نواز شریف: ۔۔۔جج صاحب نے کمرۂ عدالت میں بات کرنے سے منع کیا ہے

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, شہزاد ملک
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کے خلاف منگل کے روز احتساب عدالت میں دو ریفرنسوں کی سماعت تھی جس میں العزیزیہ مل اور فلیگ شپ انوسٹمنٹ کے ریفرنس شامل ہیں۔ اس دوران ان کی بیٹی مریم نواز اور داماد کیپٹن ریٹائرڈ محمد صفدر محض سابق وزیر اعظم کا ساتھ دینے کے لیے کمرہ عدالت میں موجود تھے۔
مریم نواز اور ان کے شوہر لندن میں ایون فیلڈ پراپرٹیز میں نامزد ملزم ہیں۔
میاں نواز شریف کے چہرے پر اتنی زیادہ سنجیدگی پہلے کبھی نہیں دیکھی جتنی آج تھی۔ شاید اس کی وجہ فیض آباد پر دھرنے کی وجہ سے ان کی حکومت کی پسپائی اور اس کے نتیجے میں وفاقی وزیر قانون زاہد حامد کا مستعفی ہونا تھا۔
سماعت ابھی شروع نہیں ہوئی تھی کہ کمرہ عدالت میں موجود صحافییوں نے مریم نواز سے دھرنے کے بارے میں کل اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کے بارے میں کمنٹس لینا چاہے تو اُنھوں نے اپنے والد نواز شریف کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ 'ان کی موجودگی میں میں کیسے بات کر سکتی ہوں۔'
یہ بھی پڑھیں
اس جواب کے بعد صحافی نواز شریف کی طرف متوجہ ہوئے اور ان پر بھی یہی سوال داغا جس پر نواز شریف کے چہرے کا رنگ بدلا اور صحافیوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ 'ہر بات کا کوئی وقت ہوتا ہے اور ویسے بھی جج صاحب نے کمرۂ عدالت میں بات کرنے سے منع کیا ہے۔'
سابق وزیر اعظم کا کورا سا جواب سن کر کمرہ عدالت میں موجود صحافی اپنا سا منہ لے کر رہ گئے اور پھر کسی صحافی نے دوبارہ سوال کرنے کی جسارت نہیں کی۔
کمرۂ عدالت میں نواز شریف کو ایک فہرست بھی دی گئی جس پر وہ نشان لگا رہے تھے۔ اس پر ایک صحافی نے یہ فہرست دیکھنے کی کوشش کی تو وہاں موجود سینیٹر پرویز رشید نے کہا کہ ’یہ ہمارا اپنا معاملہ ہے عدالت سے متعلقہ نہیں ہے‘۔
نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث کی سپریم کورٹ میں مصروفیت کی وجہ سے نواز شریف کے خلاف ریفرنس کی سماعت چار دسمبر تک ملتوی کر دی گئی۔

کمرۂ عدالت سے نکلنے کے بعد بھی نہ تو نواز شریف اور نہ ہی ان کی بیٹی مریم نواز نے صحافیوں سے گفتگو کی البتہ مریم نواز کے شوہر کیپٹن ریٹائرڈ محمد صفدر آج کافی خوش دکھائی دے رہے تھے شاید اس کی وجہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس شوکت عزیز صدیقی کا وہ تبصرہ تھا جو اُنھوں نے فیض آباد دھرنے میں ثالثی کا کردار ادا کرنے پر فوج کی اعلیٰ قیادت کے بارے میں کیا تھا۔
اُنھوں نے اس آڈیو کا بھی ذکر کیا جس میں کوئی شخص کسی جنید نامی شخص سے بات کرتے ہوئے صفدر کا نام لے رہا ہے۔
نواز شریف کے داماد کے بقول انھیں معلوم نہیں کہ اس آڈیو میں کون سے صفدر کی بات کی جارہی ہے، لیکن وہ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن سے اس کی تحقیقات کروائیں گے۔ اُنھوں نے دعوی کیا کہ 'میں بُرے کو اس کے گھر تک چھوڑ کر آؤں گا۔'
پیر کے روز فیض آباد دھرنے سے متعلق اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے خفیہ ادارے آئی ایس آئی کے سیکٹر کمانڈر بریگیڈیئر عرفان شکیل سے اس آڈیو کے بارے میں استفسار کیا تھا کہ کون شخص جنید نامی شخص سے اس دھرنے کے بارے میں گفتگو کر رہا ہے۔
یاد رہے کہ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی اس آڈیو میں کہا گیا ہے کہ صفدر کی دھرنے والوں سے دو تین بار بات ہوئی تھی جس میں انھوں نے کہا تھا کہ وہ اسلام آباد آ جائیں اور ان کا جتنا بھی خرچ ہو گا وہ ہم انھیں دیں گے۔ دھرنے والوں نے دو دن پہلے حکومت کو 50 کروڑ روپے خرچ کا بل پیش کیا لیکن حکومت نے کہا ہم آپ کو صرف پونے پانچ کروڑ دے سکتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images






