اسلام آباد دھرنا: جو یوں ہوتا تو کیا ہوتا!

اسلام آباد دھرنا تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

اکثر لوگ تحریک لبیک یا رسول اللہ کے دھرنے کو تین ہفتوں پر محیط قرار دیتے ہیں، لیکن دراصل یہ اس سے کہیں طویل عمل تھا۔

اب شاید کسی کو یاد نہیں رہا لیکن تحریک نے چھ نومبر کو اس احتجاج کا آغاز نہیں کیا تھا۔ اس سے قبل وہ اکتوبر میں دس روز تک جناح ایونیو پر دھرنا دے چکے تھے اور اسلام آباد انتظامیہ کی تبنیہ کی بجائے شاید اپنی کسی حکمت عملی کے تحت واپس لوٹے تھے لیکن جانے سے قبل یہ اعلان ضرور کیا کہ وہ دوبارہ لاہور سے آئیں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

اس پہلے دھرنے کو میڈیا نے کوئی زیادہ کوریج نہیں دی لہٰذا کسی نے نوٹ بھی نہیں کیا۔ احتجاج کرنے والوں کو شاید چونکہ کوئی خبر نہیں بن رہی تھی تو دوبارہ سے لاہور سے نئی حکمت علمی کے ساتھ آنے کا فیصلہ کیا۔ اس مرتبہ انھوں نے دھرنے کے لیے ایسی جگہ کا انتخاب کیا جو تکلیف اور خبر دونوں کا باعث بنے۔

اس موقعے پر اٹھنے والے آٹھ سوال، اگر جن پر غور کیا جاتا تو شاید نتائج مختلف ہوتے۔

  1. اگر اسلام آباد کی انتظامیہ انہیں فیض آباد پر روکنے کی بجائے جناح ایونیو آنے دیتی تو کیا نتیجہ آج مختلف ہوتا؟
  2. پہلے دھرنے سے لوٹنے کے بعد خفیہ ایجنسیاں کہاں سوئی ہوئی تھیں؟ انھوں نے ان کی نبض کیوں بروقت نہیں دیکھی۔ کیا اس وقت اگر تحریک کے رہنماؤں کو گھروں سے نکلنے سے پہلے نظربند کیا جاتا تو کیا نتیجہ آج مختلف ہو سکتا تھا؟
  3. عدالتوں نے کیا انتظامی امور میں مداخلت کی جب انھوں نے حکومت کو مظاہرین کو فیض آباد سے تین روز میں ہٹانے کا حکم دیا؟ اگر عدالت ایسا نہ کرتی تو شاید احتجاج اب تک چل رہا ہوتا لیکن ملک کو پرتشدد کارروائی سے بچایا جا سکتا تھا؟
  4. اسلام آباد پولیس اور فرنٹیر کنسٹیبلٹری مکمل طور پر تیار اور کسی منظم منصوبے کے بغیر ہی بظاہر میدان میں جھونک دی گئی۔ اکثر کا تعلق اسلام آباد سے نہیں تھا اور انھیں یہاں کی گلی کوچوں کا بھی کوئی اندازہ نہیں تھا جہاں مظاہرین نے پناہ لے لی اور دوبارہ منظم ہو کر لوٹے اور پولیس کو بچھاڑ دیا۔ کیا بہتر تیاری کی کمی تھی؟
  5. فیض آباد کارروائی کے آغاز سے قبل میڈیا کو پیمرا کے مطابق ایڈوائزری جاری کی گئی لیکن یہ نہیں بتایا گیا کہ اس میں کیا ہدایات دی گئیں۔ کیا پیمرا نے مکمل بلیک آوٹ کا کہا تھا یا نہیں؟ کسی کرکٹ میچ کی طرز پر لائیو کوریج نہ ہونے کی صورت میں کیا نتیجہ مختلف ہو سکتا تھا؟
  6. بظاہر حکومت اپنی رٹ خود خراب کرنے پر تلی تھی۔ تمام نیوز چینلوں کی وزیر اعظم اور فوجی سربراہ کی ملاقات کے بعد کھولنے سے بعض فوج نواز چینلوں نے اسے اس ملاقات سے جوڑا، حالانکہ ایسا کچھ نہیں تھا۔ نیوز چینلز کی بحالی کیا کسی بہتر انداز میں مناسب وقت پر نہیں کی جا سکتی تھی؟
  7. وزیر داخلہ احسن اقبال کی جانب سے پہلے سرکاری ٹی وی پر آ کر پولیس کارروائی کا دفاع کرنا اور بعد میں اس سے علیحدگی اختیار کرنے سے یقیناً پولیس اور اسلام آباد کی انتظامیہ نے اچھا اثر نہیں لیا ہو گا۔ وزیر داخلہ اگر خود کو الگ نہ کرتے تو کیا نقصان ہوتا؟
  8. پاکستان فوج لال مسجد کا سبق شاید اچھی طرح سمجھ گئی تھی کہ مذہبی تنازعات بات چیت کے ذریعے ہی حل کیے جانے چاہییں۔ اگر فوج بھی اس تنازعے میں کود پڑتی اور طاقت کا ساتعمال کرتی تو کیا ہوتا؟

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں