پاکستان کے شہری لوگوں کے مرنے کے عادی ہوگئے ہیں: فلم ساز جامی

تصویر کے کاپی رائٹ FACEBOOK ACCOUNT
Image caption جامی پاکستان کے مشہور فلم ساز ہیں

پاکستان کے نامور فلم ساز جمشید محمد رضا المعروف جامی نے فیض آباد دھرنے اور اس کے بعد فوج اور حکومت کی جانب سے مذاکرات پر بطور احتجاج اپنے خاندان کو بیرون ملک منتقل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں جامی نے لکھا ہے کہ ’پاکستان کی خاطر امریکہ چھوڑا، سینما کو 20 سال دیے جب یہاں کچھ نہیں تھا، بہت انتظار کیا لیکن اب مزید نہیں، فوج، حکومت اور عمران خان یہ سب شامل ہیں، ہم سب کو برباد کرنے میں۔ میرے بچے یہ افراتفری نہیں دیکھیں گے۔ اندھیر نگری کی انتہا ہوگئی اور زندگی برباد ہوگئی‘۔

جامی نے بی بی سی اردو سے خصوصی بات چیت کرتے ہوئے بتایا ’میں 1979 سے یہ چیزیں دیکھ رہا ہوں، جنرل ضیا الحق آئے پھر ان کا اسلام، ہم برداشت کرتے رہے کیونکہ ہم عمر میں چھوٹے تھے اس کے بعد پاکستان میں جو کچھ ہوا اس کی پوری دنیا ہی گواہ ہے، لیکن اب جو ہوا، جس طرح فوج نے حکومت سے مل کر دھرنا ختم کیا، یہ تو بلکل دل ٹوٹنے والی بات ہے، کہنے کو تو آرمی مائی باپ ہے لیکن وہ مائی باپ ہی ڈر کر بیٹھ گئے‘۔

یہ بھی پڑھیے

اسلام آباد دھرنا کے روح و راوں خادم حسین کون ہیں ؟

’جنرل باجوہ سے پوچھ لینا چاہیے تھا کہ بتائیں کیا کریں‘

تصاویر: دھرنے کے خلاف آپریشن اور جھڑپیں

فیض آباد پر ناکہ نہیں ہانکہ لگا ہوا ہے

جامی کا کہنا ہے کہ یہاں پر ہزارہ کمیونٹی کے لوگ مر رہے ہیں، چن چن کر مسیحی برادری کے لوگوں کو مارا جارہا ہے، انسانوں کے مرنے کی کوئی حد ہوتی ہے، اب یہ دوسری انتہا ہے کہ آپ نے انھیں لائسنس دے دیا کہ آرمی بھی ان کا کچھ نہیں کرسکتی۔

’بات کہاں جا رہی ہے دل میں ایک شک بیٹھ گیا ہے کہ یہ تو اب کسی کے کنٹرول میں نہیں ہیں، یہ تو کسی وقت بھی پورے ملک کو بند کرسکتے ہیں‘۔

جامی کا کہنا ہے کہ ’صورتحال اس نوعیت کی ہے کہ جس سے مذہبی شدت پسند پوری قوم کو ہائی جیک کرسکتے ہیں، ہمارے بچے بھی وہی دیکھیں گے جو ہم دیکھتے آئے ہیں، یہ تو نا امیدی اور حوصلہ شکنی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ FACEBOOK
Image caption جامی نے امریکہ میں تعلیم حاصل کی

’میں یہاں ہی رہوں گا، ہم منصوبہ بندی کر رہے ہیں کہ بچوں کو یہاں سے نکال دیں، ایک ایسا ملک ہو جہاں بچہ گھر سے باہر نکل کر گھوم تو سکے۔ یہاں تو یہ ہے کہ کوئی محافظ رکھو، تاہم بچوں کو امریکہ کسی صورت میں نہیں بھیج رہا کیونکہ ان تمام چکروں میں ان کا بھی بڑا ہاتھ ہے‘۔

جامی نے فلم سازی کی تربیت امریکہ سے حاصل کی۔ انھوں نے بلوچستان پر فلم ’مور‘ بنائی۔ اس کے علاوہ سٹرنگز کا مشہور گیت ’میں تو دیکھوں گا، کچھ خود کرنا ہوگا‘ کی ہدایت کاری کی۔ ان کا کہنا ہے کہ انھوں نے یہ سب کچھ اپنے پیسے لگا کر کیا۔

’یقینًا درد سے آرٹ نکلتا ہے لیکن درد اتنا بھی نہ ہو کہ وہ آرٹ ہی ختم ہو جائے، ایک امید بھی ہونی چاہیے۔ یہاں تو سب سے پہلے یو ٹیوب، فیس بک اور ٹوئٹر کو بند کرنے کی بات کی جاتی ہے، لیکن مولانا عبدالعزیز کو بند کرنے کی بات نہیں کرسکتے، آرٹ میں بھی ایک بیلنس رکھنا پڑتا ہے، اگر آپ تھوڑا زیادہ دکھائیں گے تو نامعلوم نمبر سے کال آ جائے گی‘۔

تصویر کے کاپی رائٹ FACEBOOK
Image caption جمشید محمد رضا ایک کامیاب فلم ساز ہیں جو حالات سے دلبرداشتہ ہو کر اپنے بچوں کو ملک سے باہر بھیجنا چاہتے ہیں

جامی کا کہنا ہے کہ ’پاکستان کے شہری لوگوں کے مرنے کے عادی ہوگئے ہیں۔ ہزارہ دھرنے دیتے ہیں لاشیں سامنے پڑی ہوتی ہیں۔ ہر مہینے وہ مارے جاتے ہیں۔ آرمی پبلک سکول میں دو سو بچے مار دیے سب بھول گئے، دو ہفتوں کے بعد سارے بیٹھ کر کافی پی رہے تھے۔ یہ تو ایک قوم ہی الگ قسم کی بن گئی، نہ کھڑے ہوتے ہیں نہ باہر نکلتے ہیں، بس روتے رہتے ہیں‘۔

جامی کا کہنا ہے کہ وہ کوئی بڑے ترم خان نہیں ہیں، فیض احمد فیض نہیں کہ لڑتے رہیں۔

’اپنے دوستوں کو کہیں کہ احتجاج میں آجاؤ کوئی نہیں آتا۔ فیس بک پر بیٹھے رہتے ہیں، یہ تو ساری خاموش اکثریت ہے جو نہ کچھ کرنا چاہتے ہیں اور نہ ہی کچھ کرتے ہیں۔ میرا فیصلہ بطور احتجاج ہے کہ ایسا نہیں ہونا چاہیے، ایسا نہیں چلے گا‘۔

اسی بارے میں