پشاور میں صحافیوں کی گرفتاری کے خلاف مظاہرہ

پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں تمام صحافتی تنظیموں نے قبائلی علاقے خیبر ایجنسی سے تعلق رکھنے والے صحافیوں کو سکیورٹی فورسز کی طرف سے گرفتار کیے جانے اور دوران حراست انھیں وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنانے کے واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اس کے خلاف احتجاجی مظاہرے کا انعقاد کیا۔

پشاور پریس کلب کے سامنے پیر کے روز منعقدہ اس مظاہرے میں پشاور کی تمام صحافتی تنظیموں خیبر یونین آف جرنلسٹس، پشاور پریس کلب اور فاٹا کے صحافیوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ مظاہرین نے منہ پر پٹیاں باندھ کر اس احتجاج میں حصہ لیا۔

مظاہرین نے اس موقعے پر پلے کارڈز اور بینرز اٹھا رکھے تھے جس پر لنڈی کوتل کے صحافی خلیل جبران آفریدی اور لنڈی کوتل پریس کلب کے آفس بوائے حسن علی کی فوری رہائی کے مطالبات درج تھے۔

صحافی کی ہلاکت پر ایچ آر سی پی کی مذمت

’صحافی سیلف سینسرشپ پر مجبور‘

’جب صحافی ریاستی اداروں کی زبان بولنے لگیں‘

مظاہرین نے اس موقعے پر حکومت کے خلاف شدید نعرے بھی لگائے اور مطالبہ کیا کہ صحافیوں کی گرفتاری کی نہ صرف اعلیٰ سطح پر تحقیقات کی جائے بلکہ تشدد میں ملوث اہلکاروں کے خلاف سخت قانونی کاروائی کی جائے۔

یاد رہے کہ جمعہ کے روز خیبر ایجنسی کے علاقے لنڈی کوتل تحصیل میں خیبر رائفلز کی طرف سے خیبر ٹو کراچی نامی ایک کار ریلی کا انعقاد کیا گیا تھا جس کی کوریج کے لیے مقامی صحافیوں کو مدعو کیا گیا تھا۔ اس ریلی کی کوریج کے لیے جانے والے پانچ صحافیوں کی گاڑی میں نصب شدہ بم پایا گیا جسے بعد میں ناکارہ بنا دیا گیا تھا۔

تاہم سکیورٹی فورسز نے بعد میں تمام پانچ صحافیوں اور لنڈی کوتل پریس کے آفس بوائے حسن علی کو تفتیش کے لیے گرفتار کر لیا تھا۔ مقامی صحافیوں کے مطابق چار صحافیوں کو کئی گھنٹوں کی تفتیش کے بعد رہا کردیا گیا تاہم گاڑی کے مالک اور مقامی ٹی وی چینل سے وابستہ صحافی خلیل جبران اور پریس کلب کے آفس بوائے بدستور سکیورٹی فورسز کے تحویل میں ہیں۔

مظاہرے میں شریک انگریزی اخبار سے وابستہ خیبر ایجنسی کے ایک سنئیر صحافی ابراہیم شنواری نے کہا کہ بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ ابھی تک مقتدر حکومتی اداروں کی طرف سے ان کو صحافیوں کی گرفتاری کی کوئی وجہ نہیں بتائی گئی ہے۔

انھوں نے کہا کہ جن حکومتی اداروں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ صحافیوں کو تحفظ فراہم کریں وہی ادارے اخبار نویسوں کے خلاف تشدد میں ملوث ہیں۔ ان کے مطابق گرفتار اور رہا ہونے والے صحافیوں کو بدترین اور وحشیانہ شدد کا نشانہ بنایا گیا ہے جس کی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی۔ انھوں نے کہا کہ وہ خود رہا ہونے والے ایک صحافی ساجد میاں سے مل کر آئے ہیں جن پر اتنا تشدد کیا گیا کہ انھیں ہپستال میں داخل کرنا پڑا ہے۔

ابراہیم شنواری کے مطابق رہا ہونے والے صحافیوں کو سکیورٹی فورسز کی طرف سے یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ان کی فہرست پر کچھ اور صحافی بھی ہیں جنھیں وقت آنے پر سبق سکھایا جائے گا۔

انھوں نے کہا کہ اس واقعے کے بعد خیبر ایجنسی کے تمام صحافیوں میں انتہائی تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے اور انھیں پہلے بھی آزادانہ طورپر کام کرنے کی اجازت نہیں تھی اور حالیہ واقعے کے بعد تو لگ رہا ہے کہ صحافیوں کا گھر سے نکلنا بھی محال ہوجائے گا۔

اس واقعے کے بعد رہا ہونے والے خیبر ایجنسی کے نوجوان صحافی مہراب شاہ آفریدی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ دوران حراست انھیں سکیورٹی اداروں کی طرف سے کئی گھنٹوں تک ذہنی تشدد کا نشانہ بنایا۔

انھوں نے کہا کہ تمام صحافیوں کے آنکھوں پر پٹیاں باندھ کر ان سے کئی گھنٹوں تک پوچھ گچھ کی گئی اور یہاں تک کہ انھیں پیشاب کرنے اور نماز ادا کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔

ادھر ملک کی تمام صحافتی تنظیموں نے قبائلی صحافیوں کو حراست میں لینے اور انھیں تشدد کا نشانہ بنانے کی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔

پاکستان میں صحافیوں کی حقوق کےلیے سرگرم تنظیم فریڈم نیٹ ورک نے گرفتار صحافی خلیل جبران اور آفس بوائے پر تشدد کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے اور اس واقعے کی اعلیٰ سطح پر تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

اسی بارے میں