’یہاں تو قائدین نے ایسا کوئی اعلان نہیں کیا!‘

فیض آباد میں دھرنے کے مقام پر ایک ادھیڑ عمر خاتون نظر آئیں تو ان سے پوچھا کہ کیا وہ یہاں ہر روز آتی تھیں، انھوں نے جواب دیا کہ وہ روزہ رکھتی ہیں اور دھرنے میں آ جاتی ہیں۔ ’لیکن جھوٹ نہیں بولوں گی میں کبھی دھرنے والوں کے لیے کھانے پینے کو کچھ نہیں لائی۔‘

حالانکہ میں نے ان سے ایسا کوئی سوال نہیں پوچھا تھا مگر شاید انھوں نے عدالت کی کارروائی کی وہ خبر سنی ہو گی جس میں جج نے متعلقہ اداروں کو ہدایت دی تھی کہ وہ دھرنے والوں کے کھانے پینے اور فنڈنگ وغیرہ سے متعلق رپوٹ پیش کریں۔ آخر میں ان خاتون نے مجھے یہ بھی کہا کہ میں ٹی وی کے لیے ان کی ویڈیو بھی بنواؤں۔

اسلام آباد دھرنا کتنا مہنگا پڑا؟

’وردی والوں کو معاہدہ کا حصہ نہیں بننا چاہیے تھا‘

فوجیوں کو سیاست کا شوق ہے تو نوکری چھوڑ دیں: جج

آرمی کی ’ضمانت‘ پر دھرنا ختم کرنے کا اعلان

جو یوں ہوتا تو کیا ہوتا!

آج فیض آباد کے مقام پر مذہبی جماعت کے دھرنے کا آخری دن تھا اور آج بھی دھرنے میں خواتین کو رپورٹنگ کی اجازت نہیں تھی۔

یہ بات ہر پانچ منٹ کے بعد اس دھرنے میں شریک ڈنڈا بردار شخص آ کر بتا رہا تھا۔ ان میں سے چند بھائی صاحبان مجھے پردے کے تقدس کا درس بھی دے رہے تھے۔ ایک بزرگ نے آ کر بتایا کہ وہ مجھے کافی دیر سے دیکھ رہے تھے اور یہ کہ میں ’ڈر کیوں رہی تھی۔‘ کچھ کہتے کہ آپ صرف ’اچھی تصویریں بنائیں۔‘ ایک نے صاف کہہ دیا کہ اگر میں نے سامان سمیٹتے کسی شخص کی فوٹو لی تو وہ مجھے دھرنے کے مقام پر کھڑا رہنے کی اجازت نہیں دیں گے۔

یہاں ہمیں ایک ایسا شخص بھی ملا جس کا تعلق کشمیر سے تھا اور نام سید کاشف حسین شاہ تھا، وہ دو دن سے اپنے دو جوان بھائیوں کی تلاش میں تھا جو آپریشن کے دوران، ان کے مطابق، کچھ لوگوں نے اس وقت پکڑ لیے جب وہ مری روڈ پر ایک عمارت میں چھپے ہوئے تھے۔ تب سے انھیں کئی ہسپتالوں تھانوں میں ڈھونڈا مگر بے سود۔ کاشف نے بتایا کہ وہ بہت خوش ہیں کہ انھیں اس مقصد میں کامیابی حاصل ہوئی جس کے لیے وہ اور ان کے ساتھی ’حضرت خادم حسین رضوی صاحب کے دھرنے میں آئے تھے۔ لیکن ہم تب تک نہیں جائیں گے جب تک ہمارے ساتھی مل نہیں جاتے۔‘

یہاں کئی لوگ سامان سمیٹ کر جاتے نظر آئے اور کئی ایسے بھی تھے جنھیں ہم نے بتایا کہ معاہدہ طے پا گیا ہے اور انھیں یقین نہ آیا۔ ’یہاں تو قائدین نے ایسا کوئی اعلان نہیں کیا!‘، ان میں سے ایک نے کہا۔

اس مقام کے ارد گرد کاروبار بالکل بند پڑا تھا۔ ایک دکاندار ثاقب خان اپنے ساتھی سمیت دکان پر بیٹھے تھے۔ اس سوال پر کہ وہ کیا سمجھتے ہیں کہ حالات اس نہج پر پہنچانے کا ذمہ دار کون ہے، تو وہ حکومت اور مذہبی جماعت دونوں کو ہی قصوروار ٹھہراتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اب جو بدحالی ان کا کاروبار بند ہونے سے آئی ہے، اس کو جانے میں وقت لگے گا۔

واضخ رہے کہ راولپنڈی اور اسلام آباد کے سنگم پر واقع فیض آباد کے علاقے میں گذشتہ بائیس دن سے موجود مذہبی جماعت تحریک لبیک یا رسول اللہ اور سنی تحریک سے تعلق رکھنے والے مظاہرین اور حکومت کے درمیان آج پاکستانی فوج کی ثالثی میں چھ نکاتی معاہدہ طے پایا ہے۔

خیال رہے کہ دھرنا دینے والی جماعت کا موقف تھا کہ انتخابی اصلاحات کے بل میں حلف نامے میں ترمیم ختم نبوت کے منافی تھی۔ وزیر قانون کے استعفے، تیس دن میں تحقیقاتی رپورٹ منظر عام پر لانے اور اپنے کارکنوں کی رہائی اور مقدمات کے خاتمے کی شرائط پر اب یہ دھرنا ختم ہو رہا ہے۔

لیکن ان دھرنوں کے ذریعے حکومت اور ریاست کی رِٹ چیلنج کرنے کے حوالے سے کئی سوال بھی جنم لے رہے ہیں۔

تجزیہ کار زاہد حسین کا خیال ہے کہ دھرنوں کے ذریعے مطالبات منوانے اور حکومت پر دباؤ کا یہ بڑھتا ہوا رحجان ریاست اور حکومت کے لیے اچھا شگون نہیں ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’ان کا انا اور وہ مسئلہ دوبارہ اٹھانا کسی منصوبے کے تحت ہے۔ یہ خطرناک ٹرینڈ ہے اور اس سے زیادہ سیاہ دن کی مثال شاید ہی ملک کی حالیہ تاریخ میں ملتی ہے جہاں پوری ریاست نے چند ہزار تشدد پسندوں کے رحم و کرم پر نظر آتی ہے، اور اسے گھٹنے ٹیکنے پڑے۔‘

اسی بارے میں