پاکستان میں گھریلو تشدد کی پردہ پوشی کیوں؟

احتجاجی خواتین تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption عورتوں کے ساتھ ہونے والی بہت سی زیادتیوں کی طرح گھریلو تشدد بھی ایک طرح کا کلنک کا ٹیکہ ہے جسے دوسروں سے چھپا کر رکھا جاتا ہے

اقوام متحدہ کے زیر اہتمام دنیا بھر میں خواتین پر گھریلو تشدد کے خاتمے کی مہم جاری ہے جس کا مقصد اس جرم کے خلاف بیداری پیدا کرنا ہے ۔ اس موقع پر بی بی سی اردو سروس ایسی عورتوں کی کہانیاں شائع کرنے کا سلسلہ شروع کر رہا ہے جو مختلف طریقوں سے عورتوں کو با اختیار اور طاقت ور بنا رہی ہیں۔ یہ کہانیاں ہر ہفتے ان صفحات پر شائع کی جائیں گی۔ اس کے علاوہ بی بی سی اردو کے یو ٹیوب چینل، ریڈیو اور آج ٹی وی پر شام سات بجے یہ پروگرام دیکھے جا سکیں گے۔

اپنوں کے ہاتھوں اپنے ہی گھر میں تشدد کا نشانہ بننا بدقسمتی سے پاکستانی خواتین کے لیے اجنبی تصور نہیں ہے۔

گھریلو تشدد کو چند برس پہلے تک تو پاکستان میں جرم سمجھا ہی نہیں جاتا تھا۔ خیبر پختونخوا کے علاوہ باقی صوبوں میں قانون سازی کے بعد یہ عمل اب قانون کی نظر میں جرم تو بن گیا ہے لیکن معاشرے کے ایک بڑے طبقے میں اسے اب بھی معمول کی بات ہی سمجھا جاتا ہے۔

اسی لیے پشاور کے مضافاتی علاقے ارمڑ کی 16 سالہ رضیہ بی بی جب شوہر اور ساس کے مبینہ تشدد سے تنگ آ کر اپنے میکے آئیں تو ان کی ماں نے انھیں سمجھا بجھا کر شوہر کے گھر واپس بھیج دیا کہ شادی شدہ زندگی میں ایسا ہو جاتا ہے۔ یہ عمل جب کئی بار دہرایا گیا اور ہر بار ماں کے کہنے پر گھر لوٹنے والی رضیہ بی بی پر پہلے سے زیادہ تشدد کیا گیا اور جب یہ تشدد اسے شادی شدہ زندگی کا حصہ لگنے لگا تو رضیہ نے اپنی زندگی ہی ختم کرنے کا فیصلہ کر لیا۔

رضیہ بی بی کی خودکشی کی کوشش اور ’معمول’ کی شادی شدہ زندگی دونوں ناکام ہو چکی ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

انڈیا میں ’سیکس سے انکار پر خاوند نے بیوی کو مار ڈالا‘

’ہم نے شریعت کی حدود کے اندر رہ کر بل تیار کیا ہے‘

خواتین کی داد رسی کا پہلا امتحان

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ پاکستان میں ہر دوسری خاتون اپنی زندگی میں کبھی نہ کبھی گھریلو تشدد کا شکار رہی ہے (فائل فوٹو)

عورتوں کے ساتھ ہونے والی بہت سی زیادتیوں کی طرح گھریلو تشدد بھی ایک طرح کا عزت کا مسئلہ بنا لیا گیا ہے جسے دوسروں سے چھپا کر رکھا جاتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ گھریلو تشدد یا رشتہ داروں کے ہاتھوں تشدد کا نشانہ بننے کے بیشتر واقعات منظر عام پر ہی نہیں آتے۔ عورت فاؤنڈیشن نامی خواتین کے حقوق کی تنظیم کی عہدیدار صائمہ منیر کے بقول گھریلو تشدد کو روکنے میں سب سے بڑی رکاوٹ یہی پردہ پوشی ہے۔

’پاکستان میں یہ ظلم بہت عام ہے لیکن اس پر آواز نہیں اٹھائی جاتی۔ بیشتر خواتین اسے معمول کی بات سمجھ کر خاموش ہو جاتی ہیں یوں یہ تشدد بڑھتا چلا جاتا ہے۔‘

اس خاموشی اور پردہ پوشی کی وجہ اس جرم کے بارے میں درست اعداد و شمار دستیاب نہیں ہیں۔ صائمہ منیر کے مطابق تشدد کا شکار خواتین اس جرم کو پولیس میں رپورٹ نہیں کرتیں اس لیے اس جرم کے بارے میں درست اعداد و شمار دستیاب نہیں ہیں۔

اس سب کے باوجود گھریلو تشدد کے بارے میں بعض تنظیموں کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ پاکستان میں ہر دوسری خاتون اپنی زندگی میں کبھی نہ کبھی گھریلو تشدد کا شکار رہی ہے۔

آغا خان فاؤنڈیشن کی گذشتہ برس ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق اس تشدد کی وجہ سے بیشتر خواتین جسمانی اور نفسیاتی پیچیدگیوں کا شکار ہو جاتی ہیں۔

اس تاریکی میں امید کی کرنیں بھی موجود ہیں۔ یہ وہ خواتین ہیں جو پاکستانی معاشرے میں مختلف طرح کے ظلم اور زیادتی کی شکار خواتین کو بااختیار بنا رہی ہیں۔

اسی بارے میں