اسلام آباد دھرنا: شہر کو بند کرنے کی قیمت؟

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اسلام آباد کو راولپنڈی سے ملانے والی اس شہراہ پر ہر وقت ٹریفک رواں رہتی تھی لیکن ان دنوں دھرنے کی وجہ سے سڑکیں خالی ہیں

پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں دھرنوں کی روایت نئی نہیں ہے اور گذشتہ چند برسوں میں کئی بار دھرنے ہوئے ہیں۔ گو کہ ان دھرنوں کے مطالبات و مقاصد مختلف تھے لیکن ان میں مشترک بات عوام کی پریشانی اور معیشت کا نقصان ہے۔

حکومت کا کہنا ہے کہ دھرنوں سے معیشت کو دھچکا پہنچا ہے۔

2014 میں پاکستان تحریک انصاف نے اسلام آباد کے مرکز ڈی چوک پر پارلیمنٹ کے سامنے 126 دن تک دھرنا دیا۔

اس بارے میں مزید پڑھیے

پنجاب رینجرز کے سربراہ فیض آباد آپریشن کے انچارج

فیض آباد پر ناکہ نہیں ہانکہ لگا ہوا ہے

ایک جانب دھرنا دوسری جانب دبیز خاموشی

پاکستان کی حکومت کا کہنا ہے کہ اس دھرنے کے سبب معیشت کو 547 ارب روپے کا نقصان ہوا ہے۔

حکومت کی جانب سے سپریم کورٹ میں جمع کروائی گئی رپورٹ کے مطابق اس دھرنے کے سبب پاکستانی روپے کی قدر کم ہونے کی وجہ سے قرضوں کی ادائیگی میں زیادہ رقم ادا کرنا پڑی اور منفی تاثر کے سبب سٹاک مارکیٹ میں بھی مندی سے 319 ارب روپے کا نقصان ہوا۔

حکومت کا کہنا تھا کہ اس دھرنے کے سبب قانون نافذ کرنے والے اداروں کو اضافی 35 کروڑ 76 لاکھ روپے دیے گئے ہیں جبکہ تاجر برادری نے بلیو ایریا کے کاروباری مراکز بند ہونے کے سبب 10 ارب روپے کے نقصان کا دعویٰ کیا تھا۔

اسلام آباد روالپنڈی کو ملانے والی اہم شاہراہ فیض آباد انٹر چینج پر گذشتہ اکیس روز سے اب مذہبی جماعتوں کا دھرنا جاری ہے جس کی وجہ سے معمولاتِ زندگی بری طرح متاثر ہیں۔

خاتونِ خانہ تسکین بیگم کہتی ہیں کہ دھرنے کے سبب اُن کے اخراجات بڑھ گئے ہیں۔

وہ کہتی ہیں کہ ’بچوں کے سکول کے وین ڈرائیور نے بچوں کو لے کر جانے سے انکار کر دیا ہے اب ٹیکسی پر سکول چھوڑنے جاتی ہوں، پیسے بھی زیادہ لگتے ہیں اور پریشانی الگ ہوتی ہے۔ پتہ نہیں مسئلہ کب حل ہو گا۔‘

سبزی کی دکان پر خریداری کرتے ہوئے تسکین بیگم کہتی ہیں کہ ’پالک کی ایک گڈی چالیس روپے کی ملی ہے، دیکھیں آدھی سے زیادہ خراب اور پرانی ہے۔ پیاز سو روپے کلو میں بک رہا ہے۔ کہتے ہیں کہ منڈیاں بند پڑی ہیں۔'

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پولیس نے فیض آباد کو خالی کروانے کے لیے آپریشن شروع کیا تھا لیکن کچھ ہی دیر بعد یہ آپریشن روک دیا گیا

اہم شاہراہیں بند ہیں اور آدھے گھنٹے کا سفر گھنٹوں میں طے ہو رہا ہے۔

اسلام آباد کی سبزی منڈی میں سامان کی ترسیل سست رفتاری کا شکار تو تھی ہی لیکن مذہبی جماعت کے دھرنے کو ختم کروانے کے لیے حکومتی آپریشن کے بعد ہائی ویز پر اب ہر طرح کی آمد و رفت معطل ہے۔

اسلام آباد کی سبزی منڈی کا شمار پاکستان کی سب بڑی پھل اور سبزی کی منڈی کے طور پر ہوتا ہے۔

اسلام آباد چیمبر آف کامرس کے صدر شیخ عامر وحید کے مطابق گلگت بلتستان، پاکستان کے زیر انتظام کشیمر اور شمالی علاقہ جات کو کھانے پینے کی اشیا، پھل اور سبزیاں اسلام آباد کی منڈیوں سے ہی فراہم کی جاتی ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ 'یہاں کوئٹہ، ایران، افغانستان سے بھی مال آتا ہے، جو پھر پورے ملک میں جاتا ہے۔'

اسلام آباد چیمبر آف کامرس کے صدر شیخ عامر وحید کے مطابق 'منڈی میں ہونے والے یومیہ کاروبار کی حتمیٰ مالیت کے بارے میں تو کچھ کہا نہیں جا سکتا لیکن روزانہ تقریباً ایک ارب روپے کا کاروبار ہوتا ہے۔'

مذہبی جماعت کے دھرنے کے سبب اسلام آباد اور راولپنڈی میں داخل ہونے والے مال بردار ٹرکوں کو بہت لمبے راستے سے گزرنا پڑتا ہے۔ سڑکیں بند ہونے، ٹریفک کے ہجوم اور شہر کے اندر داخل ہونے سے انھیں گھنٹوں قطاروں میں کھڑے رہنا پڑتا ہے۔ طویل انتظار سے پھل اور سبزیاں خراب ہو جاتی ہیں۔

تحریک لبیک یا رسول اللہ کا دھرنا فیض آباد پر ہے اور اس کی وجہ سے مری روڈ پر فیض آباد سے شمس آباد تک کے علاقے میں موجود دکانیں بند ہیں۔

آل پاکستان تاجر اتحاد کے سربراہ اجمل بلوچ کے مطابق دھرنے کے سبب مری روڈ پر دوکانین بند ہونے سے تاجروں کو مشکلات ہو رہی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption دھرنے سے اقتصادی نقصانات تو ہوتے ہی ہیں لیکن ہر بار ہونے والا دھرنا ریاست کی عملداری کو چیلنج بھی کرتا ہے

ہر چیز کی کوئی نہ کوئی قیمیت ہوتی ہے اور ان پاکستان کی معیشت کو بھی ان دھرنوں کی قیمت چکانی پڑ رہی ہے۔

گو کہ حتمیٰ طور پر تو اس کے معاشی نقصان کا تخمینہ تو نہیں لگایا جا سکتا لیکن اقتصادی تجزیہ کاروں کے مطابق روزانہ کی آمدن، اور محصولات کی بنیاد پر نقصان کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

اقتصادی تجزیہ کار ڈاکٹر عابد سلہری کے مطابق اگر کسی مارکیٹ کی ماہانہ سیل کروڑوں میں ہے اور دس دن مارکیٹ بند رہے تو اس سے نقصان کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ 'اس طرح سے کاروباری سرگرمیوں کا معطل رہنا معیشت کے لیے اچھا اشارہ نہیں ہے اور اس سے سرمایہ کاروں کو غلط تاثر ملتا ہے۔

دھرنے سے اقتصادی نقصانات تو ہوتے ہی ہیں لیکن ہر بار ہونے والا دھرنا ریاست کی عملداری کو بھی چیلنج کرتا ہے، جو کسی طور بھی معیشت کے لیے سود مند نہیں ہے۔

ماہرین کے خیال میں ایک ایسے ملک جہاں چند ہزار لوگ دارالحکومت کو یرغمال بنانے کی صلاحیت رکھتے ہوں، وہاں جا کر سرمایہ کاری کرنا انتہائی مشکل فیصلہ ہو گا۔

اسی بارے میں