اسلام آباد دھرنا: وزیرِ قانون زاہد حامد کا استعفیٰ منظور

تصویر کے کاپی رائٹ NA.GOV.PK
Image caption مذہبی جماعتوں نے وزیر قانون زاہد حامد کے استعفیٰ کا مطالبہ کرتے ہوئے حکومت کے خلاف دھرنا دے رکھا ہے

وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے وزیر قانون زاہد حامد کا ’رضاکارانہ‘ استعفی منظور کر لیا ہے۔ سرکاری ذرائع کے مطابق وزیر اعظم نے زاہد حامد کا استعفیٰ اپنی سعودی عرب روانگی سے پہلے منظور کیا۔

ابھی یہ فیصلہ نہیں ہوا کہ وزارت قانون کا قلمدان کس کو سونپا جائے گا۔ اس وقت بیرسٹر ظفر اللہ قانونی امور سے متعلق وزیر اعظم کے مشیر کی ذمہ داریاں ادا کرر ہے ہیں۔

گذشتہ روز زاہد حامد نے وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف سے ایک گھنٹہ طویل اہم ملاقات کی تھی، جس میں ملک کو بحران سے نکالنے کے لیے استعفیٰ دینے کا فیصلہ کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیے

دھرنا ہوم ورک

ایک جانب دھرنا دوسری جانب دبیز خاموشی

دھرنے کتنے مہنگے پڑتے ہیں؟

زاہد حامد کا استعفیٰ پیش کرنے کے موقعے پر جاری کردہ بیان میں کہنا ہے کہ ان کا ترمیمی بل سے براہِ راست کوئی تعلق نہیں اور یہ تمام پارلیمانی جماعتوں کا متفقہ منظورکردہ بل تھا۔

سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق زاہد حامد نے ملک میں کشیدہ صورتحال کو ختم کرنے کے لیے رضاکارانہ فیصلہ کیا اور اس حوالے سے تفصیلی بیان بھی جاری کریں گے۔

گذشتہ روز وزیراعظم ہاؤس میں اس ضمن میں ایک ہنگامی اجلاس ہوا جس کی صدارت وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے کی ،جبکہ اجلاس میں وزیر داخلہ احسن اقبال اور وزیر اعلیٰ پنجاب کے علاوہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ، ڈی جی آئی ایس آئی کے علاوہ پنجاب اور اسلام آباد پولیس کے سربراہان اور اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption رینجرز نے فیض آباد پر ہراول دستے کا کام سنبھال لیا ہے

اجلاس میں سنیچر کے روز دھرنا دینے والوں کے خلاف ہونے والی کارروائی میں قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کی ناکامی کے محرکات کا بھی جائزہ لیا گیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption تحریک لبیک یا رسول اور سنی تحریک نے حکومت پر الزام عائد کیا کہ الیکشن ایکٹ 2017 میں ختم نبوت سے متعلق شق کو جان بوجھ کر بدلا گیا

خیال رہے کہ اس سال اکتوبر کے اوائل میں پاس ہونے والے الیکشن ایکٹ 2017 میں شامل چند ترامیم پر تنازع کھڑا ہوا تھا جسے حکومت نے محض 'کلیریکل غلطی' قرار دیا لیکن حزب اختلاف کی جماعتوں نے احتجاج کیا اور مطالبہ کیا کہ ذمہ دار افراد کے خلاف جوڈیشل انکوائری کی جائے۔

یہ ترامیم احمدیہ جماعت سے متعلق تھیں جنھیں حکومت پاکستان نے 1974 میں ایک آئینی ترمیم کے تحت غیر مسلم قرار دے دیا تھا۔ حزب اختلاف کی جانب سے نشاندہی کے بعد حکومت نے الیکشن ایکٹ میں ان شقوں کو ان کی پرانی شکل میں بحال کر دیا تھا۔

دو سیاسی جماعتوں، تحریک لبیک یا رسول اور سنی تحریک نے حکومت پر الزام عائد کیا کہ الیکشن ایکٹ 2017 میں ختم نبوت اور جماعت احمدیہ سے متعلق شق کو جان بوجھ کر بدلا اور اسے ایک بڑی سازش کا حصہ قرار دیا۔

دونوں جماعتوں نے الزام لگایا کہ وزیر قانون زاہد حامد ان ترامیم کے ذمہ دار ہیں اور ان کے استعفیٰ کا مطالبہ کرتے ہوئے انھوں نے حکومت کے خلاف اسلام آباد میں چھ نومبر سے دھرنا دیا تھا۔

اسی بارے میں