ایک جانب دھرنا دوسری جانب دبیز خاموشی، ایسا کب تک چلتا رہے گا؟

دھرنا تصویر کے کاپی رائٹ GETTY IMAGES
Image caption آخری اطلاعات تک اب ذرائع سے یہ خبریں چل رہی ہیں کہ فوج نے حکومت کو ایک بار پھر مذاکرات کا راستہ اختیار کرنے کی صلاح دی ہے

بات پارلیمان کے ایوانوں سے نکل کر سڑکوں تک پہنچ گئی ہے۔ اگر آپ کسی پبلک ٹرانسپورٹ میں بیٹھ جائیں کسی شاہراہ پر کھڑے ہو جائیں تو عام لوگ اس کنفیوژن کا شکار نظر آتے ہیں کہ ملک میں یہ ہو کیا رہا ہے؟ کیا سب ایسے ہی چلتا رہے گا؟

گذشتہ 21 روز سے فیض آباد پر دھرنا دینے والے افراد کی نظر میں وزیر قانون توہین مذہب کے مرتکب تو نہیں لیکن وہ اصرار کر رہے ہیں کہ وزیر قانون مستعفی ہوں اور راجہ ظفر الحق الیکشن ایکٹ کے حلف نامے کی تبدیلی کی مبینہ سازش کرنے والوں کی رپورٹ منظر عام پر لائیں لیکن تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ کا کہنا ہے کہ یہ رپورٹ اتنی جلد منظر عام پر نہیں لائی جا سکتی۔

بی بی سی سے گفتگو میں راجہ ظفر الحق نے کہا کہ 'الیکشن ایکٹ سے متعلق کمیٹی نے 2014 میں کام شروع کیا تھا اس کے 90 سے زیادہ اجلاس ہوئے۔ سب کمیٹی کے اجلاس۔ اس سب کو دیکھنے کے لیے لمبا ٹائم چاہیے۔ میں نے پارٹی کے ہیڈ کو تو بتا دیا کتنا ٹائم چاہیے تاہم آپ کو نہیں بتا سکتا۔'

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption آپریشن شروع ہونے کے بعد فیض اباد کے نواحی علاقوں سمیت ملک کے دیگر بڑے شہروں میں بھی احتجاج شروع ہوا جو اب بھی جاری ہے۔

اتوار کو پاکستانی میڈیا اور سوشل گروپس میں وفاقی وزیر قانون زاہد حامد کا ایک ویڈیو پیغام پھر سے شیئر ہوتا دیکھنے کو ملا جس میں وہ اپنے مسلمان اور ختم نبوت پر یقین کی گواہی دے رہے ہیں۔ 'میں سچا عاشق رسول ہوں۔'

لیکن اب جب واٹس ایپ کے گروپس میں اور سوشل میڈیا پر آپ کے اپنے ہی دوست احباب بھی آپ کے ایمان کی گواہی مانگنے لگیں تو آپ اندازہ کر سکتے ہیں کہ خاموش رہنے کا مطلب کیا لیا جا سکتا ہے؟

بات دھرنے سے آپریشن اور اب فوج کی تعیناتی تک پہنچ چکی ہے۔

کیا ایک ایسا ملک جہاں کسی ایک شخص کی گواہی پر کوئی غیر مسلم بھی توہین مذہب و رسالت کے الزام سے نہیں بچ سکتا وہاں کی حکومت کیسے اس سے جڑے کسی بھی ریاستی قانون کو ختم کرنے کا سوچ سکتی ہے؟ یا پھر حکومت نے خود اپنے پاؤں پر کلہاڑی مارنے کی ٹھانی تھی؟

اتنی حساس صورتحال پر پارلیمان میں موجود زیادہ تر سیاسی جماعتیں دبیز خاموشی کی لپیٹ میں کیوں دکھائی دے رہی ہیں؟

پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے سنیچر کو اپنے تفصیلی بیان میں دھرنے کے شرکا سے ایک قدم آگے بڑھ کر نہ صرف وزیر قانون بلکہ وزیر داخلہ اور وزیراعظم کے استعفے کا بھی مطالبہ کر دیا۔

پیپلز پارٹی کی سینیئر قیادت سے بارہا اس معاملے پر بات کرنے کی کوشش کی تاہم ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔

جماعت اسلامی کے سربراہ سراج الحق نے جلسے میں مصروف ہونے کی وجہ سے بات کرنے سے معذرت کی۔

پاکستان عوامی لیگ کے سربراہ شیخ رشید اس پر تبصرہ کرنے سے انکار کرتے ہیں کہ دھرنا دینے والی جماعت نے ٹھیک کیا یا غلط لیکن وہ اس پر قوی یقین رکھتے ہیں کہ الیکشن کے حلف نامے کی تبدیلی غلطی نہیں بلکہ نواز شریف کے علم میں لا کر کی گئی ایک سازش ہے۔

اے این پی، قومی وطن پارٹی، جمعیت علمائے اسلام فضل الرحمن گروپ اور دیگر جماعتوں کے مختلف نمبروں پر بھی رابطہ کیا لیکن پارلیمانی اراکین کی نامعلوم مصروفیات کی وجہ سے بات نہیں ہو سکی۔

دوسری جانب فوج کیوں نہیں چاہتی کہ وہ مظاہرین کو ایک پیغام دے کہ ملک کی سکیورٹی ایسے دھرنوں کی متحمل نہیں ہو سکتی۔

Image caption اتوار کی صبح ایک پولیس اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ہمیں پیچھے آنے کو کہا گیا اور اب رینجرز آگے موجود ہے۔‘

وزارت داخلہ اور ملٹری آپریشن ڈائریکٹریٹ کے دفتر سے جاری تحریری بیان کی تصدیق یا تردید کرنے سے فوج کا تعلقات عامہ کا ادارہ گریزاں کیوں ہے؟

شاید اس حساس معاملے پر نہ پارلیمان اور نہ ہی فوج میں سے کوئی بات کرنا چاہتا ہے۔

کل بروز پیر پنجاب کے تعلیمی ادارے بند رہیں گے۔ چیلنز کو بحال کر دیا گیا ہے اور سوشل میڈیا سائٹس بھی کھل گئی ہیں۔

آخری اطلاعات تک اب ذرائع سے یہ خبریں چل رہی ہیں کہ فوج نے حکومت کو ایک بار پھر مذاکرات کا راستہ اختیار کرنے کی صلاح دی ہے۔

رینجرز اہلکار اوّل دستے کے طور پر فیض آباد میں دھرنے کو کنٹرول کرنے کے لیے موجود ہیں اور وزارت داخلہ کے مراسلے کے مطابق میجر جنرل اظہر نوید حیات خان ڈائریکٹر جنرل پنجاب رینجرز اس تمام آپریشن کے انچارج تعینات کیے گئے ہیں۔

کل ملک بھر میں پہیہ جام ہڑتال کیا نتائج لائے گی اس بارے میں ابھی کچھ نہیں کہا جا سکتا تاہم تحریک لبیک یا رسول اللہ کے رضوی میڈیا پیج پر چھ گھنٹے قبل لگائے جانے والے بیان میں درج ہے’ فوج ایسے ہی ہمیں نہیں اٹھائے گی بلکہ کچھ ہمارے مطالبات مانے گی تو کچھ اپنے منوائے گی اور ہمارا مطالبہ فوج سے صرف زاہد حامد کو ہٹانے کا نہیں ہوگا، ہم سب معاملات فوج کو بتا کر سمجھا کر زاہد حامد سمیت اور بھی بہت سے کرداروں کو سزا دلوائیں گے اور اگر ہماری بات فوج نے نہ مانی تو ہم شہادت کے لیے خود کو پیش کردیں گے۔‘

اسی بارے میں