۔ مظاہرین صحافیوں کو بھی تشدد کا نشانہ۔ اطلاعات کے مطابق کراچی میں جیو نیوز کے رپورٹرز طلحہ ہاشمی اور طارق ابوالحسن مظاہرے کی کوریج کے دوران پتھراؤ کی زد میں آکر زخمی ہوئے جبکہ اسلام آباد میں مری روڈ پر سما ٹی وی کی ایک ڈی ایس این جی کو نذر آتش کر دیا گیا۔

اسی بارے میں