شاہ زیب قتل کیس میں دہشت گردی کی دفعات ختم

شاہ رخ جتوئی تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption شاہ رخ جتوئی کو دبئی سے گرفتار کیا گیا تھا (فائل فوٹو)

سندھ ہائی کورٹ نے شاہ زیب خان قتل کیس کے مرکزی ملزم شاہ رخ جتوئی سمیت چار ملزمان کی سزائے موت کو معطل کردیا ہے اور ماتحت عدالت کو مقدمے کی دوبارہ سماعت کی ہدایت کی ہے۔

نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق سندھ ہائی کورٹ کی ڈویژنل بینچ نے سیشن کورٹ کو یہ بھی ہدایت کی ہے کہ اس بات کا جائزہ لیا جائے کہ یہ فساد فی الارض کے زمرے میں آتا ہے کہ نہیں۔

کراچی میں انسداد دہشت گردی کی عدالت نے شاہ زیب خان قتل کیس میں شاہ رخ جتوئی اور نواب سراج کو سزائے موت جبکہ دو ملزمان کو عمر قید کی سزا سنائی تھی۔

شاہ زیب کیس: 'انسدادِ دہشتگری کی دفعات خارج نہیں ہو سکتیں'

شاہ زیب قتل: شاہ رخ ریمانڈ پر پولیس تحویل میں

شاہ رخ نے انسداد دہشت گردی کی عدالت کے فیصلے کے خلاف سندھ ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی تھی، منگل کو دو رکنی بینچ کے روبرو وکلا نے اپنے دلائل مکمل کرلیے۔

شاہ رخ جتوئی اور دیگر ملزمان کے وکیل رشید رضوی نے اپنے دلائل میں عدالت کو آگاہ کیا کہ نوجوان شاہ زیب کو قتل کرنے کا سبب ذاتی رنجش تھا جو انسداد دہشت گردی ایکٹ کے زمرے میں نہیں آتا، قتل کے وقت ملزم کی عمر 17 سے 18 سال تھی اس کے باوجود ان کے خلاف انسداد دہشت گردی کی عدالت میں مقدمہ چلا کر سزا دی گئی جبکہ یہ مقدمہ جونائیل ایکٹ کے تحت سیشن کورٹ میں چلانا تھا۔

پراسیکیوٹر جنرل سندھ شہدت اعوان کا کہنا تھا کہ مقدمے کا فریادی مقدمے کی پیروی کرنا نہیں چاہتا لیکن اس کے باوجود بھی مقدمے میں شامل دہشت گردی کی دفعات کا فیصلہ ہونا چاہیے۔

عدالت نے ملزمان کی سزا کو کالعدم قرار دے کر مقدمے کی سیشن کورٹ میں سماعت کرنے کا حکم جاری کیا اور انسداد دہشت گردی ایکٹ کی دفعات خارج کردیں۔

کراچی میں ڈیفنس میں 2012 میں ایک نوجوان شاہ زیب خان فائرنگ میں ہلاک ہوگئے تھے، ایف آئی آر کے مطابق بڑی بہن کے ولیمے سے واپسی پر فلیٹ کے نیچے شاہ زیب خان کی بہن سے مرتضیٰ لاشاری نے بدتمیزی کی جس کے بعد دونوں فریقین میں تلخ کلامی ہوئی اور فائرنگ کے نتیجے میں شاہ زیب خان مارا گیا۔ مقدمے میں شاہ رخ جتوئی، اس کے دوست نواب سراج تالپور، سجاد تالپور اور ان کے ملازم مرتضیٰ لاشاری کو نامزد کیا گیا تھا۔

ملزمان کی گرفتاری کے عمل میں نہ آنے کے بعد کراچی کے سماجی کارکنان کی جانب سے سوشل میڈیا پر ’جسٹس فار شاہ زیب خان‘کے نام سے مہم چلائی گئی جبکہ اس وقت کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے بھی اس کا ازخود نوٹس لیا تھا، جس کی وجہ سے یہ مقدمہ ہائی پروفائل بن گیا۔

افتخار محمد چوہدری کی وراننگ کے بعد مفرور شاہ رخ خان کو دبئی، نواب سراج تالپور کو نوشہرفیروز اور دیگر ملزمان کو سندھ کے دیگر علاقوں سے گرفتار کیا گیا تھا۔

انسداد دہشت گردی کی عدالت میں سماعت کے دوران مقتول شاہ زیب خان کے والد ڈی ایس پی اورنگزیب خان اور والدہ عنبرین اورنگزیب نے عدالت میں ایک حلف نامہ پیش کیا تھا، جس میں انھوں نے ملزمان کو معاف کرنے کی آگاہی دی تھی۔ تاہم مقدمے میں انسداد دہشت گردی کی دفعات شامل ہونے کی وجہ سے ملزمان کو معافی نہیں مل سکی۔

قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ انسداد دہشت گردی کی دفعات کے خاتمے کے بعد یہ جرم اب قابل معافی بن گیا ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں